اردو میں آگاہی

اردو ہے جس کا نام

Some Etiquettes to Continue Education

جاوید اختر۔ الٰہ آباد یونیورسٹی

اس کرۂ ارض پر حیات ِ انسانی کا آغاز جہالت اور تاریکی میں نہیں بلکہ علم کی روشنی میں ہوا تھا اور

عَلّم آدم الأ سما ء کلّھا

اور اللُہ نے اأدم كو تمام چیزوں کے نام سکھادیے

جیسی ربانی ہدایات کی روشنی میں انسانی زندگی کا یہ سفر جاری رہا حتیٰ کہ سب سے آخر میں ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

إقرأباسم ربک

پڑھو اپنے رب کے نام سے

کا پیغام لیکر آئے، آپ نے اپنے رب کے آخری پیغام کودنیا کے سامنے پیش کیا تو ہر چہار سو ایک انقلاب برپا ہوگیا، جہالت کی تاریکیاں چھٹ گئیں، نورِ ہدایت کی نئی صبح نمودار ہوئی جس کے فیضان سے پورا عالم منور ہوگیا۔
آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن جملہ علوم وفنون کے لئے ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے اس کتاب کے معانی ومفاہیم میں غواصی کرنے والے جویانِ علم و حکمت ہر زمانے میں قدیم و جدید علوم کے جوہر سے آشنا ہوتے رہے ہیں، قرآن میں جہاں سیکڑوں علوم و فنون اور ان کے مختلف گوشوں کی طرف اشارہ ملتا ہے وہیں کچھ ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جو آدابِ اکتسابِ علم اور اصولِ تعلیم و تعلّم کی طرف تفصیلی رہنمائی کرتے ہیں نیز علم اور علم سے مشتق سیکڑوں الفاظ تعلیم کی اہمیت اور اس کی ضرورت کی طرف اشارہ کر تے ہیں۔
اس کتاب میں اللہ تعالی نے مختلف بری اور بحری سفرناموں کا تذکرہ کیا ہے جس میں ہر صاحبِ بصیرت کے لئے عبرت و موعظت کا سامان تو ہے ہی ساتھ ہی ان میں بہت سے ایسے سفرنامے بھی ملتے ہیں جو خصوصی طور پر تعلیم و تعلم اور اس کے اصول و مبادی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔
تعلیم قوم وملت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی کے لئے یہ ایک ایسی شاہ کلید ہےجس پر سرخ روئی اور سربلندی کے سارے ہی راستوں کا دار ومدار وانحصار ہے لہذا اس ناحیے سے قرآن کے سفرناموں کا مطالعہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے، قرآن کے پندرہویں و سولہویں پارے سورۂ کہف کے وسط میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک سفر نامے کا تفصیلی ذکر ہے جس میں تعلیم و تعلم سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے بڑی کار آمد ہدایات مضمر ہیں، ان آیات سے تعلیم و تعلم اور اکتسابِ علم کے آداب پرتفصیلی روشنی پڑتی ہے۔
انسان علم و معرفت کے سمندر میں کتنا ہی غواصی کر لے کبھی بھی آسودہ نہیں ہو سکتا، علم کی تشنگی اور طلب مزید باقی رہتی ہے، سفرنامۂ موسیٰ علیہ السلام اس کی ایک بہترین مثال ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے علمِ نبوت سے نوازا تھا جس سے اعلیٰ و ارفع علم ہو ہی نہیں سکتا پھر بھی آپ کی آرزو تھی کہ مزید علم کے چشمے سے سیرابی حاصل کرتے رہیں، چنانچہ تفسیر طبری میں عبداللہ ابنِ عباسؓ سے منقول ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ جواب ملا 

الذي یبتغي علم الناس الی علم نفسہ علیٰ ان یصیب کلمۃ تھدیہ الی الھدیٰ او تردوہ عن ردی  (۱)

یعنی وہ جو عالم ہونے کے باوجود علم کی تلاش میں سرگرداں رہے اور ہر ایک سے سیکھنے کی کوشش کرے ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے یا کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہی ہاتھ لگ جائے

موسیٰ ؑ نے پھر دریافت فرمایا اس سر زمین پر تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے؟ جواب ملا ہاں میرا ایک بندہ ہے اور وہ ہے خضر، چنانچہ حضرت موسیٰ ؑنے اللہ تعالیٰ سے خضر ؑ کا مقام و سراغ دریافت کیا اور شوقِ ملاقات سے معمور ہو کر تلاش کے لئے نکل کھڑے ہوئے،بالآخر منزلِ مقصود کو پہونچے، اور خضر ؑ سے دوخواست کی درخواست کے الفاظ یوں تھے

ھل اتبعک علیٰ ان تعلمن مما علمت رشداً  (۲)

کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں یا آپ کے پیچھے پیچھے چل سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے اس علم و دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے،

”May I follow you for the purpose that you teach me of what you have been taught [ in the way ] of Guidance ” (3)

موسیٰؑ کے اس اندازِ تخاطب میں احترامِ استاذ نیز استاذ کے ساتھ حسنِ ادب و اخلاق کا اعلیٰ نمونہ موجودہے، اس ایک آیت کے ضمن میں امام فخرالدین رازی نے تفسیرِکبیر کے اندر اکتسابِ علم کے بارہ آداب Etiquettes کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے جو درج ذیل ہیں:

(1) معلم بحیثیت قائد و رہبر

(Learning & Leadership)
معلم کی حیثیت ایک ایسے قائد و رہنما کی ہوا کرتی ہے جو اپنے پیرو کاروں کے اندر جوش و امنگ اور کچھ کر دکھانے کی تحریک پیدا کرتے ہیں، ایک شاگرد اپنے استاذ کا پیروکار ہوتا ہے جو اپنے استاذ کے نقشِ قدم پر چلنے کا عہد کرتا ہے، امام فخرالدین رازی فرماتے ہیں

انہوں نے خود کو ان کا تابع بنالیا تھا اور عرض کیا کہ کیا میں آپ کی پیروی کر سکتا ہوں (۴)

حضرت موسیٰ ؑ اگرچہ مقام و مرتبے کے لحاظ سے حضرت خضر ؑ سے اعلیٰ تھے لیکن انہونے ان سے کسبِ علم کے لئے دور دراز کا سفر کیااور ان کی پیروی کرکے انہیں اپنا قائد و رہنما تسلیم کیا اور ہمیں یہ تعلیم دی کہ استاذ کا مرتبہ ہر حال میں بلند ہوتا ہے،ایسا ممکن ہے کہ استاذ علم میں شاگرد سے کچھ کم ہو لیکن اگر کسی کے پاس کوئی خاص علم ہو تو اس سے استفادہ کرنے میں کوئی جھھجک یا عار نہیں محسوس ہونی چاہیئے کیوں کہ علم و حکمت کو مومن کی گمشدہ میراث بتایا گیا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے

الحکمۃ ضالّۃ المؤمن فحیث وجدھا احق بھا (۵)

حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لینی چاہیئے،

(2) کسب ِ علم کے لئے معلم سے اجازت

(Permission and Authorization)
حصولِ علم کے مقصد سے استاذ کی معیت و مصاحبت اختیا ر کرنے کے لئے اس کی اجازت لینا ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے اور ایک اہم اصول بھی، حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضرؑ سے باادب عرض کیا

کیاآپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں آپ کے پیچھے پیچھے چل سکوں (۶)

حضرت موسیٰ ؑ کایہ عمل ان کی عاجزی و انکساری اور اپنے استاذ کے تئیں عقیدت و احترام کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

(3) حصولِ علم کے لئے حاجتمندی کا اعتراف

(Confession of Need)
کسی استاذ سے اپنی تعلیم جاری رکھنے سے پہلے شاگرد کے اندر اس بات کا احساس ہونا ضروری ہے کہ وہ سیکھنے کا محتاج ہے، اس کے اندر علم کی تشنگی ہو، حصولِ علم کی تڑپ ہو، اس احساس کے بغیر دلچسپی اور یکسوئی کے ساتھ حصولِ علم ممکن نہیں، خود حضرت موسیٰ ؑ نے بھی حضرت خضر ؑ کے سامنے اس کا اعتراف کیا کہ انہیں سیکھنے کی حاجت ہے، لہٰذا آدمی کسی سے سیکھنے اور حاصل کرنے میں شرم و حیا نہ کرے بلکہ اپنی کم علمی کا اعتراف کر کے دوسروں سے سیکھنے کی کوشش کرے، اسی کے اعتراف کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے

ربِّ زدني علماً (۷)

میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما
اپنی کم علمی و کم مایگی کے اعتراف کے بعد ہی انسان کے اندر کچھ سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

(4) عاجزی و انکساری

(Humility and Appreciation)
عاجزی و فروتنی ایک ایسی صفت ہے جو حصولِ علم کی راہ میں بہت ہی معاون ہے،ہمارے اسلاف اس صفت سے مکمل طور پر متصف ہوا کرتے تھے،حضرت عبد اللہ نم عباس ؓ فرماتے ہیں

میں نے طلبِ علم کے وقت عاجزی اور فروتنی اختیار کی، اور جب مجھ سے علم طلب کیا جانے لگا تو میں معزز بن گیا (۸)

مام فخرالدین رازی ؒ فرماتے ہیں

حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر ؑ سے عاجزانہ درخواست کی ”تعلّمني مما علّمت“ کہ آپ اپنے علم کا کچھ حصہ ہمیں سکھا دیں، گویاکہ آپ نے یہ عرض کیا کہ میں آپ سے اس بات کا مطالبہ نہیں کر رہاہوں کہ اللہ نے آپ کو جو علمی فیضان عطا کیا ہے اس میں آپ مجھے اپنا ہمسر وہم پلہ بنالیں بلکہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنے علم کا کچھ حصہ عطا کردیجیئے۔“ (۹)

یہ ایک عاجزانہ انداز ہے، طلبِ علم کے لئے عاجزی انکساری و فروتنی زیادہ موزوں اور مناسب چیز ہے، اور طالبِ علم کا زیور بھی ہے، حضرت موسیٰ ؑ جب حضرت خضرؑ کے پاس پہونچے تو ان سے علم سکھانے کے لئے اسی طالبعلمانہ شان و انداز کے ساتھ گفتگو کی نہ ہی کوئی مطالبہ رکھا اور نہ ہی کوئی استحقاق جتایا۔

(5)اصل سرچشمۂ علم کی معرفت

(Recognizing the Origin of Knowledge)
ایک طالبِ علم کے ذہن میں سدا یہ بات مستحضر رہنی چاہیئے کہ اصل سرچشمہئ علم و معرفت صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے، وہی ہے جس نے جملہ علوم و فنون انسانی ذہنوں میں ودیعت کر رکھے ہیں، یہ جملہ بنی نوعِ آدم پر اس کا فیضان خصوصی ہے،یہ ایک ایسا ٖ فیضان ہے جس کا اعتراف فرشتوں نے بھی کیا تھا

سبحانک لاعلم لنا الا ما علّمتناانک انت العلیم الخبیر (۰۱)

تو پاک ہے،ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تونے ہمیں سکھایا ہے، بے شک تو بڑے علم والا اور حکمت والاہے۔

 قرآن میں کئی مقامات پر حصولِ علم کے لئے اللہ کی معرفت کو مستلزم قرار دیا گیا ہے اور اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ حقیقی علم کے حصول کے لئے رب تعالیٰ کی معرفت ضروری ہے، چنانچہ ارشاد ہے

فاتقوااللہ و یعلّمکم اللہ (۱۱)

اللہ کے لئے تقویٰ اختیار کرو، وہ تمہیں سکھائے گا 

امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں

حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ آپ مجھے اس علم میں سے کچھ سکھا دیجیئے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے، آپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اصل منبعِ علم اللہ کی ذات ہے یعنی ایسا علم حاصل کرنا چھاہیئے جس سے معرفتِ الٰہی کا حصول ہو۔ (۱۲)

معلوم ہوا کہ حقیقی علم و معرفت کاذریعہ اور سرچشمہ صرف اللہ ہی کی ذات ہے لہٰذا انسان کو علم اور توفیق کی جو بھی نعمت حاصل ہوتی ہے وہ سب کی سب اللہ کی جانب سے ہوتی ہے، اللہ کی اس نعمت کو اپنی طاقت و قوت اور صلاحیت کی طرف منسوب نہیں کرنی چاہیئے۔

(6)  تعلیم  ذریعہ  رشد  و ہدایت  ہے

(Guidance and Knowledge)
علم اللہ کا نور ہے اس کی روشنی سے ایک انساں ن کے اندر رد و یابس کے درمیان تمیز کرنے کا ملکہ پیدا ہوتاہے، علم ہی ایک ایسی قوت ہے جو ہدایت و گمراہی کے درمیان تفریق پیدا کر کے انسا کے اندر راہِ ہدایت کو اختیا رکر نے کی قوت بخشتا ہے، امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں

حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر ؑ سے حصولِ علم کی درخواست کی تو اس میں صرف تعلیم دینے کی درخواست نہیں ملتی بلکہ انہوں نے لفظ رشدا ًبھی استعمال کیا جس کا مطلب ہے راہِ راست کی طرف رہنمائی کرنے والی تعلیم۔ (۱۳)

معلوم ہوا کہ ایک انسان کا مقصود صرف حصولِ تعلیم نہیں ہونا چاہیئے بلکہ تعلیم کا جو اصل مقصد ہے اس پر نظر ہونی چاہیئے، یعنی صحیح اور غلط کی درمیان تمیز کرنے کا ملکہ پیدا ہو، تعلیم سے راہِ راست کی طرف رہنمائی حاصل ہو، تعلیم سے اگر یہ تمام مقاصد پورے ہو رہے ہیں تووہی تعلیم صحیح تعلیم ہے بصورتِ دیگر سوائے ضلالت اور گمراہی کے کچھ بھی ہاتھ آنے والا نہیں۔

(7) اصل  مصدرِ  علم  پر  اعتماد

(Receiving from the Origin through the Means)
حصولِ علم کی راہ میں اصل سرچشمۂ علم یعنی علم کے اصل ماخذ واصل مصدر پراعتماد کرنا چاہیئے کیوں کہ مستند علم انہیں ذرائع سے حاصل ہوسکتا ہے، حضرت موسیٰ ؑ نے اس اصول کی بھرپور رعایت کی، امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں

موسی علیہ السلام نے حضرت خضرؑ سے درخواست کی

ان تعلمن مما علمت رشداً

اس علم میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے، یعنی اللہ نے آپ کو علم سکھا کر آپ پر جو انعام کیا ہے اس علم مین سے ہمیں بھی کچھ سکھا دیجئے تاکہ میں بھی اسی انعام کا حقدار بن جاؤں اور آپ پر ہوئے فیضانِ الٰہی کو میں بھی محسوس کر سکوں۔ (۱۴)

(8) مطابعت و موافقت

(Compliance)
علم کے حصول کے لئے استاذ کی مطابعت اور اس کی موافقت بھی ایک ضروری امر ہے، اس سے مراد استاذ کی صحبت بھی ہے اور اس کے قول و عمل کی تابعداری اور موافقت بھی، اسی امرلئے حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضرؑ سے اجازت طلب کی تھی کہ کیا میں آپ کی تابعداری کر سکتا ہوں تاکہ آپ کے رب نے آپ کو جس علمی فیضان سے نوازہ ہے مجھے بھی سکھا سکیں،۔

مام فخرالدین رازی فرماتے ہیں
موسیٰ ؑ کا کلام کہ”کیا میں آپ کی تابعداری اور اتباع کر سکتا ہوں“ اس امر کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ آپ اپنے استاذ کے عمل کو محض اس بنیاد پر ہی قابل ِ اتباع سمجھ لیا تھا کہ یہ عمل ان کے استاذ کا عمل ہے، نیز یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اپنے استاذ کے سامنے اپنا سرِ تسلیم خم کردے اور کسی بھی قسم کے غیر ضروری اختلاف و اعتراض سے پرہیز کرے (۵۱)

حضرت موسیٰ ؑ جانتے تھے کہ حصولِ علم کے لیئے صحبت اور تابعداری انتہائی ضروری چیز ہے، چنانچہ انہوں نے خضرؑ سے صحبت اختیار کرنے کی اجازت طلب کی، صرف سوال کرنے اور جواب حاصل کر لینے سے علم تو حاصل ہوسکتا ہے لیکن پختگی نہیں آسکتی، اگر علم کے اندر پختگی بھی مطلوب ہے تو اس کے لئے استاذ کی صحبت اور کی تابعداری ضروری ہے، تاریخ میں ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ جنہوں نے استاذ کی صحبت اختیار کی اور ان کی تابعداری کی وہ زیادہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے اور جو لوگ استاذ کی صحبت سے دور رہے ناکامی و محرومی ان کا مقدر بنی۔

(9) علم کے  مطابق عمل  کا  حوصلہ

(Courage to Follow and Peactice)
امام فخرالدین رازی ؒ فرماتے ہیں:
طلبِ علم کی غرض سے حضرت موسیٰ ؑ کا طرزِ تخاطب بہر صورت حضرت خضر کی اطاعت اور عمل کے عزم و ارادے کو ظاہر کرتا ہے (۱۶)

حضرت موسیٰ ؑمکمل طور پر آمادگی ظاہر کرچکے تھے کہ وہ خضر ؑ کے ذریعے سیکھے ہوئے علم کو پوری طرح برتیں گے کیوں کہ علم اس وقت نفع بخش اور کاآمد ثابت ہوسکتا ہے جب تک کہ اس کے مطابق عمل نہ کیا جائے، جس طرح علم بغیر عمل کے فائدہ بخش نہیں اسی طرح عمل بغیر علم کے نامکمل اور ادھورا ہے، اس کی مزید وضاحت اس حدیث نبوی سے بھی ہوجاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا

إن بني إسرائیل لما ھلکوا قصوا (۱۷)

بنی اسرائیل جب علم وعمل سے غافل ہو گئے تو صرف گفتار کے غازی بن کر رہ گئے،

ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں

لما قصوا ھلکوا

یعنی جب وہ علم و عمل سے غافل ہو گئے تو ہلاک ہو گئے، (۱۸)

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل کی ہلاکت کے اصل ذمہ دار ان کے علماء اور واعظین تھے، جنہوں نے افہام و تفہیم اور علمِ نافع کی تبلیغ و اشاعت کے فریضے کو ترک کررکھا تھا جو کہ دین کو پہچان کر اس پر عمل کی ترغیب دینے کا واحد راستہ ہے اس کے بر عکس قصص و روایات اور داستان گوئی کو اپنا وطیرہ بنا رکھا تھا جو ان کے ہلاکت کا سبب ہوا۔

حصولِ علم کے بعد اس کے مطابق عمل انسانی زندگی کے بقا اور اسکے اتحکام کا ضامن ہے جبکہ ترکِ عمل نامرادی و ناکامی اور ہلاکت و بربادی کا بیش خیمہ ہے، بنی اسرائیل جب تک اس اصول پر کابند رہے ہر قسم کی فضیلت و برتری ان کا مقدر اور ہر قسم کی کامیابی و کامرانی ان کا قدم بوسی کرتی رہی لیکن جیسے ہی انہوں نے اس اصول سے صرفِ نظر کیا ہلاکت و بربادی ان کا مقدر بنی۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ حصولِ علم کے بعد اس علم کے مطابق اپنے آپ کو سنوار لیا جائے تو سعادتیں مقدر بنیں گی دنیا و آخرت ہر دو جہاں میں کامیابی دامن چومے گی۔

(10) علم اور اہلِ علم کی تعظیم

(Admiration for Knowledge and Teacher)
امام فخرالدین رازیؒ فرماتے ہیں

حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر سے بلند تر مقام رکھنے کے باوجود ان کی تعظیم و تکریم کی انہیں اپنا استاذ اور اپنا قائد تسلیم کیا،آپ کے اس عمل سے احترامِ استاذ اور احترام، علم کا سبق ملتا ہے،جس کے اندر جس قدر وسیع علم ہوگا جتنا زیادہ فیضانِ معرفت ہوگا اس کی زندگی اسی قدر سعادت و خوش بختی کا منبع ہوگی،اور ایسے علم دوست لوگوں کے دلوں میں علم اور اربابِ علم کا احترام بھی کامل درجے کا ہوگا۔ (۱۹)

(11) جذبۂ ایثار

(Willingness to give before Receiving)
امام رازی ؒ فرماتے ہیں کہ

حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر ؑکو مخاطب کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ بات کہی تھی کہ میں آپ کی تابعداری کروں گا آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا“ اس کے بعد پھر علم سیکھنے کا مطالبہ کیا تھا“ (۰۲)

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کچھ حاصل کرنے سے قبل کچھ دینے کا جذبہ ہونا چاہیئے، حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر ؑ کے ساتھ رہ کر پہلے خدمت کی پیشکش کی اس کے بعد علم دیکھنے کا مطالبہ کیا۔

(12) خلوص نیت

(Purity of Motive)
امام رازیؒ فرماتے ہیں

حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضرؑ کی متابعت کسی مادی غرض سے نہیں بلکہ خلوصِ نیت کے ساتھصرف حصولِ علم کے مقصد سے آپ کی خدمت میں تشریف لے گئے تھے اور اللہ رب العزت کے سکھائے ہوئے علم کو سکھانے کی درخواست کی (۱۲)

اس علم کے حصول سے صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضامندی مقصود تھی و مطلوب تھی۔
حصولِ علم اور اس کے اصول وآداب کے متعلق یہ بارہ رہنما اصول ہیں جنہیں امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں سورہئ کہف کی آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر کرتے ہوئے ذکر کیا ہے گویا کہ ایک طالبِ علم کے ذمہ استاذ کے یہ بارہ حقوق بتائے گئے ہیں ایک طالبِ علم کے لئے ان آداب اور اصولوں کی رعایت انتہائی ضروری ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ وخضر ؑ کاسفرنامہ ایک طالبِ علم اور استاذ کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ اس میں تعلیم و تعلم کے بہت سارے اصول و آداب کی طرف رہنمائی ملتی ہے امام رازی ؒ کے علاوہ اور کئی مفسرین اور محققین نے اس سفرنامے کی روشنی میں حصولِ علم کے اصول و آداب کی طرف اشارہ کیا ہے، کسبِ علم کے لیئے سفر ایک قدیم روایت رہی ہے علم کی تحصیل کے لئے جس نسے سفر کا عزم کیا اس نے زیادہ فیض اٹھایا اور بلند مقام حاصل کیا تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ، مثال کے طور پر امام شافعیؒ کا علمی سفرنامہ ایک سنہرے باب کی حیثیت رکھتا ہے، آج بھی وہی طالبِ علم زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو کسبِ فیض کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور ہر صاحبِ علم سے خود کو سیراب کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طرزِ عمل سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ تحصیلِ علم کے لئے کوئی عمر مخصوص نہیں بلکہ ایک طالبِ علم کے اندر ہمیشہ علم کی تڑپ ہونی چاہیئے، صرف بچپن میں حصولِ علم کی کوشش کرنا اور باقی عمر کسی سے کچھ پوچھنے یا سیکھنے میں عار اور جھجھک محسوس کرنا درست عمل نہیں ہے بلکہ ایک طالبِ علم کے لئے ضروری ہے کہ پوری عمر حصولِ علم کے لئے کوشاں رہے۔

حضرت خضر علیہ السلام کا یہ قول

انک لن تسطیع معی صبراً (۲۲)

آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے 

اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ علم کا حصول ایک مشکل امر ہے اس کے لئے ایک طالبِ علم کو صبر کی صفت سے متصف ہونا ضروری ہے، طالبِ علم محنت و مشقت کرنے کا عادی ہو، ہر مشکل کا جم کر مقابلہ کر سکتا ہو، تب کہیں جاکر وہ علمی معرکہ سر کر سکتا ہے، ایک استاذ کو چاہیئے کہ تحصیلِ علم کی راہ کے ان تقاضوں سے طلبہ کو آگاہ کرتے رہیں، تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہوکر اس میدان میں قدم رکھیں،

اس کے بعد کی آیت میں حضرت خضر ؑ نے فرمایا ”وکیف تصبر مالم تحط مہ خبراً“ (۳۲) اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر بھی کیسے کر سکتے ہیں، حضرت خضر ؑ کے اس کلام کے ذریعے ایک استاذ کو رہنمائی کی جا رہی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایک طالبِ علم اپنی کم علمی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے بے صبری کا مظاہرہ کرے، ایک استاذ کو چاہیئے کہ طلبہ کی اس فطری کمزوری کی وجہ سے پریشان نہ ہوبلکہ خوبصورتی کے ساتھ ا س کا مداوا کرے، اس کے کے اندر خود اعتمادی پیدا کرے، طلبہ کو اس راہ میں ثابت قدم رکھنے کے لئے ناقابلِ فہم امور کو حسبِ ضرورت وضاحت کے ساتھ بیان بھی کرنا چاہیئے البتہ مناسب وقت کا خیال رکھنا ضروری ہے جیسا کہ خضر ؑ نے پہلے ہی مرحلے میں سبھی حکمتیں کھول کر نہیں بتائیں لیکن جب موزوں وقت آگیا تو سب کچھ وضاحت کے ساتھ بتادیا، تاکہ ہر قسم کا اشکال دور ہوجائے اور شرح صدر حاصل ہوجائے۔
آئندہ آیت میں حضرت خضر ؑ کی طرف سے تلقینِ علم کا ایک اہم اصول بتایاجا رہا ہے چنانچہ خضرؑ فرماتے ہیں

فلا تسالنيعن شي ءٍ حتی حتی احدث لک منہ ذکراً (۴۲)

آپ مجھ سے کوئی سوال نہ کریں جب تک کہ میں خودآپ سے اس کاذکر نہ کروں۔

اس آیت سے مستنبط اہم اصول یہ ہے کہ ایک استاذ کے لئے کوئی ضروری نہیں کہ وہ طالب علم کے ہر سوال کا جواب دے یہ استاذ کے صوابدید پر منحصر ہے، اگر مناسب سمجھتا ہے تو جواب دے ورنہ نہیں،اور اس بات کا فیصلہ استاذ کو طالب علم کی ذہنی اور فکری سطح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنا ہے، اور ”الناس علیٰ قدر عقولھم“ لوگوں کی عقلی سطح کے مناسب بات کہو، نیز ”انزل الناس منازلھم“ (۵۲) لوگوں کو ان کے مقام پر رکھو کے مصداق طالب علم کی سطح سے اوہر جوبھی سوال ہو یا جو بھی بحث ہو اس سے اجتناب کرے۔

حصولِ علم کے یہ چند آداب و اصول ہیں جو موسیٰ ؑ و خضرؑ کے تعلیمی سفر نامے سے استنباطی شکل میں روشنی یں آئے جس میں بتایا گیا کہ ایک اچھے طالب علم کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں، ایک استاذ سے علم سیکھتے وقت کن کن امور کی رعایت ضروری ہے، نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک استاذ کا اپنے شاگردوں کے تئیں کیسا رویہ ہونا چاہیئے جس سے ایک استاذ مثالی استاذ بن سکے، الغرض یہ چند ایسے اصول ہیں جن کی رعایت سے ایک انسان علم و معرفت کے بڑے بڑے معرکے سر کر سکتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مراجع ومصادر
؎؎؎؎؎؎؎
(۱) تفسیرطبری، تفسیر سورہئ کہف : ۵۶ ، سلسلہ احادیث صحیحہ، شیخ البانی : ۰۵۳۳
(۲) سورہ کہف : ۵۶
(۳) Tafseer Al-Kabeer, Fakhruddid Razi, English Version.
(۴) تفسیر کبیر جلد/۴ تفسیر سورہئ کہف: ۶۶
(۵) سنن ترمذی : ۷۸۶۲ غریب
(۶) تفسیر کبیر جلد/۴ تفسیر سورہئ کہف: ۶۶
(۷) سورہئ طہٰ : ۴۱۱
(۸) کتاب جامع بیان العلم و فضلہ ابن عبد البر اثر عبد اللہ ابن عباس،
(۹) تفسیر کبیر جلد/۴ تفسیر سورہئ کہف: ۶۶
(۰۱) سورہ بقرہ : ۲۳
(۱۱) سورہ بقرہ : ۲۸۲
(۱۲) تفسیر کبیر جلد/۴ تفسیر سورہئ کہف: ۶۶
(۱۳) ایضاً
(۱۴) ایضاً
(۱۵) ایضاً
(۱۶) تفسیر کبیر جلد/۴ تفسیر سورہئ کہف: ۶۶