استاذمحترم حافظ وقاری ومولانا نثاراحمدفیضی رحمۃ اللہ علیہ

فیضان اشرف ،مؤناتھ بھنجن یوپی
8953272943

       بچھڑا کچھ اس اداسے کہ رُت ہی بدل گئی
اک    شخص   سارے شہر   کو         ویران       کر    گیا

26  فروری 2020 ء بروزبدھ تقریباتین بجے دن فاطمہ ہاسپیٹل مئو میں استاذمحتر م حافظ وقاری و مولانا نثاراحمد فیضی جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو اورمرزاہادی پورہ مسجد میں نصف صدی سے زیادہ درس وتدریس اور امامت وخطابت کی مخلصانہ خدمات انجام دینے کے بعد78سال کی عمرمیں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

اِناللّٰہ واِنااِلَیہ راجعون

آپ ایک اچھے عالم دین ، کامیاب معلم ، پرخلوص داعی وخطیب ،مشفق مربی ، عالم باعمل ، سلف کا نمونہ ، حدیث کے استاذاور زندہ دلی کا پیکر تھے ، ہرجگہ آپ کی شخصیت ممتاز اور نمایارہی ،غرض مولانائے موصوف کی ذات اس خوبیاں اور کمالات تھے کہ جن کو ہم محدودسطروں میں پیش کرنے سے قاصر ہیں تاہم چند باتوں کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے

عالم تھا           باعمل تھا       وہ  تقوی   شعار  تھا
اس دور میں سلف کی وہ اک یاد گار تھا

نام ونسب

نثار احمد بن حافظ محمدابراہیم بن حافظ محمدسعید بن بدھو۔

استاذ محترم نے نسب نامہ پوچھنے پر بتایا تھاکہ

” اپنے پر داداسے آگے کا نسب نامہ تو مجھے معلوم نہیں البتہ جو میرے پردادابدھو تھے شکار کے لئے کہیں جنگل میں گئے تھے اور وہیں غائب ہوگئے دوبارہ پھر واپس نہیں آئے”

تاريخ  پیدائش

مولانا موصوف 20جون 1942ء اپنے آبائی مکان مرزاہادی پورہ مؤناتھ بھنجن یوپی میں پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت

مولانااپنی تعلیم کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ:

”عہد طفولیت میں والد کا سایہ عاطفت سر سے اٹھ گیا تھا، والدہ محترمہ نے جو اب وفات کرچکی ہیں (نور اللہ مرقدہا) بہت زیادہ غربت کے باو جودمیری تعلیم  پر بہت ہی دھیان دیا  اور ابتدائی تعلیم کے لئے محلہ ہی کے ایک انتہائی برزگ ،تہجد گزارممتازعالم دین حکیم مولانا سلیمان رحمہ اللہ (جوجامع مسجد اہل حدیث مرزاہادی پورہ میں بچوں کو بطور اعزازی پڑھاتے تھے )کے پاس بیٹھایا، موصوف شیخ الکل فی الکل سید میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ کے تلمیذ رشید تھے ، انہی کے پاس اور انہیں کی نگرانی میں رہ کرقرآن مجید ، پھر کچھ ابتدائی فارسی اور گلستاں وبوستاں وغیرہ کی تعلیم حاصل کی ، اسی اثناء میں استاذگرامی نے قرآن کی کچھ سورتیں ساتھیوں سے زبانی یاد کرائی، ساتھیوں کی بنسبت میں کچھ جلدی حفظ کرلیتا تھا، اس زمانہ میں مرحوم مولانا مختاراحمدندوی کلکتہ میں خطیب تھے ، جب گھر تشریف لائے تواستاذ محترم رحمہ اللہ نے کہا کہ نثار کی اماں سے کہئے کہ نثار کو حافظ بنادے، مولانامرحوم میرے پھوپھی زاد بھائی تھے ، والدہ تیار ہوگئیں اور میں حفظ قرآن کے لئے مدرسہ میں بزرگ حافظ احمداللہ رحمہ اللہ کے پاس حفظ کرنے لگااور اللہ کی توفیق سے تین سال میں حفظ قرآن کی تکمیل سے سرفراز ہوگیا،تکمیل حفظ کے بعدمدرسہ عالیہ مئو ہی میں پرائمری پڑھا اور پھر درجات عربیہ کے لئے جماعت اولیٰ میں داخلہ لیااورجماعت رابعہ تک اسی مدرسہ عالیہ میں پڑھا ، اس کے بعد جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤمیں داخلہ لیا اور وہیں سے ١٣٨٧ھ موافق1967 ء میں تکمیل وفراغت ہوئی ‘‘  (ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ئ،مرتب مولانا عبدالحکیم عبدالمعبود مدنی ص:٥٠٥)

قراء ت وتجوید کی تعلیم

مولانا فرماتے ہیں کہ

 ”جب تک مدرسہ عالیہ میں (موجودہ جامعہ عالیہ )درجات عربیہ کی تعلیم حاصل کی قاری ظہیر الدین رحمہ اللہ سے تجوید کی مشق کی اورجب جامعہ فیض عام میں حصول تعلیم کے لئے آیاتوا ستاذ القراء قاری خلیل الرحمن ؒ کے پاس پڑھ کربرایت حفص تجوید کی تکمیل کی ”  (ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ئ، ص:٥٠٥)

جامعہ عالیہ عربیہ کی سب سے قدیم عمارت جمال پورہ میں تھی وہاں سے منتقل کرکے ڈومن پورہ فیضی گیٹ کے پاس بنائی گئی فی الحال وہاں سے بھی ”عالیہ نگر”بائی پاس روڈ منتقل ہوگئی ہے۔مولانانے دونوں قدیم جامعہ عالیہ عربیہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔

جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو  میں اب بھی فضیلت اول کے طلباء کو قراء ت وتجوید کی خوب مشق کرواکراسنادکے ساتھ دستار بندی کردی جاتی ہے، اس وقت عصر بعد بھی اس کی پڑھائی ہونے لگی ہے۔

اساتذۂ کرام

مولانا نے جن اساتذہئ کرام سے کسب فیض کیا تھا وہ سب بڑے پائے کے عالم دین تھے مولانا ممدوح کے جامعہ عالیہ عربیہ مئو  اورجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ کے اساتذہئ کرام یہ ہیں:

۱۔حکیم مولانا سلیمان مؤی(متوفی١٩٥٩ء)، ٢۔حافظ ا حمد اللہ ،٣۔مولانا عبدالعلی مظاہری(متوفی١٩٦٧ء) ،٤۔مولانا عبدالحکیم فیضی بن مولانا عبد العلی (متوفی ٢٠٠٣ء)٥۔مولانا فضل الرحمن عمری (١٩٩٨ء)، ٦۔مولانا محمد الیاس فیضی ، ٧۔مولانا اسحاق فیضی ، ٨۔قاری عبدالسبحان فیضی ، ٩۔قاری خلیل الرحمن ،١٠۔شیخ الحدیث مولانا ومفتی حبیب الرحمن فیضی،(متوفی ١٩٩٦ء) ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ،١١۔مولانا عظیم اللہ مؤی (متوفیٰ ١٩٩٣ء)، ١٢۔مولانا محمدجمیل مؤی (متوفی ١٩٧٢ء) ، ١٣۔استاذ معقولات مولانا ابوعبیدہ عبد المعید بنارسی (متوفی١٩٨٠ء)، ١٤۔شیخ الحدیث مولانا شمس الحق سلفی (متوفی١٩٨٦ء) شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ، ١٥۔مولانا صفی الرحمن مبارکپوری (متوفی ٢٠٠٦ء) وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان تمام اساتذۂ کرام کی قبروں کو نور سے بھر دے ،آمین ۔

استاذمحتر م کو سیدمیا ں نذیرحسین محدث دہلوی ؒ کے تلمیذحکیم مولانا سلیمان ،مؤی سے تلمذ کا شرف حاصل ہے ،  استاذمحترم مولانامحفوظ الرحمن صاحب فیضی بھی اس سلسلے میں رقم طراز ہیں کہ :

”آخر وقت میں جب آپ (مولاناسلیمان بن داؤدؒ) مدرسہ جانے سے معذور ہوگئے تب بھی تعلیم وافادہ کاسلسلہ جاری رکھا، اپنی مسجد(جامع مسجد اہل حدیث مرزاہادی پورہ )میں بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے اور سورتیں حفظ کراتے تھے ، ہمارے صدیق مکرم مولانا حافظ قاری نثار احمد فیضی نے اسی دور میں آپ سے قرآن کریم پڑھا اورحفظ شروع کیا تھا ۔اس طرح ہمارے دوست کو ہمعصر مولویوں میں حضرت میاں صاحب کے تلمیذ کے تلمیذ ہونے اور ان سے براہ راست پڑھنے کا شرف حاصل ہے،٨ اور ٩ /مئی کی درمیانی شب حضرت استاذالعلماء مولاناحکیم محمد سلیمان صاحب مؤی کا نتقال ہوگیا ۔۔۔مشرقی اضلاع یوپی میں آپ میاں صاحب کی آخری یادگار تھے ،جس سے ہم محروم ہوگئے”(تفصیل کے لئے دیکھئے:تذکرہ مؤی تلامذہ ئ شیخ الکل میاں صاحب ؒ،ترتیب :محفوظ الرحمن فیضی ،ص:٩٠۔٩١)

حکیم مولاناسیلمان مؤی ؒ کے حفیدمولاناعزیرسلفی حفظہ اللہ ہیں جو اس وقت کلیہ فاطمۃ الزہراء للبنات مؤمیں استاذ ہیں ۔

درس وتدریس

اپنی درس تدریس کے بارے میں مولانا اپنی خود نوشت میںیوں رقم طراز ہیں کہ:

”١٩٦٧ء میں فراغت کے بعد ایک سال ١٩٦٨ء میں مسجد اہل حدیث مومن پورہ ممبئی میں رہا،ممبئی کی آب وہوامیرے لئے راس نہیں آئی مؤ چلاآیا اور صدیق حمیم مولانامحفوظ الرحمن فیضی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے برس دن بعد ١٩٦٩ء میں ناظم صاحب رحمہ اللہ (مولانامحمداحمدعلیہ الرحمہ ) سے کہہ کرجامعہ اسلامیہ فیض عام میں درجات عربیہ میں بطورمدرس میری تقرری کرادی ،اس وقت سے ٢٠٠٣ء میں ریٹائر ہونے تک اور اس کے بعد تاحال ١٧۔٢٠١٨ء جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ کا بحیثیت مدرس خادم ہوں ”

اس کے علاوہ مولانا ؒ ”امہات المؤمنین جامعہ اسلامیہ فیض عام للبنات مؤ” جو جامعہ اسلامیہ فیض عام کے ماتحت ہے طلباء کو پڑھا کر پھر طالبات کو پڑھانے چلے جاتے تھے اس کے شیخ الحدیث آپ ہی تھے ۔

بیماری اورکمزوری کے باوجود بھی آپ دونوں مدرسے میں پڑھانے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ گھر ٹائم نہیں کٹ پاتا ہے مدرسہ ہی میں سکون ملتا ہے اور ٹائم بھی کٹ جاتا ہے۔

میرے ایک دوست مولاناسراج فیضی صاحب استاذ جامعہ اسلامیہ فیض عام نے بتا یا ہے کہ  

”مولاناکا اس سال ششماہی امتحان تک مدرسہ میں تدریسی سلسلہ جاری تھا بلکہ ششماہی امتحان کا پرچہ بھی بنا چکے تھے اس کے بعد سے بیمارہونے کی وجہ سے تدریسی سلسلہ منقطع ہوگیا ”،  انہوں نے مزید بتا یا کہ  ”وفات سے آٹھ دن پہلے مدرسہ آئے تھے اور ناظم صاحب سے کہہ رہے تھے کہ میں اب ٹھیک ہوگیا ہوں اگر آپ کہیں تو میں تدریس کا فريضہ شروع کردوں ،ناظم صاحب نے آپ کی کمزوری ونقاہت کودیکھتے ہوئے زحمت دینا مناسب نہیں سمجھا”

آپ نے جامعہ میں مختلف علوم فنون کی کتابیں پڑھائی ہیں ،جیساکہ استاذ محترم محفوظ الرحمن صاحب فیضی کے تذکرے میں ہے کہ :

”شیخ الحدیث مولانامفتی حبیب الرحمن فیضی (متوفی نومبر١٩٩٦ء) کے وفات سے چند سال پہلے پڑھانے سے معذور ہوجانے کی بنا پرصحیح بخاری کا درس مولانا (محفوظ الرحمن صاحب ) کے ذمہ ہوااور صحیح مسلم کا درس حافظ نثاراحمد صاحب کے سپرد ہوا’‘ (سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٦ء ص:٣٥٦)

تدریس کا انداز

آپ کے تدریس کا انداز بڑانرالا تھاچونکہ آپ منجھے ہوئے خطیب تھے توخطیبانہ اندازہی میں حدیث پڑھاتے تھے میں نے مولانا سے صرف صحیح مسلم جلددوم پڑھی ہے،ہم دو تین طالب علم حدیث کا اعراب پڑھتے تھے اور باقی طلبہ سنتے تھے ،ہر حدیث کا پہلے ترجمہ کرتے ،پھر تشریح کرتے ،مسائل کا استنباط کرتے اورحدیث کے ضمن میں کبھی کبھی حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ،جبکہ صحیحین پڑھانے میں دیگراحادیث کی کتب میں گزری ہوئی احادیث چھڑوادی جاتی ہیں کیونکہ سال ہی میں حدیث کی ضخیم کتاب ختم کرنی ہوتی ہے،شاید استاذ محترم کے ایک ایک حدیث پر بحث کرنے کی وجہ تھی کہ مجھ سے سنیئر ایک طالب علم نے بتایاکہ ایک مرتبہ ایک طالب نے علم کہہ دیا تھا کہ ”مولانا امتحان میں ایسے ہی لکھنا رہے گا کہ حدیث گزر چکی ہے”اسی طرح ہم جماعت کے ایک طالب علم نے مولانا سے اعراب میں بحث کرلی توآپ نے کہا:

”بیٹا!آپ سے پہلے ایک نہایت مخلص میرا شاگرد شیخ عبدالباری یہیں سے پڑھ چکاہے صرف اسی ایک طالب علم کے لئے کافیہ میں اتنی محنت کی ہے کہ آج اعراب میں کوئی غلطی نکل جائے”

آپ کا معمول تھاکہ ٹھیک وقت پر کلاس میں حاضر ہوتے اور کبھی کسی استاذ کی گھنٹی کا کچھ حصہ بھی نہیں لیتے تھے، اسباق کے اوقات میں ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کے روادارنہیں تھے، وقت کے بڑے پابند تھے ، جہاں گھنٹی شروع ہوئی سبق شروع ہوجاتااور گھنٹی ختم ہونے تک برابرجاری رہتا، اس دوران طلبہ کے ہر قسم کے اشکال احسن طریقے پر حل کردیتے تھے اورہرسوال کا تسلی بخش جواب بھی ملتا،  آپ کی گھنٹی میں بڑی برکت تھی یہی وجہ ہے کہ ہم لوگوں نے صحیح مسلم جلد دوم کی ایک ایک حدیث مع ترجمہ ،تشریح ،مسائل کے استنباط وغیرہ سالانہ امتحان سے پہلے ختم کرلی اورآپ کا سوال نامہ بھی ایسا ہوتا تھا کہ طالب علم کو پورا نمبر حاصل کرنا بڑاہی مشکل ہوتا اور کوئی فیل بھی نہیں ہوتا۔

آپ کے ہم سبق علماء 

مولانا کے سب سے قریبی ہم سبق ساتھی ودوست مولاناو مفتی محفوظ الرحمن فیضی (سابق شیخ الحدیث وشیخ الجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)  ہیں،جیساکہ استاذ محترم ؒنے اپنے تذکرہ میں صدیق حمیم کے لقب سے مولاناکااپنی فیض عام کی تقرری کے سلسلے میں شکریہ اداکیا ہے، اورخود مولانامحفوظ الرحمن صاحب نے بھی مولاناسلیمان ؒکے تذکرے میں قاری صاحب کوصدیق مکرم کہاہے، اکثرمیں نے دونوں اساتذہ کرام کو دینی مجلس ہویاشادی کی تقریب ایک ہی ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوئے یا ایک ہی ساتھ بیٹھ کر کھاناکھاتے ہوئے دیکھا ہے، مولاناؒبہت سارے مسائل بھی مولانا ہی سے حل کیا کرتے تھے ،مولانا محفوظ الرحمن صاحب فیضی سے ایک مرتبہ پوچھنے پربتایاکہ:

”قاری صاحب ابتداء سے میرے کلاس کے ساتھی تھے قاری صاحب چونکہ حفظ کرنے لگے تھے اور میں حفظ نہ کرکے شعبہئ عربی میں پڑھ نے لگا اس لئے قاری صاحب مجھ سے جونیئر ہوگئے مگر عمر میں مجھ سے بڑے ہیں” ۔

استاذمحترم ؒ کے دوہم سبق ساتھی میرے ماموں محترم شیخ حافظ اسماعیل سلفی مدنی بن مولاناعبدالحکیم فیضی رحمہما اللہ ساکن محلہ ڈومن پورہ کساری مؤ  (امام مسجد علامہ ابن تیمیہ بطحاء واستاذ شاخ جامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض) تھے، میرے ایک استاذحافظ ممتازنے بتایا کہ:

”آپ کے ماموں حافظ اسماعیل اور حافظ نثاراپنے وقت میں جب یہ دونوں حافظ ہوکرترایح پڑھاتے تھے تو دونوں کابڑانام تھا مرازاہادی پورہ والی مسجد میں حافظ نثار صاحب کی قراء ت سننے کے لئے اور جمال پورہ میں ”مہدی ”والی مسجد پرحافظ اسماعیل کی قراء ت سننے کے لئے لوگ دوردورسے آتے تھے ، اور مجھے یاد ہے کہ جب شیخ اسماعیلؒ سعودی سے آتے تھے توقاری صاحب ؒضرور مرزاہادی پورہ والی مسجدپر آپ سے جمعہ کا خطبہ دلواتے تھے اورہرخوشی وغمی میں استاذ محترم میرے ماموں کے گھر شریک ہوتے تھے۔حافظ اسماعیل مدنی ٢٦/ نومبر ٢٠٠٣ء؁بروزبدھ عید الفطر کے دن بعد نماز ظہرداعی اجل کو لبیک کہہ گئے ” اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلہ، وَارْحَمْہ۔۔۔

شیخ اسماعیل مدنی ؒکے حالات زند گی کے بارے میں مجلہ ”صوت الأمۃ ”بنارس ،دسمبر٢٠٠٣ئ،ماہنامہ ”محدث”بنارس جنوری ،فروری٢٠٠٤ئ،سالانہ مجلہ” تہذیب ”عالیہ عربیہ مؤ٢٠٠٥ء ملاحظہ فرمائیں۔

استاذمحترم ؒکے ہم سبق ساتھیوں میں میرے خالومولانا  یحییٰ فیضی بن حافظ احمدؒ(ساکن ڈومن پورہ شمال مؤ)  ہیں ابتداء میں دونوں ہم سبق رہے مگر حفظ کرنے کی وجہ سے قاری صاحبؒ جونیئرہوگئے تھے ،جیسا شیخ محفوظ الرحمن صاحب کے تذکرہ میں ذکرہواہے، قاری صاحبؒ میرے خالوکے گھر ہر خوشی غمی میں ضرور رہتے تھے ۔
استاذمحترم ؒ کے ایک ہم سبق دوست مولانافضل الرحمن فیضی(نامہ نگار) ساکن محلہ پورہ لچھی رائے مرزاہادی پورہ ہیں۔

استاذ محترم ؒ کے ایک اورساتھی مولاناارشادفیضی رحمہ اللہ بن حاجی ضمیررحمہ اللہ( ساکن محلہ وشوناتھ پورہ مؤ) بھی تھے جو قاری صاحب کے پھوپھی زاد بھائی اور بہنوئی بھی تھے ،استاذ محترم ؒ کے ہم سبق تو نہیں تھے ایک سال جونیئرتھے مولاناارشاداحمد ؒ بھی میرے خالو اور ماموں کے گھر خوشی اور غمی میں شرکت کرتے تھے ،جو٢٩/جون ٢٠٠٩ئ؁بروزسوموار اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلہ، وَارْحَمْہ۔

اسی طرح استاذ محترم ؒ،حافظ وقاری ارشاد احمد (استاذجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)حافظ وقاری شمشاد احمد (استاذجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ) اورحافظ سہیل احمدفیضی (ساکن ڈومن پورہ شمال مؤ) چارو حفاظ ایک ساتھ وجئے واڑہ میں تراویح پڑھانے جاتے تھے اس حیثیت سے آپ کے دوست تھے اور ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے دکھائی دیتے تھے ۔

امامت وخطابت

استاذ محترم مولانارحمہ اللہ اپنی خود نوشت میں امامت وخطابت سے متعلق رقم طراز ہیں کہ:

”یوں تو مدرسہ عالیہ میں طالب علمی کے دور میں ہی کبھی کبھی کوئی نماز جامع مسجد اہل حدیث مرازاہادی پورہ پڑھاتا تھا،اس وقت اس میں جمعہ قائم نہیں ہواتھا،فراغت کے ایک سال بعد ممبئی سے واپس آنے پر اور جامعہ فیض عام کا مدرس ہونے ہی کے سال میں ١٩٦٩ء میں اس مسجد میں جمعہ قائم کردیا گیا ،ابتداء میں جمعہ کا خطبہ کبھی میں دیتا کبھی کوئی دوسرا خطیب ہوتا لیکن کچھ ہی دن تک یہ غیر مستقل صورت حال رہی پھر میں ہی مستقل خطبہئ جمعہ دینے لگااور پنج وقتہ نماز پڑھانے لگا اور اب امامت وخطابت کی پوری ذمہ داری نبھانی پڑتی ہے ۔اور یہ تاحال ٢٠١٧ئ/٢٠١٨ء جاری وساری ہے”  (ماخوذاز سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء ص:٥٠٦)

ادھر جب چندمہینوں سے استاذمحترم ؒکی طبیعت بہت زیادہ ناساز رہنے لگی تو مہینہ میں صرف ایک جمعہ کا خطبہ دینے لگے تھے اورصرف سری نماز پڑھاتے تھے ۔

اس کے علاوہ عالیہ نگر والی عیدگاہ میں عیدین کے امام آپ ہی تھے ،مؤکے دینی واصلاحی پروگراموں میں بھی آپ کا وعظ ہواکرتا تھامؤ کے باہر بھی بعض دینی اجلاس میں بحیثیت مقرر شریک ہوتے تھے۔

مولاناکا اسلوب خطابت

بارہاآپ کا خطبۂ جمعہ سنا ہوں ، آپ کا خطاب مدلل ، انداز بیاں سلجھا ہو، اسلوب عمدہ اور پرکشش تھا آواز بالکل صاف تھی،زبان وبیان میں سلاست اور روانی تھی ،ایک بات کو کئی مرتبہ دھراتے تھے ،ایک موضوع پر متعدد خطبے دیئے ہیں اور بے باک ہوکربولتے تھے حالات کے مطابق خطبہ دیتے تھے ،اپنا ہو یاغیر کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے اورتمہید ایسی باندھتے توکہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کس موضوع پر بولیں گے۔

ایک مرتبہ میں نے استاذ محترم سے پوچھا کہ آپ خطبے کی تیاری کیسے کرتے ہیں تو آپ نے کہا کہ

”جب میں گھرسے خطبہ دینے کے لئے نکلتا ہوں تو یہ سوچتاہوں کہ آج ذلیل ہوکر آنا ہے ،لیکن جیسے ہی خطبہ شروع کرتا ہوں الفاظ ملنے لگتے ہیں ”

استاذمحترم کی زبان میں بڑااثر تھا ،لوگ دور دور سے آپ کا خطبہ سننے آتے اور متأثراور مستفید ہوتے ۔
نماز میں جب قراء ت کرتے تو تجوید وترتیل کا پورا پاس ولحاظ رکھتے اور رقت بھرے انداز میں قراء ت کرتے تھے ۔
حافظ ہونے کے وقت سے لے کر چند سالوں پہلے تک ہرسال آپ نے تراویح پڑھائی ہے،جیساکہ استاذمحترم نے خودبتایاکہ:

”شروع میں دوسال مرزاہادی پورہ والی مسجد پرتراویح پڑھائی ہے ،غربت کی وجہ سے مولانا مختارندوی ؒنے پنجاب میں تراویح پڑھانے کے لئے مجھے لگادیا تھا اس کے بعد پھر میں نے آندھراپردیش کے” وجئے واڑہ” شہر میں تراویح پڑھائی ہے تراویح کے علاوہ درس اور خطبہئ جمعہ بھی دیتاتھا وجئے واڑہ کی جس مسجد پر تراویح پڑھاتا تھا وہ پہلے چھوٹی اورخستہ حال تھی میں نے اس کو مولانا مختاراحمدندویؒکے ذریعہ توسیع اور تعمیر کروائی ہے”

اہم تعلیمی و دعوتی کام 

”دعوت و ارشاد کے لئے بھی سفر ہوتارہتا ہے جس میں اکثربہاراورآندھراپردیش کے مختلف مقامات کا سفر ہوتا رہتا ہے ،نیز یوپی کے بعض مقامات اور مؤ کے قرب وجوارمیں دعوت وتبلیغ کے لئے سفر کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،جامع مسجد اہل حدیث اسلام آباد مؤاورمسجد اہل حدیث مدن پورہ مؤکے قیام وتعمیر میںبھی آپ کی کاوشیں قابل قدر ہیں ”   (ماخوذ:سالنامہ تاریخ اہل حدیث ٢٠١٧ء ص:٥٠٦)

جیساکہ اوپر ذکر ہواہے کہ استاذمحترم ؒمولانامختار ندوی ؒ کے پھوپھی زادبھائی تھے اوربہت قریبی رہے ہیںندوی ؒکے زمانے میں پھر ان کے فرزندمولاناارشدمختار محمدی کی طرف سے مساجد کی تعمیرات کی نگرانی ،ان کے اداروں کے تعلیمی اموراورپروگراموں میں شریک رہے ہیں ،اسی طرح سے آپ کے شاگردشیخ عبدالباری مدنی نے بھی تعلیمی امور اورمساجدکی تعمیرات کی نگرانی میں مولاناکوشریک کاربنایاتھا،دونوں مولانا آپ کے مشورہ پرعمل پیرارہتے تھے اور کلی اعتمادبھی رکھتے تھے ،استاذمحترم جامعہ اسلامیہ دریاآباد ،بستی کے رکن تھے اور سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیردریاآباداور مالیگاؤں کادورہ بھی کرتے تھے ۔

اسی طرح جامعہ اسلامیہ فیض عام سے استاذمحترمؒ کی وابستگی روز اول ہی سے انتہائی مخلصانہ ووالہانہ نوعیت کی رہی ہے اور جامعہ کے ہمہ جہتی تعلیمی وتعمیری ترقی میں آپ کی خدمات محتاج تعارف نہیں ہیں،جیساکہ استاذ محترم مولانامحفوظ الرحمن صاحب فیضی نے ”تذکرہ ئ مولانامحمد احمدناظم صاحب ؒ ” میں جامع مسجدفیض عام صدر چوک کی تعمیرکے متعلق لکھا ہے کہ :

”دراصل اس کی صورت یہ ہوئی کہ شوال۱ ١٤٠ھ میں خاکسارمدرسہ کے کام سے دہلی گیا ہواتھا، وہاں کویت سے شیخ ابومعاویہ عبداللہ السبت وغیرہ /حفظہم اللہ تشریف لائے ہوئے تھے مولانا عبدالحمید رحمانی کے یہاں مدعوتھے میں نے مولانا رحمانی سے اجازت لے کر شیخ کو مؤ جامعہ فیض عام کے لئے دعوت نامہ دیا اور پھر زبانی گفتگو بھی کی ،شیخ نے خندہ پیشانی کے ساتھ دعوت منظور فرمائی اور جامعہ تشریف لانے کا وعدہ کیا ،وہ دہلی سے بنارس ،جامعہ سلفیہ تشریف لائے اور وہاں سے محترم ومکرم حافظ مقتدیٰ حسن ازہری کے ہمراہ مؤ تشریف لائے محترم حافظ صاحب نے جامعہ فیض عام اور جامع مسجد فیض عام کو تفصیل سے دکھایااور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جامع مسجد کی تعمیر جدید پربہت زور دیا اور پھر مفتی صاحب کو مشورہ دیا کہ مسجد کا نقشہ اوراسٹیمیٹ کی ایک کاپی شیخ کو دے دیجئے چنانچہ ان کاغذات کی ایک کاپی مؤ ہی میں شیخ کے حوالہ کردی گئی لیکن اس میں ایک ضروری کاغذ کی کمی رہ گئی تھے ،شیخ اسی روز بنارس واپس آکر بمبئی کے لئے روانہ ہوگئے، دوسرے روز محترم دوست مولاناحافظ نثار احمد صاحب فیضی کاغذات کی دوسری مکمل فائل لے کر بمبئی گئے اور حضرت مولاناندوی ہی کے توسط سے شیخ تک ہوٹل پہونچے اور یہ فائل شیخ کے حوالہ کی ”  (ماخوذ:تذکرہ ئ مولانامحمد احمدناظم صاحب جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ،تالیف : مولانامحفوظ الرحمن صاحب فیضی ص:٩٢)

حجازی  لائبریری کا قیا م

ستمبر ٢٠٠١ء میں مرزاہادی پورہ عظیم آباد میں ایک لائبریری کا قیام عمل میں آیا تھااس لائبریری کے محرک استاذ محترم ہی بنے تھے اُس وقت مؤ میں نوجوانان ملت جگہ جگہ کلبوں کا قیام عمل میں لارہے تھے ،استاذ محترم نے جمعہ کے خطبے میں ان کلبوں کی سخت مخالفت کی اور لائبریری کے قیام پر زور دیا ان کے خطبے سے متأثر ہوکر عظیم آباد مؤکے چند غیور طالب علم مولانافوزان انصاری عالی استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ ،مولاناسالم انصاری عالی،مولانا احتشام سلفی ،مولاناخالدممتاز عالی ،مولاناعارف ممتاز عالی ،جناب فیصل صاحب وغیرہ اٹھے اور ”ارم ”لائبریری کا قیام عمل میں آیابعد میں وہ لایبریری وہاں سے منتقل کرکے جامع مسجدعظیم آبادمیں لائی گئی پھر وہاں سے وہ لائبریری حاجی سعود کراؤن کے گودام میں منتقل ہوگئی اور حاجی صاحب کے ناناحاجی ظہیر تابش حجازیؔ کے تخلص پرارم سے بدل کر ”حجازی ”نام رکھا گیا مجھے یاد ہے کہ پھر وہاں سے جب لائبریری جامع مسجد اہل حدیث مرزاہادی پورہ مؤ میں منتقل ہوئی تھی تو قاری صاحب نے خطبہ کے بعد لائبریری سے استفادہ اورترقی کے لئے عوا م الناس کوزوردیاتھا، وہاں سے بھی منتقل ہوکر فی الحال یہ لائبریری جامع مسجد عظیم آباد مؤ میں چل رہی ہے۔

تلامذہ

آپ کے تلامذہ کی ایک کثیر تعداد ہے اور آپ کے شاگرداتنے باصلاحیت اور کامیاب ہوئے کہ آج جماعت کا کوئی قابل ذکر ادارہ ایسانہیں جس میں آپ کے تربیت یافتہ ایک دو فیضی شاگرد مدرس نہ ہوں ،چند مشہور تلامذکا ذکرکردینامناسب معلوم ہوتاہے:

١۔شیخ ڈاکٹرعبدالباری مدنی(پروفیسرجامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض)٢۔شیخ ظفرالحسن فیضی(داعی سعودی عرب )٣۔شیخ مقصود الحسن فیضی(ممبئی)٤۔مولانا محمد مقیم فیضی(سابق نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند)٥۔مولانا ومفتی عبید الرحمن مدنی مؤ(متوفی٢٠٠٦ء) ٦۔مولانا شفیع احمد فیضی(سابق ناظم جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)٧۔مولانا عبدالمنان فیضی ( ناظم جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)٨۔ ڈکٹر لیث محمد مکی(استاذمدرسہ الفاروق اٹوا،ڈومریا گنج)٩۔مولاناشمیم احمد انصارؔ عمری (شیخ الجامعہ جامعہ محمدیہ کھیدوپورہ مؤ)١٠۔مولانااقبال محمدی (سابق ناظم شہری جمعیت اہل حدیث مؤ)١١۔مولاناحفاظت اللہ فیضی، سلفی(جھارکھنڈ)مولانا عزیراحمد فیضی، مدنی(سابق پرنسپل جامعہ اسلامیہ سنابل نئی دہلی) ١٢۔مولاناعبدالحق اثری( محمد پور مغربی چمپارن ،بہار)اس کے علاوہ مؤکے مدارس بالخصوص جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤکے اکثراساتذہ آپ کے شاگردہیں۔

استاذمحترم کی زندگی کے معمولات

آپ بالکل اسلاف کے طرز پر زندگی بسر کرتے تھے ہر چیزمیں اعتدال رکھتے تھے ،حالات کے حساب سے زندگی بسر کرتے تھے مرزاہادی پورہ رکشہ سے صدر چوک جاتے پھر وہاں سے پیدل مدرسہ فیض عام جاتے پھر واپسی بھی رکشہ ہی سے کرتے مرزاہادی پورہ مؤکی جامع مسجدپرآپ امام تھے اسی پر ظہر کی نماز پڑھا کر گھر لوٹتے ،کھاناکھانے کے بعد قیلولہ کرتے پھر عصر کی نماز پڑھا نے کے بعدخوردونوش کے گھریلوسامان خریدتے ،جب تک صحت رہی پاورلوم چلاتے تھے مغرب سے کچھ پہلے مرزاہادی پورہ میں حکیم مصباح الرحمن صاحب اورحکیم سہیل احمد صاحب کی دوکان پربیٹھتے تھے پھر مغرب کی نماز پڑھا کر گھر لوٹ جاتے اور اپنے بیٹھک میں عشاء تک مطالعہ کرتے تھے ،عشاء کی نماز پڑھانے کے بعد سیدھے گھر لوٹ جاتے حدیث پر عمل کرتے ہوئے عشاء کی نماز کے بعد لایعنی باتیں کرتے اور نہ سنتے تھے لیکن علمی گفتگو کرلیا کرتے تھے ،بارہاآپ کے گھرکے پاس سے عشاء کے بعد میرا گزرہواہے اس وقت آپ کے بیٹھک سے آپ کی تلاوت کی آوازسنی ہے۔

رمضان کے مہینہ میں آپ تراویح پڑھانے وجئے واڑہ جاتے تھے تراویح کے ساتھ درس ، جمعہ کے خطبے اور جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ کاچندہ بھی کرتے تھے ۔

تدریسی مدت میں شاید ہی کسی گھنٹی میں اپنے ذاتی کام سے غیر حاضر ہوئے ہوں یاتاخیر سے درس گاہ پہونچے ہوں یہی حال امامت وخطابت میں بھی تھا کہ شاید ہی کبھی نماز پڑھانے یا خطبہ میں غیر حاضر ہوئے ہوں ،اگر مسجد میں یامدرسہ میں نہیں ہیں تو قیاس کیا جاتاکہ سفر پر ہیں۔

وقت کے اس قدر پابند تھے کہ سونے جاگنے ،اٹھنے بیٹھنے ،کھانے پینے ،مسجدپہونچنے درس گاہ میں حاضر ہونے تقریر اورخطبہ وقت پر ختم کرنے میں وقت کا مکمل لحاظ کرتے تھے کسی پروگرام وغیرہ میں پہونچنے میں کبھی ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوئی ،ایک لمحہ آپ ضائع کرنے کے قائل نہیں تھے

وقت برباد کرنے والوں کو
وقت برباد کرکے چھوڑے گا
اس کو حالات ہی نہ چھوڑیں گے
خود کو حالات پرجوچھوڑے گا

حلیہ

لمبا قد ،درمیانہ جسم ،گھنی ڈاڑھی اورچہرہ شرافت کا آئینہ دار تھا،رفتارمیں متانت ،اورگفتگومیںقاری ہونے کی وجہ سے مخارج اور حروف کی ادئیگی کا پورااہتمام کرتے تھے اورکبھی کبھی ضرورت کے تحت بھاری بھرکم جملے استعمال کرتے تھے ،سنجیدہ ،متواضع اور قدرے بذلہ سنج تھے گویاآپ اپنے اسلاف کی بالکل سچی اور عملی تصویر لگتے تھے۔

موسم کے اعتبارسے گرمی میں کاٹن کے عمدہ کپڑے پہنتے اورسردی میں اونی کپڑے پہنتے تھے مدرسہ میں ہوں یامدرسہ سے باہر کرتا،سفیددوپلی کپڑے والی اونچی ٹوپی اورسفیدمدراسی لنگی پہنتے تھے جمعے کے خطبے میں کرتاپائجامہ کالی مخملی اونچی ٹوپی اورصدری یا شیراونی پہنتے تھے۔

زیارت حرمین شریفین

اللہ رب العالمین نے آپ کو تین مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کا موقع نصیب فرمایا دومرتبہ حج بیت اللہ اوریک مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کی پہلی مرتبہ حج کرنے ١٩٩٧ء میں گئے دوسری مرتبہ حج کرنے٢٠١٣ئ؁ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ گئے تھے اور تیسری مرتبہ ٢١٠٧ئ؁ میں عمرہ کرنے گئے تھے ۔

اسفا ر

جیساکہ اوپرتذکرہ ہوچکا ہے کہ آندھراپردیش توہرسال جاتے تھے، پھر وہاں سے مادر علمی کی خاطرچندے کے لئے مختلف شہروں کا سفر کرتے تھے ،اس کے علاوہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی کانفرنسوں میںبحیثیت مقررمدعوکئے جاتے تھے اورجمعیت کی طرف سے ہونے والے مسابقوں میںآپ حکم کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں ،اوراپنے شاگردوں کی دعوت پر بہار، بنگال کے مختلف مقامات پر پروگراموں میںبحیثیت مقرر شریک ہوئے ہیں اور مولانا مختاراحمدندویؒ اورمولاناارشد مختار کی دعوت پر بارہامہارشٹرا اورممبئی وغیرہ کا سفر کئے ہیں اس کے علاوہ،آپ نے ایک مرتبہ تذکرہ کیا کہ پورا ہندوستان گھوم چکاہوں۔ 

       اخلاق وعادات

اخلاق عالیہ وخصائل حمیدہ میں ایک خاص مقام رکھتے تھے ،سب سے خندہ پیشانی سے ملتے ،تبسم ریزی آپ کی علامت تھی مگرجب کسی کوکوئی خلاف شرع کام دیکھتے تووہیں اس کودرست کردیتے اورکیا مجال کی ان کی باتوں کوٹھکرادے اوراپنے شاگردوں پربڑی گہری نظر رکھتے تھے اورہر ایک کی خبر رکھتے تھے ،زمانہئ طالب علمی میںہم لوگوںکو اپنے پچھلے شاگردوں کا حوالہ دے کر سمجھاتے تھے کہ میرا فلاں شاگرداس عہدے پر فائزہوچکا ہے،غریبوں مسکینوں کی مددکیاکرتے تھے ،اگر کوئی بڑاضرورت مندآپ کے پاس آتا تومؤ کے مالداروں سے اس کی مددکروادیتے تھے اور آپ ہی کے ذریعہ مؤ کے ایک مشہورتاجرجوآپ کے بڑے معتقدتھے ان کے انتقال کے بعدان کے ترکہ سے ان کے بیٹوں نے جامع مسجدمرزاہادی پورہ میں فرش وغیرہ لگوایا ہے ،جب فرش لگ رہا تھا توقاری صاحب نے اشارۃ ً ان کا تذکرہ مجھ سے کیا تھا،اللہ تعالیٰ اس تعمیر کے ذریعہ ان کوجنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور تمام مالداروں کو مساجد کی تعمیرمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطافرمائے،آمین۔

    مَنْ بَنیٰ للّٰہِ مَسْجِدًابَنیَ اللّٰہُ لہ، مِثلہ، فی الجنّۃِ

    ”جو شخص مسجد کی تعمیر کرے گااللہ تعالیٰ اس کے لئے ویسا ہی محل جنت میں تعمیر کریں گے”    صحیح بخاری(٤٥٠)کتاب الصلوٰۃ:با ب من بنی مسجدًا۔۔۔صحیح مسلم (٢٤)

تقویٰ،پرہیزگاری ،شریعت کی پابندی ،مہمان نوازی ،ملنساری آپ کی پہچان تھی اور اپنے عالمانہ وفاضلانہ شان کی وجہ سے لوگوں میںبڑی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ،ہرکوئی ان کا احترام کرتااور ان سے تعلق رکھتا تھا،یہی حال آپ کا وجئے واڑہ میں بھی تھا ہرسال تراویح کے لئے بلائے جاتے تھے ،چندسالوں سے تروایح کی امامت وہاں چھوڑ دینے کے باؤجودبھی خطبہئ جمعہ اوروعظ وتذکیر کے لئے بلائے جاتے تھے کچھ دن وہاں رہ کر واپس آجاتے تھے ۔

اپنے شاگردوں سے بہت محبت رکھتے تھے کبھی کبھی بیرونی طلبہ کو اپنے گھربلاکر ضیافت کرتے تھے اور مؤکا مشہوردعوتی کھانا”نان، گوشت اورچاول ”کھلاتے تھے۔

آپ جب نومبر کے مہینہ میں کھیری باغ ”نورہاسپیٹل” میں جب زیر علاج تھے تو عیادت کرنے والوں کا تانتالگارہتا تھا یہاں تک وہاںکا ڈاکٹرحیران ہوکر کہنے لگاکہ :”میں آپ کو اپنے ہاسپیٹل میں نہیں رکھوں گا یاگیٹ پرتالالگادوں گاآخرآپ ہیں کون ؟کہ کیمرے سے دیکھ رہاہوں آپ کی وجہ سے میرے ہاسپیٹل میںہمیشہ بھیڑجمع رہتی ہے”

نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سوبار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

علالت اور وفات

آپ کئی سالوں سے شوگر کے مریض تھے ،پچھلے سالوں سے دن بدن صحت گرتی گئی اس کے باؤجود تدریسی اوردعوتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، بالکل کمزور ی کی وجہ سے مدرسہ اور مسجد جانابند ہوگیاتھا گھر ہی پے رہتے تھے ماہ نومبرمیں بنارس کے ایک ہاسپیٹل میں کچھ دن زیرعلاج رہے پھرمؤکے نورہاسپیٹل کھیری باغ میں علاج چلتارہا،کچھ طبیعت سنبھلنے پر گھر پے لائے گئے ،مسجد میںخودسے چل کر جمعہ پڑھنے آجایاکرتے تھے،اوپر جیساکہ مذکور ہواہے کہ وفات سے آٹھ دن پہلے مدرسہ بھی گئے تھے اورناظم صاحب سے پڑھانے کی خواہش بھی ظاہرکی تھی٢٥/فروری ٢٠٢٠ئ؁ منگل کی شام کو طبیعت کی گرانی کے باعث آپ کوفاطمہ ہاسپیٹل مؤمیںانتہائی نگہداشت والے شعبہ میں ایڈمیٹ کرایاگیا بالآخر٢٦/فروری ٢٠٢٠ئ؁بروزبدھ موافق یکم رجب ١٤٤١ھ؁فاطمہ ہاسپیٹل مؤمیںآپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔ ”ِانا للّٰہِ واِناَّ اِلیْہِ رَاجِعُوْنَ”

وفات کی خبر شہر مؤاور ہندوستان کے جماعتی حلقوں میں پھیل گئی کہ علم وعمل کا آفتاب غروب ہوگیا،انتقال کی خبر ملتے ہی عوام وخواص کا سیل رواں آپ کے مکان کی جانب امنڈپڑااور نمناک آنکھوں سے آپ کا آخری دیدار کیا ۔
اسی دن آپ کے رفیق درس استاذمحترم مولانامحفوظ الرحمن صاحب فیضی /حفظہ اللہ( سابق شیخ الحدیث وشیخ الجامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ)نے بعد نمازعشاء ٩ /بجے نمازجنازہ پڑھائی مرزاہادی پورہ(محمود چکی والے کے گھرکے پاس)قبرستان میں آپ کو سپرد لحد کیا گیا۔

مؤکے مدارس کے اساتذہ اورطلباء کی ایک کثیر تعداد تھی آپ کی جدائی کے صدمے سے آنکھیں اشک بار تھیں کہ آج ہماراروحانی باپ نہیں رہا،معروف علمی شخصیات ذمہ داران مدارس اور عمائدین شہرنے اپنے دلی رنج وغم کا اظہار کیا۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلہ، وَارْحَمْہ، وَعَافِہٖ وَاعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہ، وَوَسِّعَ مُدْخَلَہ، وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَأَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذابِ النَّارِ

ازواج و اولاد

استاذ محترم کی پہلی شادی ڈومن پورہ حبہ مؤمیںاستاذ محترم مولانامظہر اعظمی( استاذجامعہ عالیہ عربیہ مؤ) کی بہن سے ہوئی تھی،پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعداستاذمحترم کی دوسری شادی محلہ کیاری ٹولہ میںفرید ہ خاتون بنت شمس الحق (بڑک ہوٹل والے)سے ہوئی تھی جو مولانا محمداعظمی /حفظہ اللہ (سابق شیخ الحدیث وشیخ الجامعہ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)کی بھانجی اورمیری والدہ محترمہ کی پھوپھی زاد بہن ہیں اس حیثیت سے استاذ محترم ؒ میرے خالو تھے ۔
اولاد:پہلی والی اہلیہ سے ایک بیٹااظہار ضیاء اور بیٹی شاہدہ خاتون ہیں ۔

دوسری والی اہلیہ سے چاربیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں:نازمین ،یاسمین ،ندیم ضیائ،زینت پروین اور نوشادہ پروین ہیں۔
استاذ محترم سے ایک مرتبہ اولاد سے متعلق استفسار کرنے پر بتایا تھا کہ :”میری دونوں اہلیہ سے کل چودہ اولادہیں دوبیٹے اور پانچ بیٹیاں ماشاء اللہ باحیات اور شادی شدہ ہیں اور بقیہ بچپن میں انتقال کرگئے”مزید یہ بھی کہا کہ :”اگر سب باحیات ہوتے تو کہاں رہتے ”اس پرمیں نے کہاقاری صاحب اگر سب باحیات ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان سب کا انتظام کرتا ،اس پر قاری صاحب مسکرانے لگے اوراپنے بچوں کی تعریف کرنے لگے

ایک مرتبہ قاری صاحب کی عیادت کے لئے گیا تھا تو وہیں پر ندیم سلمہ، جومیرے ہم عمر ہیں بیٹھے ہوئے تھے توقاری صاحب نے کہا کہ:”یہ میرا چھوٹا بیٹاہے جب سے میں بیمار رہتاہوں میری خدمت کرتا ہے اور میری جگہ ساراکام کرتاہے اورمجھے اب کوئی فکر نہیں ہے”۔

استاذ محترم کے نام ونسب میں تین پشتوں تک حافظ لگا ہوا ہے قاری صاحب کے بیٹوں میں تو کوئی حافظ یا عالم نہیں ہوامگر قاری صاحب کی دو بیٹیاں اورتین بھتیجیاں( کلیہ فاطمۃ الزہراء اسلامیہ مؤ)سے عالمہ فاضلہ ہیں،چاربھتیجے (جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)سے عالم فاضل اور ایک حافظ ہیں۔

اس کے علاوہ قاری صاحب کو لے کر بھائیوں کی تعداد پانچ ہے ١۔محمد اسماعیل رحمہ اللہ ٢۔محمدیعقوب (مؤذن جامع مسجد مرزاہادی پورہ مؤ)٣۔حافظ قاری نثار فیضی رحمہ اللہ ٤۔محمد اسحاق ٥۔محمداسرائیل۔

استاذ محترم کے علاوہ آپ کے بھائی حافظ یا عالم فاضل تو نہیں ہیں مگردینداری اوراخلاق وکردار کے حامل ہیں۔

استاذمحترم نےاپنے لائق وفائق شاگردوں کا ایک بابرکت سلسلہ چھوڑا ہے جو رہتی دنیا تک آپ کے حق میں بہتری ”حسنات جاریہ ”ثابت ہوں گے ،ان شاء اللہ

استاذمحترم سے میرے روابط

اوپر جیساکہ تذکرہ ہواہے کہ میرے خالواور ماموں کے ہم سبق اور بڑے گہرے دوست تھے خوشی اور غمی میں استاذ محترم ضرورآتے تھے دعوت کے موقع پر بڑی عزت واکرام سے بیٹھائے جاتے تھے ساتھ میں شیخ محفوظ الرحمن صاحب فیضی بھی ہواکرتے تھے ان سب کے لئے کبھی خالہ کے گھراورکبھی ماموں کے گھر شادی کے موقع پر خالہ زاد بھائیوں کو خاطرداری کاحکم دیا جاتاتھا اور غمی کے موقع پر بھی دیکھتا کہ دونوں مولاناصبر کی تلقین کررہے ہیںبہت بعد میں پتہ چلاکہ دونوں اساتذہئ کرام دونوں کے ہم سبق اور دوست ہیں،زمانہئ طالب علمی میں جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤکے اساتذہ ئ کرام بالخصوص مولانامحفوظ الرحمن صاحب فیضی کے صحیح بخاری اور استاذمحترم ؒکے صحیح مسلم پڑھانے کا چرچاسنتا تھابالآخر جامعہ اسلامیہ فیض عام میںآخری سال دورہ ئ حدیث میں داخلہ لیااوردونوں شیخین سے صحیحین پڑھنے کی سعادت حاصل کی اوردونوں اساتذہ کے مبارک ہاتوں سے سرپردستارِفضیلت رکھی گئی ،فراغت کے بعد جب پہلی ملاقات استاذمحترم ؒ سے ہوئی تو پوچھا کہ اب کیا کرہے ہو؟میں نے کہا :حفظ کررہاہوں اوربی۔اے بھی کررہاہوں حفظ پر توبہت خوش ہوئے اوربی۔اے کوکہاکہ :”ٹھیک ہے لیکن طب پڑھناچاہیئے عالم بننے کے بعدپہلے لوگ طب پڑھا کرتے تھے اورحفظ کرنے کے متعلق مشورہ دیا کہ ایک آیت کا دوسرے آیت سے ربط یاد رکھناچاہیئے’ ‘

اسی زمانۂ طالب علمی سے میراربط رہا ہے،جب تک میں گھر رہا آپ ہی کا خطبہئ جمعہ سنتاتھااور آپ کی قراء ت سننے کے لئے آپ کے پیچھے نمازپڑھتا تھا ،جب کبھی مجھے جمعہ کاخطبہ دینا ہوتا تھا توپہلے پوراخطبہ لکھتا تھا ،کس بات کو کس انداز میں بولا جاناچاہیئے اور کیساجملہ استعمال کرنا چاہیئے آپ بتاتے تھے، یہاں تک کہ لکھتے لکھتے پوری ایک کتاب ٥٠٠صفحات پرمشتمل ”خطباب خطیب ”کے نام سے ٢٠١٥ئ؁میںہندوستان کے معروف مکتبہ” ا لفہیم” مؤسے چھپ گئی اور یہ کتاب اب تک تین مرتبہ طبع ہوچکی ہے طباعت سے پہلے آخری مرحلہ میں بھی قاری صاحبؒ کومیں نے روزانہ مغرب بعد ایک ایک خطبہ پڑھ کرسنایاہے اور قاری صاحب ؒنے اپناقیمتی وقت نکال کر اس کی اصلاح کی ہے، استاذ محترم نے اس کتاب کے چند نسخے مؤ کے ایک تاجر کے انتقال پر ان کے لڑکے سے صدقہئ جاریہ بھی کروائی تھی۔

جب سے میں باہر رہتا ہوں بذریعہ موبائل خیر خیرت لیتارہاہوں چھٹیوںمیں ضرورآپ سے کبھی مسجد پر ،کبھی مدرسہ میںاور کبھی گھر پرملاقات کرتا تھا اور رمضان آنے لگتا تو نہ پوچھئے کئی بار پوچھتے تراویح کہاں پڑھاناہے دَور کتنی بار ہواجب تروایح پڑھا کرلوٹتا تھا توکچھ ہدیہ آپ کے لئے بھی لے لیتا تھا آپ ہدیہ سے زیادہ تراویح پڑھانے پر خوشی کااظہار کرتے تھے اورہمیشہ کہتے رہتے تھے تراویح پڑھاناکبھی مت چھوڑناورنہ قرآن بھول جائے گا !!
نومبر میں ششماہی تعطیل میں جب میں گھرپرآیاتھا تو نورہاسپیٹل اور پھر جب گھر لائے گئے تھے توآپ کے گھر پرآپ کی عیادت کے لئے گیا تھا،چارپائی پرلیٹے ہوئے تھے علیک سلیک خیرخیریت کے بعداپنے ابتدائی وقت کے نامساعد حالات ،باہرترایح پڑھانے کی وجہ اورموجودہ وقت کے حالات،مدارس کے حالات اور کچھ علماء اور اپنے شاگردوں کی کامیابی کا تذکرہ کررہے تھے اوربات کرتے کرتے رونے لگتے تھے واپسی پر مجھے تعلیم وتعلم میں محنت کرنے کی نصیحت کے ساتھ دعا کرنے کو کہا ۔

حادثات وواقعات

 استاذ محترم کی زندگی میں کئی ایک حادثات وواقعات پیش آئے ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ کا تذکرہ کردیا جائے:

۱۔آپ جب بیمار تھے تو آپ کی عیادت کے لئے گیا تھا جس کمرے میں تھے تو بتایاکہ:”یہ میرے پرداداکے زمانے کا مکان ہے پہلے بالکل کچا تھا یہاں بھینس باندھی جاتی تھی میرے پر داداکے زمانے میں ایک شخص نے اس گھر کواپنے قبضہ میں لینے کے لئے دعویٰ کردیا اور کہا کہ اگرمیں جھوٹا ہوں تو میں اپنی زندگی میں اندھا ہوجاؤں لوگوں نے دیکھا کہ وہ جھوٹامدعی اندھا ہوگیا”۔

٢۔ایک مرتبہ استاذ محترم نے بتایاکہ :”جب میں مدرسہ عالیہ جمال پورہ میں پڑھ رہاتھاتو ایک طالب علم سے میراجھگڑاہوگیا میرے ایک استاذ رحمہ اللہ جو بڑے گرم مزاج تھے دیکھ لیا وہیںسے ایک لوہے کی سریہ چلادی میں وہاں سے ہٹ گیا ورنہ کیا ہوتا۔۔۔”

٣۔مرزاہادی پورہ والی مسجدپر ایک مشہورشعلہ بیاں مقررکوخطبہئ جمعہ پڑھانے کاموقع ملا اس مقرر صاحب نے دوران خطبہ کوئی حدیث غلط پڑھی استاذ محترم نے خطبہ کے بعداس حدیث کی تصحیح کردی عوام الناس کو یہ بات پسند نہ آئی اور آپ کے مخالف ہوگئی حنفی مسلک کے لوگوںنے کسی طرح استاذمحترم ؒ کو ان کے گھر تک پہونچایا،اگلے دن پھرکچھ لوگ استاذ محترم کے خلاف مدرسہ فض عام پہونچی، چنانچہ وہاں کے اساتذہئ کرام استاذ محترم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے مخالفین کو وہاں سے بھاگنا پڑا،اس موقع سے مسلک احناف کے لوگ استاذ محترم ؒسے کہنے لگے کہ اب آپ ہماری مسجد کے امام وخطیب بن جایئے، استاذ محترم پکے سلفی المسلک تھے اس لئے غیرسلفی مسلک کو کیسے برداشت کرسکتے!!

٤۔ابھی چند سالوں پہلے ایک شعلہ بیاں مقررنے ۔۔۔بات کہہ دی کسی نے اس چیز کے سوال کا جواب طلب کرنے کے لئے ایک لیٹر کی شکل میںآپ کی دالان میںپھینک دیا،استاذمحترم ؒ نے اسی کوخطبہ ئ جمعہ کا موضوع بنایا اور کہاکہ:”جواب مجھ سے کیوں طلب کیا جارہا ہے جس کودو گھنٹے کا چار ہزراروپیہ دیاگیا اسی سے جواب طلب کیا جاناچاہیئے میں نے بھی جواب دینے کے لئے گھنٹوں تیاری کی ہے مجھے کیا ملے گا”اس کے بعداستاذمحترم ؒ نے تمام سوالوں کے جوابات اسی خطبہ ئجمعہ میں دے دیا۔

٥۔استاذمحترمؒ کے ہی ایک شاگردنکاح کرتے پھر طلاق دیتے ،پھردوسرا نکاح کرتے پھر طلاق دیتے اتفاق سے آں موصوف کا ایک نکاح استاذ محترمؒ کو پڑھانے کا موقع مل گیا،نکاح پڑھایااور نکاح کے بعد مجمع ہی میں سخت پھٹکار لگائی تاکہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے،مگر آں موصوف اپنی عادت سے کہاں باز آنے والے۔

٦۔ہم لوگوں کے زمانہئ طالب علمی میں جامعہ اسلامیہ فیض عام کی مسجدنئے سرے سے تعمیر ہورہی تھی اسی سے متصل جس میں اب بھی دورہئ حدیث والوں کی پڑھائی ہورہی ہے اس کابھی کچھ حصہ ٹوٹا ہواتھااور ہم لوگوں کے کلاس میں طلبہ کی تعدادتقریباً سوہو نے کی وجہ سے بیٹھنے میں تنگی ہوتی تھی استاذ محترم ؒکی گھنٹی میں ایک طالب کھڑا رہتا پھر بیٹھ جاتا ایک دن کچھ دیر تک ہی کھڑارہااستاذمحترم ؒ نے اس طالب علم سے کھڑے رہنے کی وجہ پوچھی تو کہا کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے ،استاذمحترم ؒ نے ایساجملہ استعمال کیاکہ پھر دوبارہ اس کوکھڑے رہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی ۔

٧۔استاذ محترم ؒنے بتایاکہ :”ایک مرتبہ مولانا مختارندویؒ اور میں ممبئی میں ایک سیٹھ صاحب کے گھر کھانے کی دعوت پر مدعو ہوئے طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر لگائے گئے ،ہم لوگوں سے کہاکہ کھاناشروع کیجئے میرا کھاناابھی آئے گا ،تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ ”ساگ ”کی سبزی لائی گئی ہے ،دیکھ کر میں نے افسوس کا اظہار کیااور سوچنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح امیروں کا کھانا چھین لےتاہے ”۔

٨۔٢٠١٧ئ؁ میں جب آندھرا پردیش سے آئے توبتانے لگے کہ:”چنئی کی ایک بڑی مسجد میں چندہ کے لئے گیا تووہاں ایک مشہور عالم دین معتکف تھے میں نے ان سے سلام کیا تو پتہ نہیں جواب دیا یا نہیں ،پھر جب میں کچھ اور کہنا چاہا توانہوں نے اپنی انگلی کے اشارہ سے مجھے بولنے سے روک دیا ،ایسالگتا تھا کہ اس مولاناکے نزدیک بحالت اعتکاف بات چیت کرنا حرام ہے پھر میں مسجد سے نکل کر واپس ہوگیا”۔
جولوگ استاذ محترمؒ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قاری صاحب سادہ مزاج اللہ والے شخص تھے بات جب کرتے تھے توحدیث نبویؐ” وَلَوْأَنْ تَلْقَی أَخاکَ بوجہٍ طلقٍ ” پر عمل کرتے ہوئے مسکراکربات چیت کرتے تھے مگر کبھی کبھی بات کی مناسبت سے مثالیں فٹ کردیا کردیتے تھے اورکبھی مزاقاًشرعی حدود کا پاس ولحاظ رکھ کرکوئی بات کہہ دیا کرتے تھے ۔

ایک مرتبہ عیدکے موقع پر میرااپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آپ کے گھرکے پاس سے گزرہواآپ نے دیکھ لیا اور کہنے لگے آپ لوگ بیٹھئے تاکہ ضیافت کروں ہم لوگوںمعذرت ظاہرکردی۔۔۔ تو استاذمحترم ؒ نے کہا کہ:”کبھی کبھی آنکھ بند کرکے گناہ کرلیا جاتا ہے”

ایک مرتبہ ہم سے جونئیر طالب علم نے بتایا کہ: ”کلاس میں استاذ محترم سے بکرے کے ایک عضو کے کھانے کے بارے میں طلبہ نے سوال کردیئے تواستاذمحترم ؒ نے کہا کہ:”ساؤتھ میں تو اسی سے معززلوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے ”۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے واقعات ہیں جن کو لکھنا مناسب نہیں معلوم ہوتاہے ۔
استاذمحترم کا بعض مسائل میں رجوع:اوپر ذکر ہوا ہے کہ جامع مسجد مرزاہادی پورہ پرجب سے جمعہ قائم ہوا ہے استاذمحترم اس وقت سے اخیر عمر تک خطیب رہے ہیںیہ مسجد مولانامختارندوی ؒکے ذریعہ تعمیر ہوئی ہے ،مسجد کافی وسیع ہونے کی وجہ سے خطیب کے لئے خطبہئ جمعہ دینے کے لئے اونچی جگہ بنی ہوئی ہے ،اس کے اوپرلکڑی کامنبررکھا ہوتا تھااورخطیب کو پیچھے سے گھوم کرمنبرپرجاناہوتاتھا،ایک مرتبہ استاذ محترم کے ہونہارشاگردشیخ ڈاکٹر عبدالباری مدنی /حفظہ اللہ کو اس مسجد پرخطبہئ جمعہ دینے کا اتفاق ہواتو اس مسجد کے منبرکے متعلق،خطبہئ جمعہ میں خطیب کو عصالینے اور جمعہ کی اذان کہاں سے ہونی چاہیئے وغیرہ مسائل کی وضاحت کی تو اس کے بعداستاذمحترم نے کئی مرتبہ منبر کو نیچے اوپرکرایا بالآخر نیچے ہی رکھوادیااور اب علیٰ حالہٖ ایسے ہی برقرار ہے اورخطیب سامنے سے منبر پرچڑھ جاتاہے،ایک خطبہئ جمعہ میں استاذمحترمؒ نے” عصا”کو موضوع بنایااور اس کے متعلق وضاحت کرکے عصالیناچھوڑ دیا،رہی بات اذان کہ توشیخ محترم حفظہُ اللہ کے خطبہ کے بعدسے اب تک جمعہ کی اذان مسجد کے ہال والے دروازے کے پاس ہورہی ہے ،اس مسئلہ پر میں نے استاذمحترم سے بات چیت کی تومسکراکر خاموشی اختیارلیئے،اس پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

رہی بات استاذمحترم ؒ کے تحریر کی جب میںنے خطبات خطیب پر تاثرات لکھنے کی گزارش کی توکہنے لگے کہ :”لکھنا مجھے بڑابھاری لگتا ہے اور میں نے کچھ لکھا نہیں ہے ”استاذمحترم کی تحریر کاا ندازہ آپ کی خود نوشت سوانح حیات سے لگایا جاسکتاہے جیساکہ اس مضمون میں جگہ جگہ اس سے اقتباس لیا گیا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے استاذ، قرآن کے حافظ ، قرآن کے قاری ، قرآن وسنت کے عالم باعمل کی گناہوں کو معاف فرمائے،ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے ،ان کی مغفرت فرمائے،ان کی قبرکو نور سے بھر دے ، ان کی تدریسی خدمات کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے ،ان کے پسمانگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔آمین ،ثم آمین

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ أَجْمَعِیْن

Leave a Comment