احمد فراز – اپنی شاعری کے آئینے میں

احمد فراز اردو زبان  کے ایک نامور اور مشہور شاعر تھے جن کا اصل نام سید احمد شاد تھا ان کی ولادت کوہاٹ پکستان میں ہوئی ان کی پیدائش کا سال 1931 ہے ان کی مادری زبان پشتو ہونے کے باوجود اردو زبان پر کامل نہ صرف یہ کہ عبور و دسترس رکھتے تھے بلکہ اعلی درجے کی شاعری بھی کرتے تھے وہ قدرتی طور پر اردو بولتے لکھتے اور پڑھتے تھے فراز اگرچہ پاکستانی شاعر تھے لیکن ان کے کلام کی لازوال خوشبو زمان و مکان کی تمام حدیں پار کرکے پوری دنیا میں پھیل گئی بچپن سے ہی ان کا میلان ادب کی طرف تھا خاص طور سے اردو شعر و ادب ان کا پسندیدہ موضوع تھا زمانہ تعلیمی سے ہی باقاعدہ شعر کہنے لگے تھے

ابتدامیں احمد فراز نے احمدشاہ کوہاٹی کے نام سے شاعری کی لیکن جب ان کئ کلام کی مقبولیت بڑھنے لگی تو اس وقت کے مشہور استاد شاعر فیض احمد فیض نے انہیں فراز تخلص اختیار کرنے کا مشورہ دیا ایک دن آخر یہی تخلص انہیں شہرت کی بلدیوں تک لے گیا

احمد فراز اپنے عہد کے ایک سچے فنکار تھے حق گوئی و بے باکی ان کی فطرت کا خاصہ تھا انہوں نے حکومت وقت کی بدعنوانیوں اور عوام کے ساتھ اس کی نا انصافیوں کے خلاف ہمیشہ کھل کر آواز بلد کی جس کے سبب انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں۔ فراز کی رومانوی شاعری میں احتجاج اور مزاحمتیی عناصر نے ان کے کلام کو عہد آفریں معنویت عطا کردی جو آنے والے ہر دور میں باطل اور ناانصافیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی رہے گی

احمد فراز اردو کے ایسے خوش الحان اور خوش بیان شاعر تھے جنہیں دنیا بھر میں منعقد ہونے والے شعری اجتماعات میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور مقبولت کی ان بلدیوں کو پہنچے جہاں تک ان کے عہد کا کوئی شاعر نہ پہنچ سکا

 احمد فراز کی شاعری کے تعلق سے ہم یہ قول نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں

احمد فراز ؔ اچھی شاعری میں موثر احتجاج کرسکتے ہیں ۔ سیاسی نعرہ بازی کے بغیر وہ فیض کی طرح رسیلی شعریت میں گھناؤنی زیادتیوں کے خلاف آوازاٹھاسکتے ہیں پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کا ہنر جانتے ہیں اور حواصلہ رکھتے ہیں جبرواستحصال کو للکار سکتے ہیں اور ریاکاری کو آئینہ دکھا سکتے ہیں ۔ احتجاج کی یہی خواہش ان کو اس دعا پر مجبور کرتی ہے ۔
؂ یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا میرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے ‘‘
(مسعود مفتی )

احمد فراز ایک سچے انسان نواز اور انصاف پسند فنکار تھے وہ ساری دنیا میں اعلی قدروں اور امن وانصاف پر مبنی نظام کے آرزو مند تھے ہر طرح کہ عصبیت اور تنگ نظری سے انہیں حد درجہ بیر تھی اگرچہ کہ وہ پاکستانی شاعر تھے لیکن ہندوستان میں ان کے قریبی دوستوں میں مسلمانوں سے زیادہ ہندو اصحاب شامل تھے۔ فراز ہندو پاک دوستی کے زبردست حامی تھے چنانچہ اس کے لئے وہ عملی طور پر بھی سرگرم رہے۔ ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ
میں ہندوستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں یہاں پاکستان سے زیادہ میرے چاہنے والے رہتے ہیں

فراز کی یہ بات صد فی صد درست ہے کیوں کہ وہ ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کی ڈھڑکن ہیں اور اپنی شاعر کے عنوان سے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے۔ ان کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہاسکامیہ میں ان پر پی ایچ ڈی کامقالہ   لکھا گیا جس کا موضوع احمد فراز کی غزل ہے۔ بہاولپور( پاکستان ) میں بھی احمد فراز فن اور شخصیت کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،، ،ہندی، یوگوسلاوی، روسی، جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں

آخر زبان و ادب کا یہ درخشاں ستارہ ستہترسال کی عمر میں غروب ہو گیا

کلام کے مجموعے

احمد فراز کے کلام کے بہت سارے مجموعے شائع ہوچکے ہیں جو درج ذیل ہیں

تنہا تنہا
دردِ آشوب
شب خون
نایافت
میرے خواب ریزہ ریزہ
بے آواز گلی کوچوں میں
نابینا شہر میں آئینہ
پسِ اندازِ موسم
سب آوازیں میری ہیں
خوابِ گُل پریشاں ہے
بودلک
غزل بہانہ کروں
جاناں جاناں

نمونہ کلام

مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں
وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں
اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں
ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں
بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں
فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں