حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

مولاناعزیزالحق عمری رحمۃ اللہ علیہ

فیضان اشرف مؤناتھ بھنجن یوپی ۔ موبائل 89532729243

    مؤشہر علمی اور ادبی میدان میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے ، اس شہر میں جہاں بہت سارے علماء، فضلاء،ادباء وشعراء پیدا ہوئے انہیں میں سے ایک ذہین وفطین ،محقق،مؤلف ،مترجم اور عربی ،اردو ،فارسی ،ھندی اور سنسکرت زبان میں عبور رکھنے والے مولاناعزیز الحق عمری بھی ہیں جو٨١/سال کی عمر میں یکم دسمبر٢٠٢٠ء بروز منگل اس دارفانی سے بقاکی طرف کوچ کرگئے ،اِنّاللّٰہِ واِنا اِلیہِ رَاجعوْن

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا  
 شہر میں اک چراغ تھانہ رہا     

آپ کا گھرانہ اپنی علمی،فکری ،تالیفی،تدریسی ،صحافتی اور سماجی خدمات کا ایک طویل ریکارڈ رکھتا ہے ،اگر یہ کہا جائے کہ بر صغیر میں کسی دوسرے علمی خانوادہ کی اس قدروسیع وعریض خدمات نہیں ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا،فی الحال اس خانوادے میں موجودین علماء کرام کی تعداد تقریبا٨٣ اور مرحومین کی تعداد ٣٨ ہے گویاآپ کا خانوادہ ”ایں خانہ ہمہ چراغ است” کے مصداق ہے۔

    نام ونسب

عزیز الحق بن محمدیونس بن مولاناحکیم محمدابراہیم بن عبد الرحمن شہید (رئیس مؤ)بن حکیم جمال الدین بن شیخ ببوا حکیم بن حاجی ڈومن رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔

    والدہ کا نام فاطمہ خاتون بنت حاجی عبدالرحمن ہے جن کا تعلق محلہ کھیدوپورہ مؤ سے ہے۔
    پیدائش :١٢/ستمبر١٩٣٩ء۔

    خاندانی پس منظر

 مولانا مرحوم شمالی ہند کے مشہور مردم خیز شہر مؤناتھ بھنجن کے ایک علمی ودینی خانوادے کے ہونہار چشم وچراغ تھے ،نام ونسب میں آخری نام حاجی ڈومن ہے ان کا اصل نام کیا تھا معلوم نہیں ہوسکا البتہ خانوادہ کے برزگوں نے بتایا ہے کہ وہ حاجی ڈیومن ہے ۔اسی طرح شیخ ببوا حکیم کا اصل نام کیا تھا معلوم نہیں ہوسکا لیکن خانوادہ کے بزرگوں نے بتایا ہے کہ پیار کی زبان میں لوگ ببوا کہتے تھے ،معلوم ہوتا ہے کہ اس پیارے بھرے لفظ کے آگے اصل نام مفقود ہوگیا۔

    ایسے ہی مولانا حکیم جمال الدین جو مولوی جمال الدین یا حاجی جمن کے نام سے پکارے جاتے یا یاد کئے جاتے تھے،آپ کی تاریخ پیدائش اور وفات اور آپ کی تعلیم اور حالات ومعمولات کے سراغ لگانے میں ہمیں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا،البتہ مولانا کی زندگی کا معمول پڑھنے پڑھانے اور طب یونانی کے ذریعہ عوامی خدمت پر موقوف تھا ،تذکرہ علماء اعظم گڈھ میں ”مولانا عبدالغفار مؤی ” کے عنوان سے آٹھ صفحات پر ان کی خود نوشت سوانح حیات کی مفصل تلخیص شائع ہوئی ہے اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ استاذ العلماء مولانا عبدالغفار مؤی کے استاذ اول مولانا جمال الدین مؤی ہیں ،آپ کی مقبولیت کا ندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس محلہ میں آپ کا قیام تھا اسے آپ کی طرف منسوب کرکے جمال پورہ کے نام سے موسوم کردیا گیا ۔

    آپ کے پرداداعبدالرحمن شہید تھے،جوکپڑوں کے کامیاب تاجر ،انتہائی دین داراور دینی خدمت کا جذبہ رکھنے والے تھے ،حاجی عبدالرحمن شہید انتہائی متدین ،موحد خداترس اور علم دوست بزرگ تھے ،آپ کو دینی علوم کی نشرواشاعت سے گہری دلچسپ تھی ،آپ کپڑوں کے ایک کامیاب تاجر تھے ،پہلے آپ کا کاروبار دہلی میں تھا،پھر اس کو وطن منتقل کرلیا۔

    حاجی شہید ؒ ایک مرتبہ رات کے وقت سفر سے گھر لوٹ رہے تھے راستے میں کچھ غیر مسلم اپنے کسی دشمن کے گھات میں تھے ،رات کے اندھیرے میں غلط فہمی کی وجہ سے آپ ہی کو اپنا وہ دشمن سمجھ کرحملہ کرکے آپ کو شہید کردیا۔آپ کی ذات اپنے بلند اخلاق اور بہترین اوصاف کی وجہ سے مسلمانوں اور ہندؤں میں بڑی ہر دل عزیز تھی لہٰذا ہر کسی نے اس دردناک حادثے کے صدمے کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔خانوادہ کے برزگوں کے بقول اعظم گڈھ میں شبلی نیشنل کالج اعؑظم کے قریب کربلا کے میدان میں روضہ گنج شہیداں میں مدفون ہیں ،راقم السطور نے وہاں جاکر دعاء مغفرت کی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ نے عبدالرحمن شہید ؒ کوچار بیٹے عطاکئے تھے جو انتہائی ذہین فطین تھے اور چاروں ماشاء اللہ عالم دین بنے سب سے بڑے مولاناحامد(متوفیٰ١٩١٣ء)،ان سے چھوٹے شیخ الحدیث مولانامحمد نعمان اعظمی (متوفیٰ١٩٥١ء)،ان سے چھوٹے مولانا حکیم محمد ابراہیم(١٩١٨ء) اور سب چھوٹے شیخ الحدیث مولانامحمد علی ابوالقاسم قدسیؔ (متوفیٰ۱۳۷۳ھ)رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔

ان چاروں کا ذکر مولاناعبد الرحمن آزاد نے ایک شعر میں کیا تھا،جس سے ان کی ہردل عزیزی کا ثبوت ملتا تھا ؎

علی ،حامد،نعمان ،ابراھیم اخوان
فاللّٰھم  أکرمھم  جمیعاًأینما  کانوا

  اول الذکر مولانا حامد اورمولانانعمان اعظمی کو محدث دوراں حافظ عبداللہ غازی پوری رحمۃ اللہ علیہ اورمحدث زماں شیخ الکل سید میاں نذیرحسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اورشمس العلماء ڈپٹی نذیراحمد سے شرف تلمذ حاصل تھا۔

    تفصیل کے لئے دیکھئے :تذکرہ مؤی تلامذہ ئ شیخ الکل میاں صاحب( ؒسید محمد نذیر حسین محدث دہلوی ؒ)،ترتیب محفوظ الرحمن فیضی، ناشر مدرسہ فیضان الاسلام نعمت نگر محسن پورہ مؤ ناتھ بھنجن یوپی٢٠١٧ء)اس کے علاوہ ”الحیاۃ بعد المماۃ”میں تلامذہ میاں صاحب کی فہرست میں مولاناحامد صاحب کا نام شمار نمبر٣٧٣پراورمولانانعمان صاحب کا٣٧٤پر ہے۔

    صاحب تذکرہ مولاناعزیزالحق عمری اپنی خود نوشت میں رقم طراز ہیں کہ :

    ”میرے دادا رنگ کی تجارت کرتے تھے اور مدرسہ عالیہ جمال پورہ کی مسجد کے امام ومتولی تھے اور ابھی جواں سال تھے کہ اپنے پانچ یتیم فرزندوں کوایک بیوہ کے ساتھ چھوڑ گئے یہی وجہ ہے کہ میرے والد اور ان کے بھائیوں میں کوئی عالم نہیں ہوسکا،لیکن میرے والد کو ہمیشہ اپنے فرزندوں کو عالم دین بنانے کا شوق رہا،میرے اور میرے بھائی مولوی شمش الحق کے سواکوئی فراغت تک تعلیم نہیں حاصل کرسکاکیونکہ ستمبر١٩٦٦ء میں ہمارے والد بھی وفات پاگئے ہاں ماسٹراسرارالحق ضرور منشی اور انٹر تک تعلیم حاصل کرسکے اور مدرسہ دارالتعلیم مبارک پورمیں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں”(ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ئ،مرتب مولانا عبدالحکیم عبدالمعبود مدنی ص:٤٩١)

    مدرسہ عالیہ جمال پورہ کی مسجد اب احناف کے قبضہ میں ہوگئی ہے اور مدرسہ عالیہ جمال پورہ پہلے طلباء کا ہاسٹل تھا مگر اب اس میں نرسری بچوں کی تعلیم ہورہی ہے،مولاناممدوح کے چھوٹے بھائی مولاناشمش الحق فیض عام سے فارغ التحصیل ہیں اور مدرسہ عالیہ کے سابق استاذ ہیں اور جناب ماسٹر اسرارمدرسہ دارالتعلیم مبارکپور کے استاذ ہیں ۔

    تعلیم تربیت

مولانااپنی تعلیم وتربیت کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ:

    ”میرے والد غریب لیکن کثیر الاولاد تھے ، ان کے کل چھ بیٹے اور چار بیٹیوں میں میں دوسرا تھا،جب کچھ شعور ہواتواپنی ماں فاطمہ خاتون سے قاعدہ اور پھر قرآن پڑھا،بعدہ، مدرسہ عالیہ میں داخل ہوااور قاری خلیل الرحمن صاحب کو قرآن پاک ناظرہ سنایا،اس کے بعد اردو پھر فارسی گلستاں ،بوستاں ،یوسف زلیخا،اخلاق محسنی وسکندر نامہ مولوی سعید احمد صاحب سے پڑھا،اس زمانے میں پرائمری کا وجود نہیں تھااوران کے جانے کے بعد دوران سال ہی میزان اور نحو میر پڑھنے لگا،ڈیڑھ سال پڑھ کر جامعہ رحمانیہ بنارس میں جماعت ثالثہ میں داخل ہوااور وہاں کے اساتذہ سے مختلف علوم وفنون میں خوشہ چینی کرتا رہا،پھر۱۹۶۱ء سے ء۱۹۶۳ تک جامعہ دارالسلام عمرآباد میں حدیث وتفسیراور ادب وغیرہ فنون میں اپنے پیارے اور شفیق اساتذہئ کرام سے فیض پاکر سند فراغت حاصل کیااور مؤآیااو ر سنسکرت مہاودیالیہ مؤ میں سنسکرت پڑھنے لگااور ڈیڑھ سال کے بعدجب شبینہ اسکول بند ہوگیا تومیری تعلیم کا سلسلہ بھی کٹ گیا،دوران تدریس مسلم یونیورسٹی علی گڈھ سے عربی میں ایم ۔اے بھی کیا۔(ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء،مرتب مولانا عبدالحکیم عبدالمعبود مدنی ص:٤٩١)

    جامعہ رحمانیہ بنارس میں پڑھنے کے دوران الہ آباد بورڈ سے عالم اور عمرآباد سے واپسی کے بعدجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ سے فاضل ادب کا امتحان دیااور دوران تدریس منشی ،کامل،فاضل دینیات،فاضل ادب،فاضل طب اور ادیب کامل کے امتحانات پرائیویٹ طور پر دیئے اس کے علاوہ عمرآباد میں دورانِ تعلیم مدراس یونیورسٹی سے” افضل العلماء ”کاامتحان دیئے تھے مگر مکمل نہیں ہے،نیز ہومیوپیتھک کی ڈپلوماسند بھی حاصل کی۔

    اساتذۂ کرام

آپ نے اپنے وقت میں جن مایہ ناز ہستیوں سے تعلیم حاصل کی تھی ان میں سے چند یہ ہیں:

    ١۔محدث عصر مولانا فضل الرحمن رحمانی،٢۔مولاناومفتی عبدالعزیزاعظمی عمری،٣۔مولاناعبدالوحید رحمانی،٤۔حافظ عبدالواجد رحمانی پیارم پیٹ،٥۔مولاناعبدالسبحان اعظمی عمری ،٦۔استاذادب وتفسیر مولاناغضنفر حسین شاکرنائطی،٧۔مولاناسید امین وسید عبدالکبیررحمۃ اللہ علیہم اجمعین ،
    اول الذکر تین جامعہ رحمانیہ بنارس کے اساتذ ہ تھے اور مؤخر الذکر دارلسلام عمرآبادکے اساتذہ تھے،اللہ رب العالمین سے دعا ء ہے ان تمام اساتذہ کرام کی خدمات قبول فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے،آمین

    آپ کے سنسکرت کے ٹیچرپنڈت وشوناتھ ترپاٹھی تھے ۔

        رفقاء درس

جامعہ رحمانیہ بنارس کے رفقاء درس میں سے ایک مولانامحمد سعید مبارکپوری ہیں اور عمرآباد کے رفقاء درس میں شیخ انیس الرحمن اعظمی عمری مدنی ،مولانا ابوالخیر مدراسی،مولانا عبدالرحیم فا مدراسی ،مولانا سید امین عمری وغیرہ۔

    تدریسی خدمات

فراغت کے فوراً بعدآپ تدریس میں لگ گئے تھے اور یہ سلسلہ بیماری تک چلتا رہا،جیساکہ خود مولانارقم طراز ہیں:    ”مدرسہ عالیہ مؤ میں ١٩٦٤ء میں مولوی عبدالأحد صاحب کے اصراراور اپنے والد کے ایماء پردرجہ منشی کے معیار کو بلند کرنے کے لئے مجھے رکھا گیا،میں نے اس کے کورس کو تین سال میں تقسیم کرکے منشی وکامل میں سو فیصد بچوں کو الہٰ آباد بورڈ کے امتحان میں پاس کرایا،میں نے درخواست کی کہ مجھے کوئی عربی کتاب دی جائے لیکن اس کی سنوائی نہیں ہوئی ،اس لئے ١٩٦٨ء میں مدرسہ فیض العلوم سیونی چلا گیاچونکہ وہاں صرف تین ہی جماعت تک تعلیم تھی اور کتابوں کا ذخیرہ بھی نہ تھااس لئے آٹھ ہی مہینہ کے بعد مؤواپس آگیا١٩٦میں مجھے یکایک مدرسہ عالیہ کے صدر مولوی منظور الحسن صاحب والد فضاؔابن فیضی کا ایک رقعہ ملاکہ آپ فی الفور مدرسے میں جاکر کار مفوضہ انجام دیں ،میں مدرسہ پہونچا توچار طلبہ درس گاہ میں سنن ابوداو،د لے کر بیٹھے ہوئے تھے اور میں نے انہیں درس دیا،درس پورا ہونے تک مجاز اعظمی صاحب اور مدرسے کے ایک رکن وہاں بیٹھے ہوئے تھے پھر یہ فرمائش کی کہ اب جو طلبہ آئیں گے پڑھا ئیے گااور دنوں اٹھ کر چلےگئے ، اس کے بعد میں مستقل مدرس ہوگیااور پانچویں جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو پڑھاتا رہااورالہٰ آباد بورڈ کے امتحانات مولوی ،عالم ،فاضل کی تیاری کراتااورامتحان دلاتا رہا ١٩٨٥ء میں مجھے مدرسہ سے سبکدوش کردیاگیا”
    (ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء ص٤٩٢)

     آپ نے جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ میں بھی تدریسی فریضہانجام دیا ساتھ ہی ساتھ جامعہ کے ”ماہنامہ مجلہ آثار جدید” کے اڈیٹر بھی رہے اور مولانااحمد صاحب ؒکے ریٹائر ہونے کے بعد شیخ الحدیث بنائے گئے ،پھر وہاں سے استعفیٰ دینے کے بعد مولاناارشد مختارمحمدی کی دعوت پر ”کلیہ فاطمۃ الزھراء للبنات مؤ”تدریسی فریضہ انجام دیئے اور جب سے بیماری الحق ہوگئی تو تدریسی سلسلہ چھوٹ گیا۔

    تلامذہ

آپ کے تلامذہ مؤ اور اطراف مؤ میں بے شمار ہیں جن میں سے مؤ چندتلامذہ کے اسماء گرامی یہ ہیں :
    مولانا ابوسفیان مدنی (شیخ الجامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ)مولانا ابوالقاسم مدنی(استاذجامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ)مولانا سعود احمددمدنی (استاذجامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ)مولانا رفیق احمد سلفی (استاذ جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)مولانا ضیاء الحسن سلفی(استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) ،مولانا مظہر اعظمی(استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) ،مولانا وحید رضا فیضی(استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ)،مولانا تنویر احمد عالی(استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) ،مولانا رشید الزماں مدنی (استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) ،مولانا عبدالرحمن عالی(استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) ،مولاناابوالہاشم عالی (استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) ،مولانا حبیب الرحمن عالی (استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) مولانا عزیز الرحمن سلفی (استاذ جامعہ محمدیہ کھیدوپورہ مؤ)،مولانا اعجاز احمد سلفی(استاذ جامعہ محمدیہ کھیدوپورہ مؤ)،مولانا ذکی انورمدنی (استاذمدرسہ دارالتعلیم مؤ)،مولانا عزیر سلفی (استاذ کلیہ فاطمۃ الزہراء الاسلامیہ للبنات مؤ) شیخ حافظ عقیل مدنی (شارجہ) وغیرہ۔

    تالیفی وتصنیفی خدمات

مولانااپنی تالیفات،رسائل ،مضامین ومقالات اور تراجم کے بارے میںرقم طراز ہیں کہ:

    ”میں نے جامعہ دارلسلام عمرآباد ہی سے فیصلہ کیا تھاکہ غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت کا کام کروں گااس لئے سنسکرت پڑھی اور کئی سالوں سے شرحوں کی مدد سے رگ وید اور گیتااور دوسری ہندی کتب کی مددسے ہندو عقائد وتہذیب اور تاریخوں کا مطالعہ کیا اور کچھ رسائل وپمفلٹ بھی لکھے جن کا غیر مسلموں پراچھا اثر ہوا،جیسے :ستیہ دھرم ایک یا انیک ،ستیہ دھرم کی کھوج ،مانودھرم اور جاتیواد،تیسویں پارے کا ہندی ترجمہ،پوتر جیون،انتم مہااشدوت مارگ درشن،مسنون دعائیں۔

    اردودعوتی کتابیں تقریباً٢١ /ہیں جو عربی قصوں کے ترجمے ہیں ،ان کے علاوہ تقریروں اور درسی کتب کے ترجموں وغیرہ کی تعداداسی(٨٠) سے زیادہ ہیں جن میں اکثر کی اشاعت دوسرے ناموں سے ہوئی ہے۔

    تفسیراحسن البیان کے ہندی ترجمہ میںمیری شرکت رہی ہے بلکہ اس کے دس پاروں کا ترجمہ اور پورے ترجمے پر نظرثانی میرے مقدر میں رہی ہے او رایک پوراترجمہ برادرمکرم محمد ضیاء الرحمن العمری صاحب کے اشراف میں ہواہے اور اس وقت ان کے قرآن کے ہندی انسائیکلو پیڈیاکا اردوترجمہ ،پروف ریڈنگ کے دورسے گزر رہا ہے چونکہ اس وقت ران کے شدید پھوڑے اور اس کے آپریشن کی وجہ سے تقریباًڈیڑھ ماہ سے بستر علالت پر ہوں ورنہ یہ مکمل ہوگیا ہوتا،”القول المحقق” اور ”الدین الخالص ”حصہ اول کا اردوترجمہ بھی نظر ثانی اور پروف ریڈنگ کا انتظار کر رہا ہے۔فی الحال اپنی علالت کی وجہ سے اپنی ستائش میں کچھ کہنے سے قاصرہوں ،جو کچھ میں نے کیا ہے اپنے علم کا فرض اداکرنے اور اپنے والدین اور اساتذہ اور اپنے لئے ذخیرہئ آخرت بنانے کے لئے لکھا ہے”
    (ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء ص٤٩٢)

    مولانانے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ :”دوران دریس میں نے دو کتابیں شرح العقائدکا نوٹ دررالفرائد کے نام سے اور اصحاب المعلقات لکھی ”
    اس کے علاوہ مولانا کی کچھ کتابیں میں نے پڑھی اور دیکھی ہیں

    تراجم

ادب الخلاف،الحمل فی زکاۃ العمل ،تلبیس مردود،کتاب الجنائزالبانی ،طریقۃ المتقین ،صلوٰۃ التراویح ،پاکدانی کیوں اور کیسے ؟ محمدی زیور ،وغیرہ۔
    تالیفات:نبوت محمدیہ ،توجا پڑا ہے بہت دور اپنی منزل سے ،دوستی اور دشمنی کا قرآنی معیار ، ،اربعین حدیثا۔۔۔،جادواور آسیب کا کامیاب علاج،علمی تقریریں ،سود اور اسلام،جائز تنقید،۔وغیرہ۔

    مضامین ومقالات

مولاناایک اچھے صحافی تھے آپ کوزمانۂ طالب علمی ہی سے لکھنے کی دلچسپی تھی اور یہ سلسلہ ہمیشہ رہا ہے،جیسا کہ مولانارقم طراز ہیں:

    ”مجھے ابتداء سے لکھنے کی دلچسپی تھی اور عمرآباد میںرہتے ہوئے ”الشفاء فی رد نکا ح یوسف وزلیخا”کے عنوان سے ایک مقالہ لکھاجس کی ایک ہی قسط اخبار ”مسلمان بنگلور”سے چھپ سکی اور اس پر احتجاجات ہونے لگے اس لئے اس اڈیٹر نے عمرآباد آکرمیرے مقالے کی اشاعت سے معذرت کردی جسے ”مجلہ ترجمان ”میں مکمل کیا گیااس کے بعد برابر”ترجمان میں اور” محدث ” بنارس نکلنے کے بعد سے اس میں مضامین لکھنے لگا اور دلی سے ”نوائے اسلام ”شائع ہواتواس میں برابرمضامین لکھتا رہا،اس کے سوا”آثار جدید”جامعہ اثریہ دارالحدیث کا بار تومیرے ہی ناتواں کندھوں پر ہے،میں نے انگنت مضامین اور مقالے لکھے اور کئی جمعہ وعیدین کے خطبے دیئے”     
    (ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء ص٤٩٢)

    مولاناعزیزعمرسلفی کے بقول :”مجلہ نوائے اسلام دہلی ”میں جب سے اس کی اشاعت ہورہی ہے ”نوائے قرآن” کے نام سے درس قرآن بلاناغہ لکھے ہیں،نیز دوسال تک اردوہفتہ وار”حالات” کی ادارت بھی آپ نے سنبھالی۔

    مولانا کے اگر سب مضامین اور مقالات یکجاکئے جائیں تومختلف موضوعات پر ایک قیمتی ذخیرہ تیار ہوجائے۔

    عمری صاحب بحیثیت خطیب

آپ بے باک خطیب تھے حق بات بولتے تھے جب سے میں نے ہوش سنبھالااس وقت سے لے کر تقریباً١٩٩٩ء تک میرے گھر کے پاس ڈومن پورہ شمال والی مسجد میںجمعے کے خطبے اور جمال پورہ عیدگاہ میں عیدین کے خطبے بلا ناغہ آپ ہی دیتے تھے ،حالات حاضرہ پر ایسا خطبہ دیتے تھے کی آپ کی شہرت پورے مؤمیں تھی اپنے محلہ کے لوگوں سے پہلے خطبہ سننے کے لئے دوسرے محلہ کے لوگ آجاتے تھے جس کی وجہ سے مسجد اور عید گاہ تنگی کا شکوہ کرتی تھی ،وہاں سے چھوڑنے کے بعد شایدکبھی کبھی بنکر کالونی مؤ میں خطبہ دیتے تھے ۔مولانااپنی خود نوشت میں رقم طراز ہیں کہ

    ”جامعہ دارالحدیث میں چونکہ میں خطیب تھافراغت کے بعد عمرآباد سے مؤ آیا تویہاں دیکھا کہ اہل حدیث کی شناخت کمیونسٹ سے ہوتی ہے،اس لئے میں ابتداء ہی میں” کمیونزم اور اسلام ”ایک خطبہ دیاجس کی وجہ سے مجھے سخت لعن طعن کاسامنا کرنا پڑااور ناظم ومدرس نے مجھے اس عنوان پرکچھ بولنے سے روک دیا”
(ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء ص٤٩٢)

    دینی وسماجی خدمات:آپ تدریسی،تالیفی اوردعوتی خدمات کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات بھی کیا کرتے تھے ،جیساکہ مولاناکے خودنوشت میں مذکور ہے کہ ”جب ١٩٦٦ء میں ڈاکٹرفریدی نے مجلس مشاورت اور ١٩٦٨ء میں مسلم مجلس بنائی تومیں اس کا ممبر بن گیا”

    ١٩٩٣ء میں ”معہدالسنۃ للتربیۃ والاسلامیۃ ”کے نام سے قوم کے بچے اور بچیوں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا جس کامقصد مسلم بچوں کو مغربی تہذیب سے بچاکردین کے بنیادی عقائداور تربیت کے ساتھ جدیدتعلیم دینالیکن یہ اسکول بہت پہلے بند ہوچکا ہے،اسکول کی آفس ڈومن پورہ شمال والی مسجد کے سامنے ایک کھپریل کی تھی جس میں آپ اسکول کی نظامت کے ساتھ ساتھ ”ہومیوپیتھ”کے ذریعہ علاج بھی کرتے تھے ،اسی آفس سے طلاق اور وراثت کے مسائل بھی حل کرتے تھے ،اسی آفس میں میں نے دیکھا ہے کہ ایک صاحب کو روزانہ عصربعد قرآن پاک کا ترجمہ پڑھارہے ہیںاور ہمارے محلہ کے چند نوجوان جو کچھ تعلیم حاصل کرکے چھوڑ دیئے تھے ان کو اسی مسجد پر تعلیم دیتے تھے ۔

    حلیہ اورعادات

آپ کی طبیعت میں بڑی سادگی تھی،لمباقد،لمباچہرہ ،پھریرابدن، گھنی داڑھی اورپست آوازمیں کلام کرتے تھے ، لباس بڑاسادہ پہنتے تھے مدرسہ میں ہوں یا آفس میں یا گھر پرہوں وہی سادہ کرتا لنگی اور کپڑے والی دوپلی ٹوپی ہوتی تھی،البتہ جب عیدین کے خطبے کے موقع پرکتھئی رنگ کا جبہ پہنتے تھے جوعمرآباد کے فارغین کو ملتا ہے،زیب وزینت اور تکلف سے اتنے بے پرواہ کہ اجنبی اورناآشناکے لئے ان میں ادنیٰ آدمی میں امتیازمشکل تھا،غیرمعمولی صلاحیت کے باؤجود کبر وغرور چھوانہیں تھا،پان کھانے کا ہمیشہ معمول رہااور کپڑے پر پان کے چھینٹے سے کوئی مطلب نہیں تھا،مچھلی کاشکار خوب کرتے تھے ،حسب ضرورت باتوں میں محاوروں اور مقولوں کا استعمال کرتے تھے اور اپنی باتوں لطیفوں اور چٹکلوں کے ذریعہ ہنساتے تھے ،جیساکہ جامعہ اثریہ کے ایک طالب علم نے مجھے بتایاکہ :”دوران تعلیم آپ ہی کے ایک شاگرد نے آپ کا شیخ کہہ دیاتوآپ نے کہا :یہاں کوئی شیخ نہیں ہے شیخ کی کمپنی سعودی میں ہے”وقت کی تعین کے بغیر لکھنے پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوجاتاجو کئی کئی گھنٹوں جاری رہتا،خط بہت صاف تھا لکھنے میں خوش خطی خاص اہتما م ہے،کتابیں اورمضامین لکھ کر خود ارسال کردیتے ،لکھنے یا پڑھنے کے لئے میزکرسی کا بھی اہتمام نہیں کیابارہاآپ کے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہے میں نے دیکھا ہے کہ بیٹھک میں ایک چارپائی پر اپنے پاؤں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں اورآپ کے اردگردکتابیں بکھری ہیں،مطالعہ بیٹھ کر کرتے تھے ،ٹیک لگاکر یا لیٹ کر ہرگز نہیں کرتے تھے۔

    مولانا کا ایک وصف صبر وضبط تھاپرائیویٹ تنخواہ پر اکتفاء کرتے تھے مگردوسروں کو مبعوث ضرورکرائے حالانکہ آپ کے گھریلوحالات مالی اعتبارسے بہت اچھے نہیں تھے پاورلوم ہی آپ کی روزی روٹی کا ذریعہ تھا۔

    اسفار

مولانا زیادہ ترگھر ہی رہے ہیں کبھی کبھی اسفاربھی کئے ہیں،٢٠٠٥ء میں قرآن کے ہندی ترجمہ کے سلسلے میں سعودی عرب بلائے گئے تھے مگرتقریباًڈیڑہ ماہ بعد واپس چلے آئے ،٢٠٠٤ء پاکوڑ کانفرنس میں گئے تھے اور مقالات کی ایک مجلس میں صدارت کئے تھے ،میرے زمانہئ طالب علمی ٢٠٠٧ء میں آثار کا خصوصی شمارہ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کے نام نکال رہے تھے تو جامعہ سلفیہ بنارس میں ناظم اعلیٰ مولانا عبداللہ سعود سلفی سے تأثرات لکھوانے آئے تھے۔

    بیماری اور وفات

مولاناہمیشہ لکھنے ،پڑھنے پڑھانے ،شکار کھیلنے اور لوگوں سے ہنسی مذاق کرنے کے عادی تھے غالباً٢٠١٢ء میں ران کے شدید پھوڑے اور آپریشن کی وجہ سے بیمار رہنے لگے تھے لیکن کبھی کبھی باہر دکھائی دیتے تھے،ادھر چند سالوں سے پیر کی رگ سوکھنے کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بستر پر لیٹے رہتے تھے ،عیادت کرنے والے آتے خیر خیریت پوچھتے اور ان کے سوالوں کے جوابات دیتے رہتے تھے مگر افسوس کہ یکم دسمبر٢٠٢٠ءبروز منگل بعد نماز مغرب ایک کہنہ مشق مولف ومترجم ،مدرس ومقرر اور صحافی سے جمیعت وجماعت اور ملت محروم ہوگئی ۔،اللھم اغفرلہ وارحمہ۔۔۔

    آپ کی نماز جنازہ اگلے دن دودسمبر بروزبدھ صبح دس بجے عید گاہ اہل حدیث ڈومن پورہ پچھم میں آپ کے چچا زاد بھائی مولانا سراج الحسن محمدی (استاذ مدرسہ دارلتعلیم مؤ) کی امامت میںادا کی گئی اور آبائی قبر ستان بھٹکواں پٹی بھجمونا میں سپرد خاک کئے گئے۔

    نماز جنازہ میں عوام الناس اور مؤ کے جامعات ومدارس کے اساتذہ وطلبہ اور اراکین نے کافی تعداد میں شرکت کی ۔

    شادی اور اولاد واحفاد

آپ کی شادی مؤناتھ بھنجن کے ایک مشہور محلہ کھیدوپورہ میں ہاجرہ خاتون بنت صفی اللہ سے ہوئی تھی ١٣فروری ٢٠١٠ء کو اپنے شوہر، دوبیٹیوںاور تین بیٹوں سمیہ خاتون ،رقیہ خاتون ،یاسر ،یسار،اور مولانا عماراثری کوچھوڑ کراس دارفانی کوچ کرگئیں ،اللھم اغفرلھا وارحمھا۔

    یسارنے عربی کی جماعت ثالثہ تک مدرسہ عالیہ سے تعلیم حاصل کی ہے اور مولاناعماراثری جامعہ دارلسلام عمرآباد سے پڑھنے کے بعد جامعہ اثریہ دارالحدیث سے فراغت کی ہے،فراغت کے بعد چندسال ”مدرسہ دارلحدیث دھونراٹانڈہ ،بریلی ”میں تدریسی فریضہ انجام دیا ہے پھرملازمت کے لئے کویت چلے گئے،ایک بیٹی نےء بھی عربی کی چار جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے،فی الحال تینوں فرزند گھر پر آبائی پیشہ پارچہ بافی سے منسلک ہیں۔

   آپ کے پوتے ،پوتیوں اور نواسے ،نواسیوں کی تعداد درجنوں سے زائد ہے۔

    مولاناممدوح رحمۃاللہ علیہ کے نام ونسب میںمولانا حکیم جمال الدین تذکرہ ہواہے،مولاناحکیم جمال الدین کے پانچ نرینہ اولاد تھیں ١۔حاجی عبدالرحمن شہید(شہادت ١٣٢٣ھ) ،٢۔حاجی عبد الحفیظ سوداگر(متوفیٰ١٣٣٩ھ)،٣۔شیخ علیم اللہ ،٤۔حاجی محمدعارف،٥۔حاجی نورمحمد(متوفیٰ١٩٣٦ء)
    ٢۔حاجی عبدالرحمن شہیدکے بیٹے جیساکہ شروع میں ذکر ہوچکا ہے کہ ١۔مولاناحامد،٢۔مولانامحمد نعمان اعظمی ٣۔ مولانامحمد ابراہیم٤۔مولانامحمد علی ابوالقاسم قدسیؔ تھے۔

    مولاناحامدکے بیٹے مولانا عبد الماجد اور حاجی عبد الحمید تھے ،حافظ ومولاناوڈاکٹرعبد العلی ازہری (لندن)اور حافظ وڈاکٹر عبدالحئی مدنی(سابق استاذ جامعہ اثریہ دارلحدیث مؤ)مولانا حامد کے پوتے ہیںاور مولانامظہر حسن فیضی ؒ،مولاناخورشید احمدمحمدی،مولانا وڈاکٹرفضل حق محمدی ،مولانا رضی انور محمدی،مولانا شمیم اخترفیضی، مولانا فیصل محمدی ؒ،مولانا وڈاکٹر جاید منظرسلفی ،حافظ عبداالماجد عالی ،حافظ وڈاکٹر عمار عبدالحئی فلاحی وغیرہ مولانا حامد کے پرپوتے ہیں۔
    مولانامحمد نعمان اعظمی کے بیٹے :پہلی اہلیہ سے مولانا عبدالمنان ،مولانا عبد السبحان ذاکرؔانصاری اعظمی عمری ؒ اور مولانافضل الرحمن اعظمی عمری ؒہیں،اور دوسری اہلیہ سے مولانا حبیب الرحمن زاہدؔ اعظمی عمریؒ(ایڈیٹرماہنامہ راہ اعتدال)،مولاناعزیر الرحمن رونقؔ اعظمی عمریؒ اور حافظ وعلامہ حفیظ الرحمن اعظمی عمری ،مدنی(ناظم جامعہ دارلسلام عمرآباد)ہیں ۔

    مولاناخلیل الرحمن اعظمی عمریؒ (استاذوناظم جامعہ دارالسلام عمرآباد)،مولاناضیاء الرحمن صہباؔاعظمی عمریؒ ،حافظ ومولاناعبدالرحمن اعظمی عمریؒاپنے پردادا کے ہمنام (ہائی اسکول میں معلم )،حافظ ومولاناانیس الرحمن اعظمی عمری مدنی(سابق مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند کے ناظم ،مرکزی دارلعلوم جامعہ سلفیہ بنارس کے سابق استاذ،جامعہ محمدیہ مالیگاؤں کے سابق شیخ الجامعہ،مدرسہ الفرقان منگلوراورجامعۃ الہند کیرالا کے ذمہ دار،چار مینار مسجد کے خطیب )،حافظ ومولانا عبید الرحمن اعظمی عمری ،ندوی ،مدنیؒ ،استاذوناظم جامعہ دارالسلام عمرآباد،مولانامحمد نعمان اعظمی عمری ،مدنیؒ اپنے دادا کے ہم نام (جامعہ محمدیہ رائیدرگ کے سابق استاذ،مدرسہ نسواں وانمباڑی کے ناظم) ،مولانا اسماعیل سلفی ،مولانا اسماعیل اعظمی عمری ؒ،مولوی ڈاکٹر نورالحسن ،ماسٹراحسن انصاری وغیرہ مولانا نعمان اعظمی کے پوتے ہیں ۔
    مولاناوڈاکٹر الیاس اعظمی عمری ،مدنی (استاذجامعہ دارالسلام عمرآباد)ہیں،مولانا رشاد اعظمی عمری (لندن )مولانا شاہد جنید عالی ؒ،مولانا راشد عالی ،مولانا سعود اعظمی عمری ،مولانا عبد الرحمن فیضی بنگلور،مولانا ریحان اثری،ماسٹراکرم ،ڈاکٹر حماد احمد،ڈاکٹر خالدکمال (نائب صدر جامعہ عالیہ عربیہ مؤ) وغیرہ آپ کے پرپوتے ہیں ۔
    مولاناابراہیم کے بیٹے :١۔محمداسماعیل ،٢۔محمدادریس،٣۔محمدیونس،٤۔ ڈاکٹرمحمدالیاس٥۔شعیب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین تھے ۔
    محمدیونس ؒ کی اولاد میں :١۔شمس النسائ،٢مولانا عزیز الحق عمری ؒجن کاتذکرہ ہواہے،٣۔مولانا شمش الحق فیضی (سابق استاذ جا معہ عالیہ عربیہ مؤ)٤۔عزیز النسائ٥۔حبیب النسائ،٦۔اختر النسائ،٧۔ظہیر الحق ،٨۔اظہار الحق ،٩۔ماسٹراسرارالحق (استاذمدرسہ دارلتعلیم مبارکپور اعظم گڈھ)١٠ ۔انوار الحق ہیں ۔

     مولانامحمد اسلم عمری مدنی (استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)مولاناسراج الحسن محمدی (استاذ مدرسہ دارلتعلیم کھیدوپورہ مؤ)اور مولانافیض الحسن عمری مدنی (ہاسپیٹ)،مولانا اعزاز الحسن حمایتی (ناگپور)وغیرہ،مولاناابراہیم کے پوتے اور صاحب تذکرہ کے چچازاد بھائی ہیں ۔
    مولاناخورشید سراج اثری ،مولاناامیرافضل عالی ،مولانافرحان اشرف عالی ،مولاناافضال احمد عمری(حیدرآباد) ،راقم السطورحافظ وقاری ومولانا فیضان اشرف سلفی استاذ جامعہ اسلامیہ سنابل نئی دہلی ،مولاناآصف اکرم عالی ،مولانا عامرعزیز صندل ؔعالی (حیدرآباد) ،مولانا اظہر اثری ،حافظ ومولاناسعید الرحمن عمری ،مولاناعبیدالرحمن عالی ،حافظ وقاری ومولاناشہبازعالی،مولانا ضیاء الرحمن عالی ،مولانا سلمان عالی ،مولانا جمال آصف عالی،وغیرہ مولانا ابراہیم کے پر پوتے ہیں۔
    مولانامحمد علی ابوالقاسم قدسی ؒکے بیٹے :مولاناومفتی عبدالعزیزاعظمی عمری متوفی ٰ(٢٠٠٥ء )ہیں، مولانا عمران اعظمی عمری حیدرآباد(متوفیٰ٢٠١٧ئ) اور مولانا محفوظ الرحمن اقدس ؔ عمری ہیں ،مولاناافضل اثریؒ (لائبریرین جامعہ محمدیہ کھیدوپورہ مؤ)قدسیؔ صاحب کے پوتے ہیں۔مولانا رضی انور اثری اور مولانا صفوان محمدی پر پوتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ اس خانوادے میں متعدد علماء کرام ہیں چند مشہور موجودین علماء کرام کا تذکرہ کردینا مناسب سمجھتا ہوں :

    مولانا محمد اعظمی (سابق شیخ الحدیث اور شیخ الجامعہ عالیہ عربیہ مؤ)،مولانا مظہر احسن ازہری (ناظم جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)حافظ شیخ اسعد اعظمی (استاذ جامعہ سلفیہ بنارس )مولانا نورالحسن مدنی (بنگلور)مولانا وحید رضا فیضی (استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)مولاناذکی انور مدنی (استاذ مدرسہ دارالتعلیم کھیدوپورہ مؤ)مولانا جمال انور عمری مدنی (لندن )مولانا وڈاکٹر اجود عالی ،مولانا فیاض احمد عمری ،مولانا پرویز احمد عالی وغیرہ۔

    مؤ کے مشہور تجار حاجی سعود احمد کراؤن ،حاجی عبد الودود کراؤن (صدر جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)،اجمل نورانی ،افضل نورانی(سابق ناظم جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)حاجی عبدالرحمن اسی خانوادے سے ہیں۔

    اس کے علاہ اس خانودے میں کئی ایک بچیاں عالمہ فاضلہ بھی ہیں جو دینی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
    اس تذکرے میں صرف علمائے کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے البتہ ضرورت کے تحت غیرعالموں کا بھی تذکرہ ہوگیا ہے۔
    تعزیتی پیغامات:مرکزی جمعیت اہل حدیث دہلی کے امیر محتر م مولانا اصغر علی امام مہدی حفظ اللہ اورابولکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر نئی دہلی کے صدر محترم مولانا محمد رحمانی مدنی حفظہ اللہ اور سکریٹری مولانا عاشق علی اثری حفظہ اللہ کی طرف سے تعزیتی پیغات موصول ہوئے جس میں طلبہ اساتذہ اور ذمہ داران کی نے آپ کی وفات پر غم کا ظہار کیا اور دعائے مغفرت کی ،اس کے علاوہ سالک بستوی تعزیتی نظم موصول ہوئی:

                گلشن ہستی سے جیسے رت سہانی لے گیا
                اک عزیزالحق بہاروں کی نشانی لے گیا

                تشنگان علم وفن اب ہوگئے ہیں اشکبار
                ساتھ اپنے موج دریا کی روانی لے گیا

آخر میں اللہ رب العالمین سے دعاء ہے کہ مولاناکی تدریسی ،دعوتی ،تالیفی اور سماجی خدمات کو قبول فرماکرذخیرۂ آخرت بنائے اور آپ کی چھوٹی بڑی لغزشوں کومعاف فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔آمین

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلہ، وَارْحَمْہ، وَعَافِہٖ وَاعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہ، وَوَسِّعَ مُدْخَلَہ، وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَأَعِذْہُ مَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذابِ النَّارِ

                 ٤/دسمبر ٢٠٢٠ء

 

Leave a Comment