کیا مریخ پر پودوں کی کاشت ممکن ہے؟

جاويد اختر 

Can we grow food on Mars?

سائنسدان خلا میں سبزیوں کے کاشت کرنے کے طریقے دریافت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اس میں کے تحت اپنا زیادہ تر وقت خلا میں ہی صرف کر رہے ہیں ،

مریخ پر کھیتی

خاص طور پر ان کا ہدف مریخ  ہے مریخ ایک مشکل جگہ ہے ، وہاں ہوا کا وجود ہی نہیں ہے ، نیز وہاں کی مٹی میں کچھ بھی غذائی اجزاء شامل نہیں ہیں اس کے برعکس اس میں معدنیات اجزا بہت بھاری مقدار میں پائے جاتے ہیں ، اوسط درجہ حرارت صفر سے کم تقریناً مائینس ساٹھ ڈگری ہے۔

برطانوی اخبار  دی گارجین میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں مصنف  تیم لوئیس نے مستقبل میں کسی وقت مریخ پر غذائیں اگانے کا طریقہ تلاش کرنے والوں کی کوششوں کا جائزہ لیا ہے۔

مصنف نے ذکر کیا کہ نیدرلینڈ کی واگینیگن یونیورسٹی کے ایک ماہر ماحولیات  ڈاکٹر ویئیگر ویملنک نے چاند اور مریخ پر پودوں کی نشوونما کے متعلق نظریاتی روٹ میپ تیار کیا ہے۔

انہوں نے  نا سا کے ذریعہ تائید شدہ "مریخ کی مٹی کے نمونے” کی دستیابی کا فائدہ اٹھایا ، جو بنیادی طور پر زمین کی مٹی کےقدرے مماثل ہے اس مٹی کے نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تجربہ کیا کہ اس مٹی میں کن غذائی اجزاء کی کمی ہے لہذا اسے کیسے کار آمد بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپریل 2013 کے ابتدا ہی میں کچھ سبزیوں کو اگانے کے لئے ایک مہم کی شروعات کی تھی۔

اس تجربے سے ویئیگر کو زیادہ توقعات نہیں تھیں ، ان کا خیال تھا کہ مٹی میں موجود معدنیات سیسہ ، پارا اور زنک پانی کے ساتھ پودوں میں جذب ہوجائیں گے جس کے سبب سبزیاں زہریلی ہوجائیں گی۔

تاہم  ویئیگرسبزیوں کی نشوونما سے حیران تھے ، اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس نے بہت سارے معدنیات جذب نہیں کیں۔

اس ریسرچ کے بعد انہیں ایک حوصلہ ملا اور آئندہ سالوں میں  انہوں نے مٹی اور دیگر مواد میں نامیاتی مادے کو شامل کرکے اپنے تجربے کو مزید بہتر بنایا۔ انہوں نے اس تجربے کو مختلف قسم کی فصلوں تک بھی بڑھایا جس میں ٹماٹر ، مٹر ، مولی اور جڑی سبزیاں جیسی گاجر اور آلو شامل ہیں۔

ویئیگر ویملنک اپنے تجربات کی روشنی میں اظہارِ خيال کرتے ہوئے

فجی پروجیکٹ

اسی کے طرز پر ، فلوریڈا میں  ناسا  کے   کنیڈین خلائی سینٹر  میں نباتات کے ماہر ڈاکٹر جویا میسا ، "فجی” کے نام سے ناسا کے لئے سبزیوں کی تیاری کے پروجیکٹ پر کام کر رہی ہیں۔

2014 کے بعد سے شروع کیا گیا ، یہ پروجیکٹ لیٹش ، چینی گوبھی ، روسی سرخ شلجم ، میزونا سرسوں ، اور زینیا پھولوں کی تین اقسام میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے ، جہاں خلابازوں کو کچھ پودوں کو کھانے کی اجازت ہے ، اور دیگر جانچ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ، میسا نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ خلا میں لگائی جانے والی سبزیاں غذائیت سے بھرپور اور صحت بخش ہیں جو ہو ہو بہو زمین پر "فجی” ٹیم کے ذریعہ تیار کردہ فصلوں کی طرح ہیں

مصنف نے توجہ دلائی کہ فجی کے فصلوں کو اگانے کے نظام   ڈاکٹر ویئیگر  کے پروگرام سے مختلف ہے اور بہتر ہے، چاند اور مریخ پر ملتی جلتی مٹی کو استعمال کرنے کے بجائے میسا اور اس کی ٹیم کچھ ترمیم شدہ  ہیڈرولنک سسٹم   اپناتی ہے ، جہاں مائیکروگراٹی کے ضرب کو اس طریقہ کار میں لیا جاتا ہے۔

پودوں کو گرم اور خشک مٹی کے ٹھوس ظروف میں اگا جاتا ہے ، جو جڑوں کے آس پاس پانی اور آکسیجن کا روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے ساتھ ہی غذائی اجزاء فراہم کرنے کے لئے

کھاد اور روشنی کے بلب کا استعمال کیا جاتا ہے ،

میسا نے اعتراف کیا ہے کہ فجی میں کچھ نقائص ہیں ، اس سسٹم میں  بہت زیادہ وقت اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے

لیکن وہ اسے "ویملنک” پروگرام سے بہتر سمجھتی ہیں ، کیوں کہ ترمیم شدہ ہائیڈروپونکس نظام میں کارگزاروں کو خلا میں تازہ اور صحتمند کھانا مہیا کرنےمیں کافی مدد ملتی ہے

مزیدتحقیق جاری رکھنے کی ضرورت

مصنف نے تصدیق کی ہے کہ دونوں پروگرام مشترکہ نقطہ کی طرف لے جاتے ہیں ، جس پر تحقیق جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس نے کچھ تحقیق سست کردی گئی ہے لیکن اسے زیادہ دنوں تک التوا میں نہیں رکھا جائے گا۔

میسا اپنی ٹیم کے ساتھ کینیڈین خلائی سینٹر    میں دوبارہ کام شروع کریں گی ، ناسا کا بغیر پائلٹ پریسجن ڈرون ابھی 17 جولائی کو مریخ کے لئے روانہ ہونے والا ہے ، اور توقع ہے کہ فروری 2021 میں اس کی لینڈنگ ہوگی۔

جہاں تک    ڈاکٹر ویئیگر واملنک   کی بات ہے تو ان کا مقصد سالانہ ایک بڑا تجربہ کرنا ہے ، اور یہ  2020  کا  پہلا تجربہ ہے ، اور آگے بھی مزید تحقیق میں مصروف رہیں گے۔

Aljazeera

3 thoughts on “کیا مریخ پر پودوں کی کاشت ممکن ہے؟”

Leave a Comment