ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن صہبا اعظمی عمری کا سانحہ ارتحال

فیضان اشرف سلفی مؤناتھ بھنجن یوپی ۔ موبائل 89532729243

میرے خانوادے کے مشہور عالم دین شیخ الحدیث ومفتی مولانا عزیزالحق عمری کی رحلت کے صدمے سے ہم ابھی سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ ایک اور عظیم صدمہ اور کاری زخم ہمارا منتظر تھا کہ  صبح میں عمرآباد سے ابراہیم اعظمی بھائی نے۳ دسمبر ۲۰۲۰کی صبح واٹ شاپ کیا کہ مولانا ضیاء الرحمن اعظمی عمری اس دار فانی سے کوچ کرگئے ہیں،

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ابھی چند مہینہ پہلے دادا محترم حافظ حفیظ الرحمٰن اعظمی عمری مدنی سے چچا ضیاء الرحمٰن کے حالات کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو آپ نے چند باتیں تعارف کرائیں تھی ،اسی چند باتوں کو میں لکھ رہا ہوں ۔

نام ونسب

مولانا ضیاء الرحمٰن اعظمی عمری بن مولانا عبدالسبحان اعظمی عمری بن مولانا نعمان اعظمی بن عبدالرحمن شہید بن مولانا حکیم جمال الدین بن شیخ ببوا حکیم بن حاجی ڈومن.

والدہ کا نام ونسب زاہدہ خاتون بنت عبدالباری بن مولانا حکیم عبد المجید بن حاجی عبد الحفیظ سوداگر بن مولانا حکیم جمال الدین بن شیخ ببوا حکیم بن حاجی ڈومن.

آپ کی  پیدائش کا سال ۱۹۳۷ یا ۱۹۳۸ ہے، صہبا آپ کا تخلص ہے۔

مولانا عبدالسبحان اعظمی عمری کی چھے نرینہ اولاد ہیں، ضیاءالرحمٰن صاحب کا نمبر دوسرا ہے ،عہد طفولیت ہی سے ذہانت و فطانت کے آثار نمایاں تھے،ہمیشہ کچھ بنانے اور ایجاد کرنے کے بارے میں نہ صرف سوچتے تھے بلکہ تیلیوں، لکڑیوں ،تاروں سے ،ٹین اور دفتی سے کوئی نہ کوئی مشین تیار کرنے کی فکر میں رہتے تھے ،احباب نے ٫٫غریب سائنسٹس،، کا نام دے رکھا تھا،جھینگے ،مینڈک اور بندر وغیرہ پر کچھ تحقیق اور آپریشن کا شوق بھی آزماتے تھے ۔بہر حال سوچ تعمیری تھی ،حوصلے بلند رہے ،مگر وہ جو کہا جاتا ہے ہر چیز کا ماہر آخر کار بے کار ہی ہوجاتا ہے ،یہی ان کے ساتھ بھی ہوا۔

جامعہ دارالسلام عمرآباد سے فضیلت کی سند درجۂ اول سے سن ۱۹۵۷ءمیں حاصل کی،انگریزی کے امتحانات انہوں نے  اپنی ذاتی محنت سے  پاس کرلیا،کرنول طبیہ کالج میں داخل ہوئے ،پانچ سالہ نصاب درجۂ اول سے کامیاب کرکے طبیب کامل کی سند حاصل کی۔

جامعہ دارالسلام کے مطب میں کبھی اپنے والد صاحب کی نیابت میں معالج بھی ہوا کرتے تھے،جامعہ ہی میں انگریزی ،ریاضی اور سائنس کے چند سال استاذ رہے ،مولانا عمران اعظمی عمری اور ان کے ساتھیوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے یونیورسٹی میں داخلے  کےسلسلے میں اہلیتی  امتحان میں کامیابی تک پہنچانے میں  آپ کی کوششوں کا بڑا عمل دخل رہا ،آپ کے آگے کام کے کئی میدان تھے اور کوئی کام آپ کے لئے مشکل نہ تھا ،مگر زندگی طبع آزما بنی ہوئی تھی ،کوئی کام جم کر نہیں کر سکے ، گھڑی مرمت کرنے میں مہارت تھی اسی کی دوکان لگا کر بیٹھ گئے اور اسی کے ہوگئے ،شادی بھی نہیں کی ۔

شعر گوئی کا شغف

شاعری میں کمال حاصل تھا،مشکل بحور میں شعر کہتے تھے اور بہت کامیاب تھے ،قویٰ جب تک قوِی اور مضبوط تھے خوب سفر کیا ،سیر وتفریح کی ،خارجی مطالعہ اور معلومات میں کسی سے کم نہ تھے ، گزشتہ چار سالوں اکتوبر۲۰۱۶ء سے فریش تھے، سماعت وبصارت برائے نام رہ گئی ،مرد میدان تھے ، بستر لازم پکڑ چکے تھے ،بالآخر وقت موعود آپہونچا جہاں ہم سب کو جانا ہے۔

 مولانا وڈاکٹر ضیاء الرحمٰن صہبا اعظمی عمری ان کے والد محترم مولانا وحکیم  عبد السبحان ذاکرانصاری اعظمی عمری اور  دادا محترم مولانا محمد نعمان ناصح اعظمی جامعہ دارالسلام عمرآباد ميں تدریسی فرائض انجام دے چکے ہیں ،جامعہ میں ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ دادا ،بیٹے اور پوتے ایک ساتھ مجلسوں کی زینت ہواکرتے تھے لیکن اب دارالسلام میں اعظمی خانوادے کے دواستاذ کو چھوڑ کر سب  عمرآباد سے خلدآباد جاچکے ہیں،اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے۔آمین

صہبا اعظمی اور ان کے والد،چچازاہد اعظمی،رونق اعظمی اور دادا ناصح اعظمی ،قدسی اعظمی کو شاعری میں کمال حاصل تھا،آج سے 22سال قبل 26/اپریل 1998ءمیں صہبااعظمی کے قلم سے لکھی ہوئی ایک غزل ہدیہ قارئین کی جارہی ہے۔

میری شام شامِ غم ہےمیری صبح صبحِ ماتم
غم دوجہان گویا میرے غم کی داستاں ہے

کہیں آسراتو ملتا ، کبھی کچھ  سکون  ملتا
یہ کہاں کی زندگی ہے کہ قدم قدم گراں ہے

مجھے تجھ سے کیا ہو نسبت تو جداہے میں جداہوں
میں ہوں سربسرکشاکش تو سکون بے کراں ہے

تو چمن کا رازداں ہے میں چمن میں اجنبی ہوں
تو بہارِ مستقل ہے میری زندگی خزاں ہے

جو ہر اک نظر میں کھٹکے میں وہ خار بے خطاہوں
جو ترس رہی ہو لب کو وہی میری داستان ہے

تجھے کیا سناؤں صہبامیری زندگی کا عالم
نہ تو اختیار دل پہ نہ تو بس میں اب زباں ہے

Leave a Comment