ڈاکٹر محمد عمر کی دو تصانیف’شہر یار‘ اور ‘رشحاتِ فکر ‘ کی رسمِ رونمائی

مئوناتھ بھجن:  ڈاکٹر محمد عمر کی دو دیدۂ زیب کتاب ”شہر یار“ اور ” رشحاتِ فکر” کا اجرا عمل میں آیا۔ مولانا خورشيد أحمد صاحب مدني أستاذ حدیث مدرسہ عربیہ تعلیم الدین کی رہائش گاہ پر منعقد ایک خصوصی تقریب میں ڈاکٹر محمد عمر اور متعدد شرفاءِ شہر ، اربابِ عقل و دانش و شائقینِ علم و أدب  کی موجودگی میں اس کتاب کا اجرا محمد قاسم ندوی، جاوید اختر عمری ، محمد عابد مفتاحی اور اخلاق احمد کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

سب سے پہلے مولانا خورشید احمد صاحب اور ان کے فرزندِ ارجمد مولانا عبد الرحمن اسامہ صاحب نے مہمانوں کا استقبال کیا اس کے بعد مولانا قاسم ندوی صاحب نے ڈاکٹر محمدعمر صاحب کی ان دونوں کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان سے متعلق اپنے گراں قدر تاثراتی کلمات کہے۔

Shaharyar book tltle UrduMe.info
شہر یار کتاب کا دیدہ زیب سرورق

مولانا ندوی صاحب ے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی پہلی کتاب فارسی زبان و ادب کے مشہور شاعر اور معروف ادیب شہر یار کے حالاتِ زندگی سے متعارف کراتی ہے مزید برآں اس کتاب میں اس کے عصر کا عکس بھی دیکھا جاسکتا ہے نیز اس کی شاعری پر سیر حاصل تنقیدی بحث بھی اس کتاب کا اہم حصہ ہے، مجموعی طور پر یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ،

دوسری کتاب رشحاتِ قلم کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا محمد عابد مفتاحی صاحب  نے کہا کہ اس کتاب کے مشمولات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ان مقلالات کا مجموعہ ہے جو یا تو مخلتف رسالوں اور محلوں میں شائع ہو چکے ہیں یا مختلف ادبی و علمی محفلوں میں پیش کئے جا چکے ہیں۔

Rashhat e qalam book title UrduMe.info
کتاب رشحاتِ فكر۔ دیدہ زیب ٹائٹل

مونالا مفتاحی نے مزید کہا کہ اس کتاب میں کل گیارہ مختلف النوع مقالات ہیں، ہر موضوع کا مکمل حق ادا کرنے کی  مولف  نے ہر ممکن کوشش کی ہے اور بہت حد تک کامیاب بھی رہے، وہ سیدھے سادے الفاظ میں بڑی بات کہنے کے ہنر سے خوب واقف ہیں۔ ان مضامین کے مجموعہ کا منظرِ عام پر آنا سب کے لئے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا کہ مضامین کا موضوع انتخاب اس قدر گراں قدر ہے کہ اس کی داد نہ دینا بڑی بے ایمانی ہوگی۔

مولانا اخلاق احمد صاحب نے بھی ڈاکٹر صاحب کے اس کارنامے کو سراہا اور انہیں مبارکباد  پیش کی ۔

آخر میں سبھی شرکا کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا، سبھی شرکا نے میزبان مولانا عبد الرحمن اسامہ صاحب کی ضیافت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

Leave a Comment