مولانا محفوظ الرحمن مفتاحیؒ ۔ ایک ہمہ گیر شخصیت

 

مولانا اقبال احمداصلاحی ندوی مدنی 

سابق لکچرر احمدوبیلویونیورسٹی ،نائیجریا

مئو اوراطراف مئو کے لئے مرحوم مولانامحفوظ الرحمٰن نوراللہ مرقدہ، کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔اس خاکسار کومرحوم سے ایک عرصہ سے واقفیت تھی اور مرحوم اس خاکسار کوغائبانہ طورپر بخوبی جانتے تھے مکمل تعارف اور واقفیت احمدوبیلویونیورسٹی ،نائیجریاسے  میرے  رٹائرمنٹ کے بعد   وطن ِعزیزمیں مستقل قیام کے بعد ہوئی۔ا س کے بعد ملاقاتوں اور زیارت کاسلسلہ جوشروع ہواتوآخر وقت تک قائم رہا ،مرحوم سے زیادہ ترملاقات اصلاح معاشرہ کے جلسوں اورمدارسِ تحفیظ القرآن کی تقاریبِ ختم ِقرآن کی میں ہواکرتی تھی ،نیز کبھی جامعہ مفتاح العلوم  میں توکبھی گھرپرملاقات ہواکرتی تھی ، مولانامرحوم اس خاکسار سے ہمیشہ انتہائی محبت اور ا پنائیت سے ملتے تھے ،نجی اورگھریلومعاملات سے دلچسپی رکھتے اوراس سلسلہ میںاپنے مفیدمشورے اور رائے سے مستفیدفرمایاکرتے تھے ۔

چند سال پہلے میں اپولو اسپتال دہلی میں ایڈمٹ تھا،سخت نمونیہ کی شکایت تھی ،مولانامرحوم کوکسی طرح خبر ہوگئی ،بڑی تشویش کااظہارکرتے ہوئے پوچھاکہ کون ان کی دیکھ بھال کررہاہے جب ان کوبتایاگیاکہ ان کے بڑے بیٹے جن کی وہیں دہلی میں مستقل رہائش ہے اپنے ابّوکی دیکھ بھال کررہے ہیں ،اس کے علاوہ ان کے باہررہنے والے بیٹے بھی آگئے ہیں،بیٹیاں اور داماد بھی پہنچ گئے ہیں تب جاکر ان کو اطمینان ہوا،اوردعائے صحت وعافیت سے نوازا۔

ابھی اپولواسپتال سے ڈسچارج ہوکر قیام گاہ پرآئے چند دن ہوئے تھے کہ دوستوں نے فون پر یہ جانکاہ خبر دی کہ مولاناموصوف اس دنیامیں نہیں رہے ،لکھنؤمیڈیکل اسپتال میں ١٣/جون ۲۰۱۵ کواپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

إنّا للّٰہ وإنّا إلیہ راجعون

یہ خبر دل پر بجلی بن کرگری ،چونکہ پہلے سے مولانامرحوم کی شدت علالت اور لکھنؤمیڈیکل اسپتال میں ایڈمٹ کی خبر نہیں تھی یہ المناک خبرسن کر سکتہ کی سی کیفیت طاری ہوگئی ،بچوںکوعلم ہوا  تو ان کو بھی بہت صدمہ اور غم ہوا، اور ہم سب نے مل کرمولانامرحوم کے لئے دل سے مغفرت کی دعائیں کیں۔

اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ وأکرم نزلہ ووسع مدخلہ

اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، ان کی حسنات کوقبول فرمائے ،  فروگذاشتوں سے در گذرفرمائے اوراعلیٰ علیین میں جگہ دے ۔

واحشرہ واحشرنا مع النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین

اور ان کے نہ رہنے سے جوگھریلومسائل پیداہوگئے ہوں ان کے حل کرنے میں پسماندگان کی مددفرمائے اوران کو صبر جمیل اور ہمت سے کام لینے کی توفیق دے۔

مولاناؒکی سوانح ،کمالات اور امتیازات پرلکھنے والے بہت ہیں جس کاثبوت مولانامرحوم کی شخصیت پرشائع ہونے  ان گنت مضامین اور مخلتف رسائل  اور مجلات کے خاص نمبرات ہیں۔ مولانا  ؒ دنیا کے ان خوش نصیب انسانوں میں سے ایک ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی نوازش ورحمت سے حصہ ٔ وافرعطافرمایاتھا، آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ، ایک علمی ادارہ کے استاذحدیث اور متبحرعالم دین تھے، جمعیۃ العلماء یوپی کے نائب صدر ،جمعیۃ العلماء مؤ کے صدر، شاہی جامع مسجد کے امام وخطیب  اورنگ آباد مئو عیدگاہ کے امام، مجلسِ شوریٰ کے خصوصی رکن، ناظمِ تعلیمات ، مالیاتی کمیٹی کے رکن،  مئو ریلیف کمیٹی کے رکن نیزمحکمۂ شرعیہ اورہلال کمیٹی کے بھی رکن تھے۔

jamia miftahul uloom mau

مولاناؒ علمی لحاظ سے بھی بہت زیادہ با صلاحیت تھے۔ حضرت مولاناحبیب الرحمن اعظمی نوراللہ مرقدہ   ان کے اس جوہرسے اچھی طرح واقف تھے،  ابھی مولاناؒ کی فراغت کوزیادہ عرصہ نہیں گزراتھا بلکہ کم عمری ہی میں جب مولانانسیم صاحب نے طویل علالت کی وجہ سے مدرسہ مرقاۃ العلوم چھوڑ دیاتھا  تومولانا اعظمی نوراللہ مرقدہ نے مشکوٰۃ المصابیح  پڑھانے کے لئے مولاناموصوفؒ کاانتخاب فرمایاتھا۔

مولاناموصوف کی محبوبیت اور مقبولیت کے بعض اسباب:

مولانامرحوم کی عوام میں مقبولیت اورمحبوبیت کے اسباب میں سب سے بڑاسبب آپ کی للہیت اورتقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے سے محبت کرتاہے تولوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتاہے عبادت کا انہیں شوق تھا، نمازسے عشق حقیقی تھا، ہمیشہ باوضورہتے تھے۔مولانامرحوم ہرمعاملہ میں اللہ سے کی مرضی اور خوشنودی کو پیشِ نظررکھتے ، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والے کاموں سے اجتناب کرتے ، اورجوصرف اللہ سے ڈرتاہے وہ پھر کسی سے نہیں ڈرتامولاناؒبہت زیادہ جری تھے ، دنیاکی کسی چیزسے نہیں ڈرتے تھے نہ کسی غلط بات کوبرداشت کرتے چنانچہ جب بھی کوئی غلط چیزدیکھتے برملاٹوک دیتے، اور خود بھی اللہ کی مرضی والے کاموں کواختیارکرتے ، ان کی کوشش اورخواہش ہوتی کہ اللہ کے بندے بھی اس کے حکموں پر چلیں ، بری چیزوں سے پرہیزکریں اصلاحِ معاشرہ  ان کی ذاتی صفت تھی ، مئو اور اطراف ِمئو  اصلاحِ معاشرہ کے لئے نکل جاتے اس سلسلہ میں کسی قسم کی سستی کوپاس نہیں آنے دیتے کبھی کبھی ایک ہی دن میں کئی کئی اصلاحِ معاشرہ کے جلسوںمیں شرکت کرتے اور مواعظِ حسنہ سے عوام کومستفید ہونے کاموقع فراہم کرتے ۔

مولانامرحوم کی دوسری خوبی جس کی وجہ سے عوام میں مقبول ومحبوب تھے ، ان کا خدمتِ خلق کاجذبہ تھاوہ مخدوم نہیں خادم بن کررہناچاہتے تھے ، لوگوں کی خدمات ہنسی خوشی انجام دیتے تھے، اورسب کے دکھ درد میں شریک ہوتے ،غریبوں اورمسکینوں کی مدد کرکے بہت خوش ہوتے تھے چنانچہ اپنی تنخواہ کابیشترحصہ مسکینوں اورمحتاجوں کی ضروریات پوری کرنے اور ان کی مددکرنے میں خرچ کردیاکر تے تھے، صاف گوتھے حق بات کہنے والے تھے آپ اسی وصف کی وجہ سے ہرجگہ بلائے جاتے تھے جب کسی کوحق دلانے کی بات ہوتی توآپ پیش پیش رہتے ، معاملات کے تصفیے اوردیگرامورکے لئے اِدھراُدھرجایاکرتے تھے۔اصلاح بین الناس آپ کانمایاں وصف تھا،ایک مرتبہ خودخاکسارایک مشترک دیوار کے تنازعہ کے تصفیہ کے لئے اپنے گاؤں بختاورگنج مئو  لے گیاتھا۔

 آپ کی خوبیوں میں سے ہے کہ آپ بے دریغ جس کی جس قدرخدمت بن پڑتی ضرورکرتے اس میں کسی غرض کودخل نہ ہوتا،صرف اللہ کی خوشنودی مقصودہوتی ،قوم وملت کی فکرہمیشہ دامن گیررہتی تھی ہرطرح کے لو گوں سے رابطہ رکھتے اورہرایک کے مرتبہ کاخیال رکھتے دشمنوں کومعاف کردیاکرتے تھے ، انتقام کاکبھی خیال بھی نہیں آتاتھا،بلاتفریق مذہب وملت ہرایک کے کام آتے ہرایک کے دکھ دردمیں شریک ہوتے ۔

  یہ آپ کے اسی وصف کانتیجہ ہے کہ آپ کی محبوبیت ومقبولیت کی وجہ سے ہی مئو  کے شتلامندرکے سارے دروازے  نمازِجنازہ پڑھنے والوں کے لئے کھول دئیے گئے،   اِذن عام تھاکہ اس کے احاطہ کو جس طرح چاہیں استعمال کریں جہاںچاہیں نماز پڑھیں ۔مئو بیوپارمنڈل کے صدر رام گوپال ،D.M.,S.P.اوربہت سے غیرمسلم  لیڈران اورعوام جنازہ میں شریک تھے۔

تواضع اورخاکساری مولاناؒکی پہچان تھی ،تواضع مومن کی پہچان ہے اور اللہ کے رسول ؐنے یہ بشارت دی ہے کہ جواللہ کے لئے تواضع اختیارکرتاہے اللہ تعالیٰ اس کوبلنددرجات سے نوازتاہے ،موصوف میں یہ صفت بدرجۂ  اتم موجودتھی ، انتہائی خاکساری اورانکساری کاپیکرتھے،تکبر،تعلِّی سے کوسوں دورتھے،اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ خاکسارانہ رویہ اختیارکرتے تھے،علم وفضل کاگھمنڈانھیں کبھی نہ رہا، وہ تمام لوگوںسے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ،اوربڑے ملنسار واقع ہوئے تھے ، ان کے روابط بڑے وسیع تھے، اسی لئے چاہنے والوںکادائرہ بڑاوسیع ہے ، وہ بہت سادہ مزاج ،بڑے ملنساراورکریمانہ اخلاق کے مالک تھے ۔

آپ کادوسراخاص وصف سادگی تھی تصنع سے دورتھے ،معمولی لباس پہنتے تھے اور خودسے دھل کرپہنتے تھے ، ظاہری شکل وصورت اور رکھ رکھاؤسے یہ اندازہ لگانابہت مشکل ہوتاکہ اس سراپاکے اندراس قدر باکمال انسان چھپاہواہے ،چنانچہ جب بات کرتے تبھی مخاطب کواندازہ ہوتاکہ اتنی صلاحیت کے مالک ہیں۔

جانے والے چلے توجاتے ہیں زخم گہرالگاکے سینے میں

وقت مرہم سہی مگر سچ ہے لطف آتانہیں ہے جینے میں

 

 

اسے بھی پڑھیں:

مولانا محفوظ الرحمٰن مفتاحی: چند مواقف و نظریات

 

Leave a Comment