معاملۂ قرض

 مولانا خورشیداحمد اعظمی مدنی ۔  استاذِحدیث جامعہ عربیہ تعلیم الدین، مئوناتھ بھنجن

قرض کیا ہے

Loan and dept in Islam

  قرض یعنی کسی شئے کا لین دین اس غرض سے کرنا کہ اس کا مثل واپس کرنا ہے ، انسانی زندگی اور معاشرہ کا ایک حصہ ہے ،جس کا مقصد باہمی اخوت کا مظاہرہ اور ایک انسان کے مشکل وقت میں کام آنا اور اس کی حاجت کو پورا کرنا ہے ، شریعت مطہرہ نے اس معاملہ کو جائزقرار دیاہے ، قر آن کریم میں ایک طویل ترین آیت(سورۃ البقرۃ،۲۸۲) اس کے احکام سے متعلق مذکور ہے جو آیت مداینۃ سے معروف ہے،بوقت ضرورت قرض لیناشرعاً معیوب نہیں ہے ،  رسول اللہ ؐ سے اس کا عمل ثابت ہے(سنن ترمذی و نسائی)،اور حدیث میں وارد ہے :

”ما من مسلم یدّان دیناً یعلم اللہ منہ أنہ یرید أداءہ إلا أداہ اللہ عنہ فی الدنیا ”

کو ئی بھی مسلمان کوئی قرض لیتا ہے جس کے بارے میں اللہ جانتے ہیں کہ وہ اس کو واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ دنیا میں ہی اس کے لئے واپس کرنے کی صورت پیدا فرما دیتے ہیں۔

 اور ایک حدیث کے الفاظ ہیں :

 ”کان اللہ مع الدائن حتی یَقضِی دینَہ، ما لم یکن فیما یکرہ اللہ ”

 اللہ تعالی قرض لینے والے کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ اپنا قر ض پورا ادا نہ کرلے ،جب تک وہ اس صورت میں نہ ہو جو اللہ کو ناپسند ہے ، (سنن ابن ماجہ،٢/ ٨٠٥،کتاب الصدقات،حدیث :٢٤٠٨،٢٤٠٩)

یعنی قرض لینا کسی معصیت کے لئے نہ ہو ، اور قرض کی واپسی میں وسعت ہوتے ہوئے تاخیر اور ٹال مٹول نہ کرے ،

    اسی طرح احادیث میں قرض دینے کی فضیلت بھی وارد ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کسی مسلمان کو دو بار قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے ، (ابن ماجہ : ۲۴۱۸، احمد ـ ۲۳۰۴۶)

 اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہوتا ہے اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہوتا ہے اس لئے کہ قرض لینے والا حاجت و ضرورت کے وقت ہی قرض لیتا ہے،(سنن ابن ماجہ،٢ / ٨١٢، حدیث :٢٤٣٠،٢٤٣١)آخر الذکر روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے ، مگر علی وجہ الخصوص قرض کی فضیلت پر استدلال کی گنجائش ہے،جبکہ علی ا لعموم مصیبت زدہ اور پریشان حال کی اعانت اور اس کی پریشانی دور کرنے کی فضیلت صحیح حدیث میں وارد ہے :

”من نفس عن أخیہ کربۃ من کرب الدنیا نفس اللہ بھا عنہ کربۃ من کرب یوم القیامۃ، ومن یسر علی معسر یسر اللہ علیہ فی الدنیا و الآخرۃ واللہ فی عون العبد ما کان فی عون أخیہ ”

 جو شخص اپنے بھائی کی دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کردے تواللہ تعالی قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت اس سے دور کر دیں گے، اور جوشخص کسی تنگدست کو سہولت دیتا ہے تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کے لئے آسانی کرتے ہیں ،اور اللہ تعالی اپنے بندہ کی مدد میں ہوتے ہیں جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ، (صحیح مسلم )

واضح رہے کہ یہاں بھائی سے صرف سگااور حقیقی بھائی ہی مراد نہیں ہے بلکہ کوئی بھی مسلمان یا پریشان حال انسان مراد ہے،

     قرض لینے اور دینے والے دونوں کے لئے  لا ضرر و لاضرا ر(جس میں کسی کا نقصان نہ ہو) اوراخوت و انسانیت پر مبنی شریعت مطہرہ کی معتدل تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ:

(الف): بلا ضرورت قرض لینے سے پرہیزکیا جائے،ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے :

 ” کان رسول اللہ ؐ أکثر ما یتعوذ من المغرم والمأثم ، قلت: یا رسول اللہ ،ما أکثر ما تتعوذ من المغرم ،قال :انہ من غرِم حدث فکذب و وعد فأخلف

رسول اللہ ؐ اکثر قرض اور گناہ سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے ، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا  جو مقروض ہوتا ہے بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ،اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے،(سنن النسائی،٨ / ٢٧٥، کتاب الاستعاذۃ،باب الاستعاذۃ من المغرم والمأثم )

 اور ظاہر ہے کہ جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنا معصیت اور گناہ ہے ،اس لئے آپ ؐ کثرت کے ساتھ قرض سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے،

(ب): قرض اس نیت سے لیا جائے کہ اسے اد ا کرنا ہے ، واپس نہ کرنے کی نیت سے قرض لینامعصیت ہے اور خسارہ کا باعث ہے ، رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے :

” أیما رجل یدین دینا و ہو مجمع أن لایوَفیہ إیاہ لقی اللہ سارقاً

جوشخص قرض لیتا ہے اور وہ یہ طے کئے ہوئے ہے کہ اسے ادا نہیں کرے گا تو وہ چور کی حالت میں اللہ کا سامنا کرے گا، (سنن ابن ماجہ، ٢ / ٨٠٦، کتاب الصدقات ، باب من ادّان دیناًلم ینو قضاء ہ، حدیث :٢٤١٠)

اورایک دوسری حدیث میں مروی ہے :

”من أخذ أموال الناس یرید إتلافھا أتلفہ اللہ ‘

جس نے لوگوں کا مال ضائع کرنے کے ارادہ سے لیا تواللہ اس شخص کو برباد کردیتے ہیں (ایضاً حدیث : ٢٤١١)،اور جو اس ارادہ سے قرض لیتا ہے کہ اسے واپس کرے گا تو اوپر حدیث مذکور ہوچکی ہے کہ اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے،اور اللہ تعالی دنیا میں ہی اس کے ادا کرنےکی سبیل پیدا کردیتے ہیں،

(ج) : سودی قرض لینے سے پرہیز کرے، اور قرض لینے کی شدید حاجت در پیش ہو ،اور بلا سودی قرض ملنے کی کوئی سبیل نہ ہو تو کسی معتبر عالم سے اپنی ضرورت کی وضاحت کرنے اور اس سے مشورہ لینے کے بعد ہی سودی قرض لے،کہ بلا احتیاج شدید سودی قرض لینا بھی گناہ کبیرہ ہے، احتیاج و ضرورت کی صورت میں ہی سودی قرض لینا بقدر ضرورت جائز ہوتا ہے ،”یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ”،(الاشباہ والنظائر)اور اس کے ساتھ ہی توبہ استغفار بھی کرتا رہے ،

(د): اور جب بھی اللہ کی طرف سے قرض ادا کرنے کی سبیل نکل آئے ،اور اسے واپس کرنے کی وسعت ہو جائے تو ادا کرنے میں جلدی کی جائے ، بلا وجہ ٹال مٹول نہ کیا جائے کہ یہ ظلم ہوگا ، قرض دینے والے نے تو لینے والے کی ضرورت کے پیش نظر اپنا مال دے کر اس کی پریشانی کو دور کیا، اب یہ وسعت ہونے کے باوجود اس کا مال واپس نہیں کر رہا ہے ،یہ اس کی نا شکری اور احسان فراموشی ہوگی ، اور اس کے مال کو ضائع کرنا ہوگا،رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے :

 ”مطل الغنی ظلم ”

 صاحب وسعت کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے(صحیح بخاری مع فتح الباری، ٥ / ٦١ ،کتاب الاستقراض ، باب مطل الغنی ظلم، حدیث : ٢٤٠٠)،

(ھ) :قرض دینے والے کو چاہئے کہ اس شرط کے ساتھ قرض نہ دے کہ اس پر کوئی نفع یا زائد رقم لے گا ، اس لئے کہ ہر وہ قرض جس میں نفع اور زائد لینے کی شرط ہو اس کا دینا اور لینا حرام ہے، قرض پر مشروط زائد رقم سود ہوتی ہے، اور اللہ تعالی نے قرآن کریم میں سودی لین دین سے بہت سختی کے ساتھ منع کیا ہے ،اور نہ ماننے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دی ہے، فرمان الٰہی ہے:

یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ  الربوٰ،  اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ،  فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ، وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رَءُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ ،  لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُون

اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے! اللہ سے ڈرو، اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ،اگر تم ایمان والے ہو،(یعنی اللہ پرتمھارے ایمان رکھنے کا تقا ضا یہ ہے کہ تم اللہ کے حکم کو مانو ،اور سود پر ملنے والے مال کو چھوڑ دو)،اور تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو، اور اگر تم نے (سودی معاملہ سے )توبہ کرلیا(اور ملنے والے سود کو چھوڑ دیا)تو تمھارے لئے تمھارا اصل سرمایہ ہے (جو تم لے سکتے ہو)نہ تم لوگ ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ (سورۃ البقرۃ :٢٧٨،٢٧٩)

سود پر دیئے ہوئے قرض میں بظاہر تو لگتا ہے کہ مال میں اضافہ ہوتا ہے ، مگر زمین و آسمان کے خزانوں کے مالک کا اعلان یہ ہے کہ

” یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ واللہ لَایُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍاَثِیْمٍ”

 اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی نا شکرے بد عمل کو پسند نہیں کرتا ،(سورۃ البقرۃ:٢٧٦)،

    سود محض خود غرضی پر مبنی ایک غیر انسانی فعل ہے جس کے ذریعہ ایک غریب محتاج کی معمولی گزارہ کی پونجی کو بلا عوض مالدار کے کھاتہ  میں جمع کرنا ہو تا ہے اور اسے مزید غربت کی طرف ڈھکیلنا ہو تا ہے ، اس کے برخلاف زکاۃ و صدقات کا حال یہ ہے کہ اس کے ذریعہ مالدارکے ضرورت سے زائد مال کا بہت ہی معمولی حصہ غریبوں تک بلا معاوضہ پہونچا کر اسے مستغنی اور مالدار بنا نا ہوتا ہے ،اس لئے سود پر قرض دینے سے بچا جائے کہ یہ ،مال ،تجارت اورمعیشت کی بربادی کا سبب ہے،اور معاشرہ میں بد اخلاقی، عدم تعاون،بخل اور خود غرضی کے عام ہونے کا باعث ہے ، سود کی ان ہی قباحت و شناعت کی وجہ سے رسول اللہ ؐ نے سود کھانے والے، کھلانے والے،اس کے معاملہ کو لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت کی ہے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

 ” لعن رسول اللہ ؐ آکل الربا و موکلہ وشاھدَیہ و کاتبَہ”

اللہ کے رسول نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس پر گواہی دینے والے اور اسے لکھنے والے ہر لعنت بھیجی ہے، (سنن الترمذی ،٣ / ٥٠٣، کتاب البیوع، باب ما جاء فی أکل الربا،حدیث :١٢٠٦)

    البتہ اس صورت میں جب کہ معاملہ میں زائد لینے کی شرط نہ ہو ،اور قرض لینے والا واپس کرتے وقت اپنی خوشی سے کچھ زائد ادا کرے تو قرض دینے والے کے لئے اس کا لینا جائز ہوگا، رسول اللہ ؐکے بارے میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ

 ” کان لی علیہ دین فقضا نی و زادنی”

میرا آپ ؐ کے ذمہ قرض تھا ، تو آپ ؐ نے اسے ادا فرمایا اور زیادہ دیا(صحیح بخاری مع فتح الباری ،٥ / ٥٩، کتاب الاستقراض ، باب حسن القضاء ، حدیث :٢٣٩٣)

(و): قرض کا لین دین عموماًکسی مقررہ مدت کے لئے ہوتا ہے اس لئے اس معاملہ کو تحریری شکل میں کرنا چاہئے اور اس پر دو آدمیوں کوگواہ بھی بنا لینا چاہئے قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

یٰاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا تَدَا یَنْتُمْ بِدَیْنٍ الی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ ط …الآیۃ (سورۃ البقرۃ :٢٨٢) ،

قرض کی واپسی کا مطالبہ اگرچہ مدت مقررہ سے پہلے جائزہے مگر چونکہ یہ وعدہ اور معاہدہ کے خلاف ہے اس لئے وعدہ خلافی اور عہد توڑ نے کا گناہ ہو گا۔

   (ز) : اگر مقروض اپنی تنگدستی اور ناداری کی وجہ سے وقت مقررہ پر قرض ادا نہ کرسکے تو قرض دینے والے کو چاہئے کہ اسے مہلت دے، پریشان نہ کرے ، بلکہ اگر استطاعت ہو تو قرض معاف کردے ،اللہ تعالی نے اسی کی تعلیم دی ہے ،ارشاد ہے :

وَاِنْ کَانَ ذُوْعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃ” اِلٰی مَیْسَرَۃٍ ط وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْر” لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ہوَاتَّقُوْایَوْمًاتُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ

 اور اگر (مقروض) تنگی والا ہوتو مہلت دینا ہے آسانی ہونے تک ، اور تمھارا صدقہ کردینا تمھارے لئے زیادہ بہتر ہوگا اگر تم جانو،اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤگے ،پھر پورا پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے (اچھا یا برا) کیا ہے ،اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا(سورۃ البقرۃ:٢٨٠،٢٨١)

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالی نے تنگدست کومہلت دینے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ترغیب دی ہے کہ اگر مقروض قرض واپس کرنے کی استطاعت میں نہیں ہے تو اس کومعاف کردینا اور قرض سے بَری کردینا یہ زیادہ نفع اور خیر کا سودا ہے ،اس کا فائدہ دنیا میں بھی ملتا ہے ، اور آخرت کے دن تو بھر پور اس کار خیر کا بدلہ ملے گا ، اور اس میں قرض لینے اور دینے و الے دونوں کو تنبیہ ہے کہ اگر قرض لینے والامال اور استطاعت ہونے کے باوجود ادائیگی میں تاخیر کررہا ہے اور نہ ہونے کا بہانہ کررہا ہے تو اس کا علم اللہ کو ہے وہ اس برے عمل پر سزا دے گا ،اوراگر قرض دینے والا مقروض کی ناداری کے باوجوداس کو پریشان کر رہا ہے ،تو اللہ اس کو بھی جانتا ہے ،یہ بھی اللہ کی گرفت سے اپنے کو محفوظ نہ سمجھے،اللہ اپنے فضل سے ہی جس کو چاہتے ہیں مال میں وسعت اور فراوانی دیتے ہیں اور اپنی مصلحت سے جس کو چاہتے ہیں فقر اور تنگی میں رکھتے ہیں ،اس لئے اپنی تونگری پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور کسی تنگدست کو پریشان نہیں کرنا چاہئے،اللہ تعالی نے مالداروں کے مال میں غریبوں اور ضرورتمندوں کا حق رکھا ہے ،

”و فی أموالھم حق للسائل والمحروم ”

اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہے، (سورۃ الذاریات :١٩)  

    قرض خواہ کو مہلت دینے،اور قرض میں تخفیف اور کمی کرنے کی ترغیب احادیث نبویہ میں بھی ملتی ہے ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا:

 ”کان رجل یداین الناس فکان یقول لفتاہ اذا أتیت معسراً فتجاوز عنہ لعل اللہ یتجاوز عنا فلقی اللہ فتجاوز عنہ ”

ایک آدمی لوگوں سے قرض کا معاملہ کرتا تھا ، تو اپنے لڑکے سے کہتا تھا کہ جب تم تنگدست کے پاس جاؤ تو اس سے در گزر کردیا کرو ،اس کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ ،شاید اللہ ہم کو بھی در گزر کردیں ، چنانچہ وہ اللہ سے ملا ،یعنی اس کی وفات ہوئی تو اللہ نے اس کو معاف کردیا ، (صحیح مسلم ،مع شرح النووی ، کتاب المساقات والمزارعت، باب فضل انظار المعسر)

    اور عبدا للہ بن ابو قتادۃ سے مروی ہے :

” أن أبا قتادۃ طلب غریماً لہ فتواری عنہ ثم وجدہ فقال : انی معسر، فقال آللہِ؟ قال أللہ ِقال فانی سمعت رسول اللہ ؐ یقول : من سرّہ أن ینجیہ اللہ من کُرَب یوم القیامۃ فلیُنَفِّس عن معسر أو یضع عنہ”

 ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مقروض کو طلب کیا تو وہ روپوش ہوگئے پھر جب ان کو پایا تو اس مقروض نے کہا کہ میں تنگدست ہوں ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا اللہ کی قسم (تم پریشان حال ہو)؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ، تو ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ ؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو اس سے خوشی ہو کہ اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی مصیبتوں سے نجات دیں تو اس کو چاہئے کہ وہ پریشان حال کو وسعت دے یا اس کے قرض کو معاف کردے، (ایضاً )

    اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

”أنہ کان لہ مال علی عبداللہ بن أبی حدرد الأسلمی فلقیہ فلزمہ ، فتکلما حتی ارتفعت أصواتھما فمر بھما رسول اللہ ؐ فقال یا کعب ! فأشار بیدہ کأنہ یقول : النصفَ، فأخذ نصفاً مما علیہ وترک نصفاً ”

 عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی کے ذمہ ان کا مال تھا ،ان سے ملاقات ہوئی تو ان کے پیچھے پڑ گئے ، دونوں میں دو دو باتیں ہوئیں اور ان کی آوازیں اونچی ہوگئیں ،رسول اللہ ؐ کا گزر ان کے پاس سے ہوا،آپ ؐ نے کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا،گویا فرمارہے ہوں کہ آدھا کردو،چنانچہ انھوں نے اپنے قرض کا آدھا لیا اور آدھا چھوڑ دیا ،( ایضاًً، باب استحباب وضع الدَین )

    خلاصۂ  کلام یہ ہے کہ قرض کا لین دین جائز ہے ، ضرورت ہونے پر آدمی قرض لے ،بلا ضرورت نہ لے ،اور اس ارادہ سے لے کہ واپس کرنا ہے ،اور جب واپس کرنے کی وسعت ہوجائے تو واپس کرنے میں تاخیر اور ٹال مٹول نہ کرے ، سودی قرض لینے سے مکمل پرہیز کرے مگر ایسی صورت میں کہ اس کے لئے مجبور ہو، تو کسی عالم سے اپنی مجبوری کی نوعیت بتا کر اس سے اپنے متعلق مسئلہ معلوم کر لے،کیونکہ سودی معاملہ کرنا باعث خسارہ و نقصان ہے ، اللہ کی ناراضگی مول لینا ہے ،اس لئے جائز نہیں ،

    اور جس سے قرض طلب کیا جائے وہ صاحب استطاعت ہو تو اسے قرض دیدینا چاہئے ،اس لئے کہ یہ بھی کار ثواب ہے ، اور اگر مقروض تنگدست ،پریشان حال ہو ،اور وقت پر قرض واپس کرنے سے عاجز ہو تو اسے مزید مہلت دیدے،اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ یہ قرض واپس نہیں کر پائے گا تو اللہ کے لئے اس کو قرض سے بری کردے ،کہ یہ کارِ خیر اس کے لئے اس دن کام آئے گا جس دن سارے لوگ ہی پریشان ہونگے ،مگر جس کو اللہ اس دن عافیت میں رکھیں،

Leave a Comment