اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

فیضان اشرف مؤناتھ بھنجن یوپی

    اس سال رمضان کے مبارک مہینہ میں بہت سارے عوام وخواص اپنے گھر والوں روتا بلکتا چھوڑ کراس دارفانی سے آخرت کی طرف چلے گئے ،انہیں میں سے ہمارے خانوادے کے ایک لائق وفائق اورباوقار شخصیت کے حامل حافظ وڈاکٹرعبدالحئی مدنی ہم سے جدا ہوگئے۔”ِانَّا لِلّٰہِ واِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ”

    نام ونسب

عبدالحئی بن حاجی عبد الحمید بن مولانامحمد حامد بن حاجی عبد الرحمن شہیدبن مولوی حکیم جمال الدین بن شیخ ببواحکیم بن حاجی ڈومن ۔

    والدہ کا نام ونسب

صفیہ خاتون بنت شیخ الحدیث مولانامحمدنعمان اعظمی بن حاجی عبد الرحمن شہید بن مولوی حکیم جمال الدین بن شیخ ببواحکیم بن حاجی ڈومن ۔آپ بھی خانوادے ہی سے  ہیں اورمحلہ ڈومن پورہ حبہ مؤناتھ بھنجن یوپی کی رہنے والی تھیں۔

    صاحب تذکرہ حافظ عبد الحئی مدنی رحمہ اللہ نے ایک بار ذکر کیا تھا کہ میری والدۂ محترمہ بچیوں کوناظرہ قرآن اوراردووغیرہ لکھنے پڑھنے کی تعلیم دیتی تھیں ،عورتوں کومشکوٰۃ المصابیح کا درس بھی دیتی تھیں اورفجر کی نمازکے لئے لوگوں کے دروازے کھٹکٹاکربیدار کرتی تھیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے،آمین۔

    تاریخ ومقام پیدائش

یکم جولائی ۱۹۵۲ء  کو محلہ جمال پورہ مؤ ناتھ بھنجن یوپی میں پیداہوئے۔کاغذات پرآپ کی تاریخ پیدائش ۱۹۵۰ء ہے۔

    خاندانی پس منظر

خانوادے کے متعلق مولانا عزیز الحق صاحب عمری رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ اپنےخاندان کے بڑوں سے میں نے سنا ہے کہ یہ خاندان راجپوت سے سید مسعودسالار غازی رحمہ اللہ کے ہاتھوں پراسلام لایااور انہیں کے یا ان کے کسی سپہ سالار کے ساتھ اس اطراف میں واردہوا،بتایاجاتا ہے کہ سید مسعود سالارچکیا بنارس کے راجہ کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوئے اور ان کے ساتھی اسی اطراف میں بس گئے،اگرچہ اس خاندان کے سلسلہ نسب سے یہ اندازہ کرنادشوار ہے کہ وہ مئو میں کب آکر بس گئے،پھر بھی شایدوہ ابتداء ہی سے مئو میں بسے ہوئے ہوں۔ ماخوذ:تذکرۂ علماء اہل حدیث جلد اول ،مؤلف محمد مقتدیٰ عمری ،مکتبہ دارالسلام مئو ۲۰۲۱ء ص:۸۲٨

    نام ونسب میں آخری نام حاجی ڈومن ہے ان کا اصل نام کیا تھا معلوم نہیں ہوسکا البتہ خانوادہ کے برزگوں نے بتایا ہے کہ وہ حاجی ڈیومن ہے ۔اسی طرح شیخ ببوا حکیم کا اصل نام کیا تھا معلوم نہیں ہوسکا مئو کے لوگ کسی کو پیار کی زبان میں ”بابو”یا ”ببوا ”کہتے ہیں ،معلوم ہوتا ہے کہ اس پیارے بھرے لفظ کے آگے اصل نام مفقود ہوگیا،یہ بھی ممکن ہے کہ اصل نام عبدالحکیم رہا ہو اور اس کے آگے لفظ ”ببوا”کا اضافہ کرکے ”عبد”کو محذوف کردیا ہو اور یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ وہ دراصل حکیم یا طبیب رہے ہوں ،واللّٰہ أعلم ۔

    شیخ ببواحکیم کے دونرینہ اولاد تھی:١۔مولاناحکیم جمال الدین مئوی ٢۔لعل محمد گرہست

     مولانا حکیم جمال الدین جو مولوی جمال الدین ،حکیم جمال الدین اورجُمّن حاجی کے نام سے پکارے جاتے یا یاد کئے جاتے تھے،آپ کی تاریخ پیدائش اور وفات اور آپ کی تعلیم اور حالات ومعمولات کے سراغ لگانے میں ہمیں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا،البتہ مولانا کی زندگی کا معمول پڑھنے پڑھانے اور طب یونانی کے ذریعہ عوامی خدمت پر موقوف تھا ،تذکرہ علماء اعظم گڈھ میں ”مولانا عبدالغفار عراقی مئوی ” کے عنوان سے آٹھ صفحات پر ان کی خود نوشت سوانح حیات کی مفصل تلخیص شائع ہوئی ہے اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ استاذ العلماء مولانا عبدالغفارعراقی مئوی کے استاذ اول مولانا جمال الدین مئوی ہیں ،آپ کی مقبولیت کا ندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس محلہ میں آپ کا قیام تھا اسے آپ کی طرف منسوب کرکے جمال پورہ کے نام سے موسوم کردیا گیا ۔

    مولاناحکیم جمال الدین مؤی رحمہ اللہ کی شادی پورہ معروف کے ایک مشہور وممتازخاندان میں ہوئی تھی آپ کی زوجہ محترمہ جناب پیرمحمد کی دختر نیک اختر اور مشہور زمانہ شہ زورعالم دین مولانا محمد طاہر(۱۸۰۸ ۔ ۱۸۷۹ء)  کی بہن تھیں ،آپ کے سسرجناب پیر محمد بہت بڑی ریشم کی تجارت کے علاوہ اچھی خاصی زمینداری کے بھی مالک تھے ہردو ذرائع آمدنی کے باعث کافی دولت مند تھے ،حیات طاہر میں لکھا ہواہے کہ جناب پیر محمد نے اس دولت کو جو چاندی کی سکوں کی شکل میں تھی تمام حق داروں میں ترازوسے تول کر تقسیم کیا تھا ،جناب پیر محمد کی خاندانی دولت کا ایک معتد بہ اوروافر حصہ مولانا حکیم جمال الدین کے گھر میں ان کی بیوی کے ذریعہ پہونچا ،جس سے ان کی اولاد نے تجارت اور کاروبار شروع کیا اس میں ناقابل قیاس منافع اوربڑی خیر وبرکت ہوئی اس شادی سے مولاناکے کل سات اولادہوئیں:

  1. حاجی عبدالرحمن شہید (راقم السطور کے لکڑ دادا)
  2. حاجی عبدالحفیظ سوداگر (مولانامظہر احسن ازہری حفظہ اللہ ناظم جامعہ عالیہ عربیہ مؤ کے پردادا)
  3. سلیمہ بی بی (زوجہ میانجی دین محمدؒ محلہ بلواپورہ معروف )
  4. مولاناشیخ علیم اللہ (مولانامحمد اعظمی سابق شیخ الحدیث وشیخ الجامعہ عالیہ عربیہ مؤکے پردادا)
  5. حاجی محمد عارف(مولاناپرویزاحمد عالی وحاجی سعوداحمد کراؤن ،حاجی عبدالودودصدرجامعہ عالیہ عربیہ مؤکے لکڑدادا)
  6. حاجی نورمحمد(متوفی ۱۸ اپریل ۱۹۳۶ء ڈاکٹر شکیل سلفی ،افضل نورانی ،اجمل نورانی کے پردادا)
  7. مریم بی بی ۔(زوجہ محمد نعیم ؒ)

    آپ کے پرداداحاجی عبدالرحمن شہیدانتہائی دین داراوردینی خدمت کا جذبہ رکھنے والے تھے اورکپڑوں کے کامیاب تاجر اور رئیس مؤ سے مشہور تھے،جیساکہ مولانا عزیز الحق صاحب عمری رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ:

الحاج عبدا لرحمن صاحب شہید اور نور محمد صاحب دونو ں ہی مل کر کاروبار کرتے تھے اور نور محمد صاحب کلکتہ کا سفر کرتے تھے اور الحاج عبد الرحمن شہید صاحب رامپور اور مرادآباد کا سفر کرتے تھے اور اسی سفر سے آتے وقت مؤ اور اورنگ آباد عید گاہ کے آس پاس کچھ ہندؤں کے ہاتھوں شہید کئے گئے اور ان کی لاش وہیں دریائے ٹونس میں دوسرے روزسویرے کسی نے دیکھا اور چونکہ وہ ایک نامور رئیس تھے اس لئے ان کی شناخت میں کوئی دشواری نہیں ہوئی اور لاش پوسٹ مارٹم کے لئے اعظم گڈھ بذریعہ پولیس پہنچائی گئی ،لیکن چونکہ اس زمانے میں یکہ کے سوا کوئی ذریعہ سفر نہ تھا اس لئے وہیں گنج شہیداں میں مئو گئورکشنی کے شہیدوں کے آغوش میں دفن کردیئے گئے۔ (ماخوذ:تذکرۂ علماء اہل حدیث جلد اول ،ص:٢۲۸٨)

    خانوادہ کے برزگوں کے بقول اعظم گڈھ میں شبلی نیشنل کالج کے قریب کربلا کے میدان میں روضہ گنج شہیداں میں مدفون ہیں، راقم السطور نے وہاں جاکر دعاء مغفرت کی ہے ۔آپ کا سن شہادت ۱۹۰۵ء٩٠٥ہے۔

    حاجی عبدالرحمن شہید ؒکی شادی پیارے پورہ مئو میں رحمت بی بی رحمہااللہ سے ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے بھی بطن سے سات اولاد سے نوازاتھا:

  1. مولانامحمد حامد(صاحب تذکرہ کے دادا)۔
  2. شیخ الحدیث مولانامحمدنعمان اعظمی (متوفیٰ١٩٥١ء) والدمحترم علامہ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی(ناظم جامعہ دارالسلام عمرآباد)
  3. حلیمہ بی بی(زوجہ امیرالدین ؒ محلہ پیارے پورہ مؤ)
  4. کریمہ بی بی(زوجہ منیرالدین ؒمحلہ پیارے پورہ مؤ)
  5. مولاناحکیم محمدابراہیم (متوفیٰ ۱۹۱۷ء راقم السطورکے پردادا)
  6. رقیہ بی بی(زوجہ عبدالجبارمحلہ محمدبلواپورہ معروف مؤ)
  7. شیخ الحدیث مولاناابوالقاسم محمدعلی قدسیؔ (متوفیٰ١٩٥٤ء) رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔

     چاروں کا ذکر مولاناعبد الرحمن آزاد نے ایک شعر میں کیا تھا،جس سے ان کی ہردل عزیزی کا ثبوت ملتا تھا ؎

    علی ،حامد،نعمان ،ابراھیم اخوان         فاللّٰھم أکرمھم جمیعاًأینما کانوا

    آپ کے دادامولانامحمدحامدمدرسہ عالیہ سے عربی وفارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعداپنے چھوٹے بھا شیخ الحدیث مولانامحمد نعمان اعظمی کے ساتھ مؤ سے آراہ پہونچے ،مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا جہاں حافظ صاحب غازی پوری جیسے اساتذہ صاحب مسند تھے،اس کے بعد دونوں بھائی دہلی گئے اور شیخ الکل میاں صاحب کی خدمت میں حاضری دی اور ان سے پڑھ کر سند حاصل کی ،دہلی میں ڈپٹی نذیر احمد سے بھی عربی ادب پڑھتے تھے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد کپڑے کی تجارت کرتے تھے مزید تفصیلی حالات معلوم نہیں ہوسکی ”الحیاۃ بعد المماۃ”میں تلامذہ میاں صاحب کی فہرست میں مولاناحامد صاحب کا کا نام شمار نمبر۳۷۳ پراورمولانانعمان صاحب کا ۳۷۴ پر ہے۔

آپ کا سن وفات  ۸ اکتوبر۱۹۱۳ء ہے ،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلہ، وَارْحَمْہ،۔۔۔

مولاناحامدکی شادی مؤناتھ بھنجن کے یک محلہ حسن مکھا ثانی معصومہ بی بی بنت نورمحمدسے ہوئی تھی ،آپ کے کل چار اولاد تھیں:

  1. مولانا عبد الماجد
  2. زبیدہ خاتون (آپ کی شادی خانوادہ ہی میںحاجی محمد ادریس دلال بن حکیم مولانامحمد ابراہیم حاجی عبد الرحمن شہیدبن مولوی حکیم جمال الدین محلہ جمال پورہ میں ہوئی تھی )
  3. حاجی عبدالحمید(صاحب تذکرہ کے والد)
  4. عبیدہ خاتون (زوجہ حاجی عظیم اللہ بن حاجی عبدالحئی بن عبد اللہ بے سٹل محلہ نیازمحمد پورہ مؤ)

    مولانا ممدوح کے والدعبدالحمید عالم دین تو نہیں تھے مگرایک معززاور باوقار شخصیت کے حامل تھے ۔آپ کے کل آٹھ اولادتھیں :

  1. زہرہ خاتون رحمہا اللہ
  2. حافظ اکبر علی رحمہ اللہ(شادی کے بعد ٢٨/سال کی عمر میں انتقال ہوگیا ابھی کوئی اولاد نہیں تھی)
  3. ٍ صغیرہ خاتون رحمہا اللہ
  4. ٍ اصغرعلی رحمہ اللہ
  5. ٍ شوکت علی حفظہ اللہ(ڈاکٹر جاوید منظر کے والدمحترم)
  6. ٍ کبریٰ خاتون رحمہا اللہ
  7. حافظ و مولاناو ڈاکٹرعبدالعلی ازہری حفظہ اللہ(سابق پروفیسر اسلامک کالج لندن)
  8. حافظ و ڈاکٹر عبد الحئی مدنی(صاحب تذکرہ)

    تعلیم وتربیت

گھریلو روایت کے مطابق ناظرہ قرآن پڑھنے کے بعد جامعہ عالیہ عربیہ مئو کی سب سے قدیم عمارت محلہ جمال پورہ مئو  میں داخل کردئیے گئے درجہ چہارم پڑھ رہے تھے کہ غربت کی وجہ سے کاپی نہ خریدنے پرروزانہ مار کھاتے ہوئے اس وقت مدرسہ کے ایک معززوباوقار مدرس مولاناعبد العلی مظاہری ؒ(راقم السطور کے پرنانا)نے دیکھا تومشورہ دیا کہ شعبۂ حفظ میں داخلہ لے لو کاپی کتاب خریدنے کا مسئلہ نہیں رہے گا چنانچہ ان کے حکم پر اسی مدرسہ میں حافظ احمد اللہ مؤیؒ کے پاس قرآن مجید حفظ کرنے لگے ،حافظ احمد اللہ ؒکے مدرسہ سے مستعفی ہونے کے بعد جامعہ مفتاح العلوم کی شاخ ڈومن پورہ کساری میں حافظ اسماعیل مؤی ؒ کے پاس حفظ کرنے لگے اور وہیں سے حفظ القرآن کی تکمیل کی سعادت حاصل کی،پھر اس ادارہ میں درجہ پانچ سے درجہ آٹھ منشی تک فارسی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد عربی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جامعہ دارلسلام عمرآباد مدراس جانے کا شوق ہوامگر وہاں تک پہونچنے کا خرچ نہ ہونے کی وجہ سے محروم رہے مگر آپ کا تعلیمی شوق دہلی لے گیا وہاں آپ نے مدرسہ” سبل السلام ”پھاٹک حبش خاں دہلی میں عربی کی پہلی جماعت میں داخلہ مل گیا ایک سال بعد”جامعہ اعظم”  بلّی ماران دہلی میں داخلہ لے کر عربی کی دوسری اور تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی کہ آپ کی دینی تعلیم کاسلسلہ منقطع ہوگیا چنانچہ مؤآگئے اس کے بعدعصری تعلیم میں منہمک ہوگئے ”مسلم انٹرکالج ”مؤسے  ۱۹۷۰ء میں ہائی اسکول کا متحان پاس کیئے،انٹر کرنے کے لئے شبلی نیشنل کالج اعظم گڈھ گئے وہاں انٹر کاپہلا سال مکمل کرنے کے بعد”مجیدیہ اسلامیہ ”انٹرکالج لکھنؤ سے  ۱۹۷۲ء میں انٹرپاس کرکے الہٰ آبادیونیورسٹی میں داخلہ مل گیاوہاں سے ۱۹۷۴ء میں بی ۔اے اور۱۹۷۶ء میں ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی ،اس کے بعد پھر دینی تعلیم کا سلسہ شروع ہوا،آپ ایم ۔اے کرنے کے بعدجامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ میں تدریسی فریضۃ انجام دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کا انٹر کی مارکشیٹ سے عالم اسلام کی مایہ نازیونیورسٹی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ہوگیا، ۱۹۷۹ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے چارماہ” معہد اللُّغہ”میں تعلیم حاصل کرکے ۱۹۸۰ء میں”کلیۃ القرآن”میں داخل ہوئے چارسال مکمل کورس کرکے ۱۹۸۴ء میں بی ۔اے کی ڈگری حاصل کر کے اپنے وطن مؤواپس ہوئے ،اسی دوران آپ نے وہاںاربعہ عشرہ کی قراء ت بھی پڑھی،اس کے بعدلکھنؤسے ہومیوپیتھک میں ایم۔بی۔اے۔ایچ اورایم ۔بی کی ڈگری حاصل کی۔

    دیگر امتحانات

دوران تعلیم مدرسہ ایجوکیشن بورڈاترپردیش کے امتحانات منشی ،کامل اورعالم پاس کیئے اور اس کے علاوہ علی گڈھ سے ادیب ،ادیب ماہر اور ادیب کامل کے امتحان بھی پاس کیئے تھے۔

    اساتذہ کرام

آپ نے اپنے وقت کے افاضل نابغۂ روزگاراساتذۂ کرام کے علمی واخلاقی سرچشموں سے سیراب ہوئے تھے،جس میں سے چنداسماء گرامی یہ ہیں:

    مدرسہ عالیہ مؤکے اساتذہ میں:مولاناعبد العلی مظاہری مؤیؒ،حافظ احمد اللہ مؤی ؒوغیرہ۔

    جامعہ مفتاح العلوم مؤکے اساتذہ میں :حافظ محمد اسماعیل مؤیؒ، منشی حفیظ الرحمن مؤیؒ ،منشی مختارمؤیؒ،مولانا رفیع اللہ مؤیؒ ،مولانامحمد سلطان مؤیؒ،وغیرہ۔

    جامعہ اعظم دہلی کے اساتذہ میں :قاری ومولانازبیرفیضی مبارکپوریؒ،مولاناعبد الغفور بسکوہریؒ،مولاناعبدالسلام کشمیریؒوغیرہ۔

    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے استاذہ میں:عبدالعزیزقاری بخارا،قاری عبد الرحمن الحذیفی،ڈاکٹرعثمان سوڈانی وغیرہ۔

    ہم سبق حفاظ

شیخ حافظ محمد اسماعیل سلفی مدنی مؤیؒ استاذ شاخ جامعۃ الامام محمدبن سعود الاسلامیہ ریاض(وفات۲۰۰۳ء)حافظ وقاری بشیراحمدمؤی استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ (وفات۲۰۰۳ء)حافظ وقاری ومولانانثاراحمدفیضی مؤی استاذ جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ (وفات۲۰۲۰ء)حافظ صفات احمدمؤی حفظہ اللہ(سابق نائب صدر جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)حافظ جلال الدین مؤی حفظہ اللہ۔

    مدینہ منورہ میں آپ کے ایک ہم سبق ساتھی ابراہیم عبداللہ مدنی ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے،اس کے علاوہ آپ کے عصری علوم کے ہم سبق ساتھیوں کے نام معلوم نہیں ہوسکے البتہ ان زیادہ تعداد غیر مسلموں کی تھی۔

    تدریسی خدمات

۱۹۷۴ء میں بی ۔اے کرنے کے بعدجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ میں چار یاپانچ مہینہ تدریسی خدمات انجام دینے کے بعدایم ۔اے کرنے کے لئے الہٰ آباد چلے گئے۔

۱۹۷۶ء میں ایم ۔اے کرنے کے بعدجامعہ اثریہ دارالحدیث میں اس وقت کے ناظم اعلیٰ حاجی فخرالعبیدؒ نے تدریسی خدمات کے لئے رکھ لیا،ان دنوں آپ بحیثیت سرکاری مدرس تھے ۔

    جامعہ اثریہ دارالحدیث میں دوران تدریس  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تعلیم حاصل کرنے چلے گئے ،تعلیم مکمل ہونے کے بعدسعودی عرب سے مبعوث ہوکردوبارہ جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ میں آئے اورشعبہ عربی میں ادھر چند سالوں پہلے تک تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے۔

    تلامذہ

مولانامظہر علی مدنی مئو(شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)مولاناعبد الحمید فیضی سدھارتھ نگر(استاذ جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)مولاناابوسفیان مدنی مؤ(شیخ الجامعہ جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ)مولاناسعوداحمدمدنی مؤ(استاذجامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ)مولاناعبدالمبین فیضی مؤ(استاذ جامعہ اثریہ داراحدیث مؤ)مولانا عبد الوارث مدنی مؤ(شیرور بھٹکل)،مولانافیض الحسن عالی مؤ(استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)مولانادانش اثری مؤ،جناب سالم انصاری صاحب مؤ(ممبر راجیہ سبھا)مولاناشفاء الرحمن مدنی بنگال(استاذجامعہ اسلامیہ سنابل نئی دہلی)مولاناسعید شائقی (سعودی کونسلیٹ ممبئی)مولاناجمال الدین اثری (چمپارن )وغیرہ۔

    امامت وخطابت

جامع مسجد پھاٹک محلہ جمال پورہ، جامع مسجد ڈومن پورہ شمال اورجامع مسجد الحمدڈومن پورہ باڑہ پر امامت کی ہے ،آپ کو لندن میں بھی امامت کے لئے بلایاگیا مگر نصیب میں نہیں تھا۔

    آپ نے۲۵ سالتک مئو اور مئوکے باہرجمعہ کے خطبے دیئے ہیں،کبھی کبھی خطیب کی غیر موجودگی میں برجستہ خطبے دیتے تھے۔

    تراویح ۳۵ سال آپ نے پڑھائی ہے ،۱۶سال جامع مسجد ڈومن پورہ شمال،۲سال کیاری ٹولہ مؤ،۲ سال لچھی پورہ مؤ،۲سال بندی گھاٹ محمدآبادمؤاور بقیہ سال لندن میں تراویح پڑھانے کا موقع ملا۔

    درس قرآن

جامع مسجد الحمدڈومن پورہ باڑہ مئو  پرہفتہ واری اتوارکے دن بعد نماز عصر درس قرآن دیتے تھے ،پہلے ایک صفحہ قرآن پڑھتے ،پھر ترجمہ کرتے اور مختصر تشریح کرتے تھے ،اس مسجد پر درس قرآن کایہ سلسلہ بند ہے اس پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    مقالہ ومضامین

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ۔اے کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ”لیلۃ القدرومافیھا”کے عنوان ایک مقالہ لکھا تھا جو ابھی تک غیر مطبوع ہے۔

    اس کے علاوہ گاہے بگاہے مجلات میں کچھ مضامین شائع ہوئے ہیں،اسی سال اپنے استاذ محترم مولاناضیاء الحسن اعظمی کے انتقال پرایک مضمون لکھاہے جو شائع ہوچکا ہے۔

     تالیفات

”چالیس احادیث برائے خواتین ”کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو ۹۶ صفحات پر مشتمل پاکٹ سائزمیں شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو غیر مطبوع شکل میں مفقود ہوگیا ہے۔

    رفاہی خدمات

آپ کے زیر نگرانی جامع مسجد الحمدڈومن پورہ باڑہ مؤکی دومنزلہ عالی شان تعمیر ہوئی ہے،آپ ہی اس مسجد کے متولی تھے،قوم کے نونہال بچوں اور بچیوںکو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بعدنمازمغرب مدرسہ الرحمہ مسائیہ کے نام سے اسی مسجد پربچوں کے لئے،بچیوں کے لئے اپنے ہی گھر کو مدرسہ بنادیئے ،اس کے علاوہ ایک مدرسہ الرحمہ کے نام بلواگھاٹ بندھ سے متصل ٹونس ندی کے کنارے چل رہا تھا،ادھر کچھ مہینہ پہلے ندی کے قریب ہونے کی وجہ سے حکومت نے منہدم کردیا ہے لیکن اب یہ دوسری جگہ منتقل ہوگیا ہے۔

    اسفار

تبرعات کے سلسلے میں لندن کا سفر ہر سال رہا ہے، سعودی عرب ،دبئی ،کویت ،نیپال وغیرہ کا بھی سفرکیئے تھے،اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف صوبوں کا بھی سفر کرتے تھے ،کئی سال مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے ہونے والے مسابقہ حفظ القرآن الکریم میں بحیثیت حکم تشریف لے گئے۔

    علالت اور وفات

حافظ صاحب کی صحت بہت اچھی تھی ہمیشہ چلتے پھرتے اور خوش وخرم دکھائی دیتے تھے،وفات سے ایک ہفتہ قبل بخار میں مبتلا ہوگئے تھے اور سانس میں تکلیف رہنے لگی تھی بالآخررمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں ۲۲ اپریل ۲۰۲۱ء بروزجمعرات گھرہی پر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔”ِانَّا لِلّٰہِ واِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ”

اسی روز بعد نمازعصر استاذ محترم شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ( استاذجامعہ سلفیہ بنارس) کی امامت میں محلہ ڈومن پورہ کساری کے صحن میں نماز جنازہ اداکی گئی اور اپنے آبائی قبرستان ڈومن پورہ پچھم بھجمونا میں مدفون ہوئے۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلہ، وَارْحَمْہ، وَعَافِہٖ وَاعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہ، وَوَسِّعَ مُدْخَلَہ، وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَأَعِذْہُ مَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذابِ النَّارِ

        حلیہ

لمبا قد،صحت مند جسم ،چوڑی پیشانی،چہرے پر سفید داڑھی ،چلتے وقت نظر بالکل سیدھی رہتی ،آہستہ آہستہ گفتگو کرتے ،نہایت نفاست پسند اورخوش پوشاک وخوش خوراک تھے عمدہ کوالٹی کے کپڑے،جوتے ،چپل،کوٹ ،صدری اورٹوپی استعمال کرتے تھے عموماکرتا،لنگی اور سفیدٹوپی پہنے تھے اور دوسروں کوبھی دیتے تھے۔

    عادات ومعمولات

 آپ حافظ علیہ الرحمہ خوش مزاج،مخلص،مردخلیق اورزندہ دل انسان تھے اور اخلاقی طور پر بڑے ملنسار تھے ،مہمان نوازی اورعلماء کرام کی قدردانی آپ کا شیوہ تھا، تدریس کے علاوہ دعوت واصلاح اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے ،لوگوں میں آپ کی شناخت تھی ،عز م وحوصلہ والے اور صابروشاکر تھے،آپ کی ابتدائی زندگی بہت غربت کی حالت میں بسر ہوئی تھی ،تعلیم مکمل کرنے کے بعدجب تدریس سے جڑ گئے تھے توآ پ کی زندگی خوشحالی میں بدل گئی تھی اپنی تمام اولاد کو بہترین تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا،بڑے منظم اور خوش اسلوبی سے مسجد”الحمد” اوراپنے قائم کردہ ادارہ کو چلاتے تھے اس مسجدکے مؤذنین اور صفائی کرنے والے کو باقاعدہ تنخواہ دیتے تھے،اسی طرح خطباء کو اپنے گھر کھانا کھلانے کا اہتمام کرتے اور کچھ نقدبھی دیتے تھے ،اور تعلیم حاصل کرنے والے بچوں اور بچیوں کوماہانہ وظیفہ دیتے تھے تدریسی فرایضہ منقطع ہونے کے بعدگھر ہی پر رہتے تھے ،آپ کی زندگی بہت اصولی تھی صبح ہی گھر کی ضروریات سے فارغ ہوکرغسل کا اہتما م کرکے گیارہ بجے سے ظہر کی اذان تک قرآن مجید کی تلاوت کرکے مسجد میں آکر نمازظہر اداکرتے،عصراورمغرب بعد ہومیوپیتھ اور یونانی دواؤں کے ذریعہ عوام کی خدمت بھی کرتے تھے،مغرب سے کچھ پہلے مسجد میں آکرذکرواذکار کرتے ،دوکان پرفرصت کے وقت رسائل وجرائداور کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے اور اکثردوکان پر کوئی نہ کوئی ضرورملاقات کرنے کے لئے آتے رہتے تھے ،آپ ان کی باتوں کو سنتے رہتے اور مشورہ دیتے ،سیر وتفریح کے بہت شوقین تھے ،ہراتوار کو دوکان بند رکھتے اور کہیں نہ کہیں ضرور جاتے ،کبھی اپنے گھر پرائمہ ومؤذنین اور دیگر احباب کو اپنے گھر بلاتے اور کھانےپینے کا پروگرام رکھتے خود بھی شوق سے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے۔

بچھڑاکچھ اس اداسے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص             سارے شہر کو      ویران   کرگیا

شادی

آپ کی شادی مؤ ناتھ بھنجن ہی کے ایک محلہ ملک طاہرپورہ ڈاکٹر رضوانہ خاتون بنت محمد سلیمان چریا کوٹی سے ہوئی تھی جو ابھی باحیات ہیں۔

    اولاد

اللہ تعالیٰ آپ کو دو بیٹے اور تین بیٹیوں سے نوازاہے :

  1. ڈاکٹرام عمارہ فلاحی(فی الحا ل اپنے شوہرمولاناجمال انورعمری مدنی کے ساتھ لندن میں تعلیم ا وردعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دے رہی ہیں)
  2. عظمیٰ شاداب(معلمہ دانشگاہ پبلک اسکول مؤ)
  3. حافظ ومولاناوڈاکٹر عمارفلاحی (اسسٹنٹ پروفیسرڈیپارمنٹ آف اسلامک اسٹڈیزجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی)
  4. جناب عامرعبدالحئی(ا لہٰ آباد یونیورسٹی سے ایم ۔اے کرنے کے بعداپنے والد محترم رحمہ اللہ کے قائم کردہ مدرسہ واسکول کی ذمہ دار ی سنبھالے ہوئے ہیں)
  5. عامرہ شاداب (ایم ۔اے ،بی۔ ایڈ)

    تعزیتی پیغامات

وفات کی خبر سن کرآپ کا آخری دیدار کرنے اور تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھاہواتھا۔

     مرکزابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ نئی دہلی کے جنرل سکریٹری فضیلۃ الشیخ مولاناعاشق علی اثری حفظہ اللہ کابذریعہ واٹساپ حافظ علیہ الرحمہ کے دونوں بچو ں کے نام تعزیتی پیغام ارسال کیاجس میں جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ تدریسی خدمات کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی اہلیہ اوربچوں کی جانب سے غم کا اظہار کیا اور دعائے مغفرت کی ۔

    مرکزی جمعیت اہل حدیث دہلی کے امیر محتر م مولانا اصغر علی امام مہدی حفظ اللہ کابھی آپ کی وفات کے غم میںتعزیتی پیغام موصول ہواجس میں حافظ صاحب رحمہ اللہ کے اخلاق حسنہ کاذکرکرتے ہوئے تدریسی ،فلاحی خدمات کا سراہا ہے ۔

    اس کے علاوہ روزنامہ اخبار” اوصاف” برطانیہ میں آپ کی وفات کی خبر شائع ہوئی ،جس میں برطانیہ میں ان کے محبین نے حافظ صاحب کی خدمات اور برطانیہ میں تراویح پڑھانے کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی وفات پررنج وغم اورتعزیت کا اظہارکیا ہے۔

    آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس حافظ قرآن کی تمام علمی ،دینی اور رفاہی خدمات کو شرف قبولیت بخشے ،بشری لغزشوں کومعاف فرماکرجنت الفردوس کا مکین بنائے،آمین۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ أَجْمَعِیْن

 

 

 

Leave a Comment