سہیل اختر – شاعری و فنی خصوصیات

جو تجھ کو سوچوں تو روشن نئے نئے امکان

یہ ہے سہیل اختر کے ایک خوبصورت شعر کا خوبصورت مصرع، جو حمدیہ اور مدحیہ پیرائے میں شاعر کی جانب سے بارگاہ الہی میں پیش کردہ قلبی عقیدت و محبت کا مظہر تو ہے ہی ساتھ ہی ساتھ شاعر کی سخن گوئی میں اس کے فکری و فنی شعور اور اس کی امکانی وسعتوں سے بحث و گفتگو کرنے کی بھی دعوت دے رہا ہے ۔

سہیل اختر کی شخصیت ان کے شاعری کے تناظر میں بحیثیت ایک خوددار، حساس مسلح قوم فرد کے نظر آتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہر قسم کے کے رومانی خیالات و تصورات سے ورے حقیقت نگاری کے میدان کو ہی اپنی شاعری کا ترجیحی معیار بنایا ہے، اور وقت کے سلگتے مسائل کو بطور خصوصی اپنا موضوع سخن بنانے کی حتی امکان کوشش کی ہے۔

سہیل اختر کی شاعری جو کہ غزل گوئی پر مشتمل ہے جہاں فکری اعتبار سے ایک الگ اور منفرد انداز کی حامل ہے وہیں وہی اس کی فنی خصوصیات اور اس کا تنوع بھی ہے۔

سہیل کی شاعری میں تلمیحاتی عناصر

تلمیحات جو کہ اردو فنِ شاعری کا ایک حسن اور اس کا ایک خاص وصف ہے جس کے ضمن میں تاریخ کے کسی اہم واقعہ کو نہایت اختصار کے ساتھ جامع مفہوم سے مزین الفاظ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اس وصف کی ایک عمدہ جھلک سہیل اختر کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے اس کی تائید میں بطور نمونہ یہ چند اشعار کافی ہیں۔

اگر کرے وہ حفاظت تو کیا کسی کی مجال
سہیل کافی ہے مکڑی کا ایک جالا بھی

کہف کے غار سے اب نکلے کون؟
ہے خبر دورِ ستم ہے اب تک

کعبۂ دل کو بچا لے یا رب
پھر ابابیل کا لشکر چا ہتا ہوں

جیسا کہ ظاہر ہے پہلے شعر میں واقعۂ ہجرت کی طرف اشارہ ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بغرض حفاظت ایک غار میں جاچھپے تو اس وقت مکڑی نے غار کے دہانے پر جالے تن دیئے تھے۔

دوسرے شعر میں اصحابہ کہف کے واقعے کی طرف اشارہ ہے، جو اس وقت کے ظالم حکمراں کے خوف سے ایک غار میں جا چھپے تھے، اس کا تفصیلی بیان قرآن کے سورہ کہف میں مذکور ہے۔

تیسرے شعر میں اشارہ ابرہہ کے لشکر کی تباہی کی طرف ہے، جب کہ اس نے کعبہ کو منہدم کرنے کے ارادے سے حملہ کیا تھا لیکن بقضائے الٰہی وہ اپنے مقصد میں ناکام و نامراد ہو کر واپس ہوا۔

سہیل اختر کی شاعری میں تلمیحات کی خوبصورتی یہ ہے کہ انہوں نے واقعات کو اپنے شعر میں بطور استدلال استعمال کیا ہے۔

اقتباسات

سہیل اختر کے یہاں ایک فنی خوبی یہ ہے کہ ان کی شاعری میں قرآن کریم سے مستفاد مفہوم کا اقتباس بھی ملتا ہے جیسے انہوں نے نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے اشعار میں ضم کیا ہے چندا اشعار دیکھیں

ہم سے بے کاروں کا مصرف بھی یقیناً ہوگا
کب جہاں اس نے یہ بیکار بنا رکھا ہے

اس شعر میں قرآن کریم کی درج ذیل آیت کے مفہوم کو ضم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ترجمہ:
ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے محض کھیل اور تماشہ کرتے ہوئے نہیں بنایا ہے بلکہ ہم نے انہیں حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو اس کا علم نہیں رکھتے۔

دسترس میں تو ہماری رکھی ہر شئی اس نے
صرف حالات کو دشوار بنا رکھا ہے

اس شعر کا مفہوم اس آیت کریمہ سے مستفاد ہے

ترجمہ:
آسمانوں اور زمین کی ہر شے کو اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے بیشک ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں اس میں معرفت حقیقی کی نشانیاں ہیں

مافی ضمیر، جذبات و احساسات کی ترسیل کے لئے الفاظ کی قدر و قیمت مسلم ہے لیکن محض تف بندی یا لفاظی مفید نہیں جب تک کی اس کے ساتھ حسنِ معنی کا امتزاج نہ ہو، سہیل اختر کا نظریہ شاعری بھی یہی ہے کہ صرف الفاظ کو تہہ دار کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ احساسات و جذبات کے اظہار کے لئے مناسب اور برمحل الفاظ کا انتخاب ہو جو مقصودِ معنی سے پورے پورے ہم آہنگ ہوں چنانچہ فرماتے ہیں

یہ شاعری بھی اسیرِ طلسمِ لفظ رہی
جہانِ معنی سے آتی کوئی صدا ہی نہیں

وہ کرب معانی نہ کر سکے محسوس
گو زخم زخم پہ لفظوں کے تبصرے بھی ہوئے

کیسے مدعا کہیئے
لفظ جب ہوں بے معنی

موصوف اپنے منفرد نظریہ شاعری کے حوالے سے اپنے لیے ایک الگ راہ متعین کرتے ہیں جو ہر قسم کی روایات سے آزاد ہے ، روایات کی رو میں بہہ جانا موصوف کی نظر میں کوئی قابل ستائش قدم نہیں ہے، کہتے ہیں

اپنا ہی فکر ہوں اپنا ہی معیار ہوں
کب فرسودہ فن کی سند میں رہتا ہوں

لہو سے میں نے کیا زعفران کشتِ فن
کہ شاید اب نہ رہے تشنگی کہیں بھی کوئی

جہاں تک سہیل اختر کی شاعری میں ان کے فکری مزاج اور خصوصیات کا سوال ہے تو اس کا بھی جائزہ لئے چلتے ہیں موصوف کی شاعری میں ان کی فکری رجحانات کی تشکیل میں سب سے نمایاں رول ہے خود داری اور خود اعتمادی کا، اور یہ ایک ایسا وصف ہے جو ہر حقیقت پسند شاعر کا طرہ امتیاز ہے، چنانچہ موصوف زندگی کے ہر شعبے میں اس صفت سے متصف نظر آتے ہیں، اپنے مخاطب کو بھی خود داری اور خود اعتمادی سے متصف ہو کر زندگی گزارنے کی تعلیم دیتے ہیں، اور یہی وصف انہیں اظہار حق کی جرات پر پوری طرح ابھارتا ہے، میری اس رائے کی درستگی کے لیے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں

ایک ضرورت نے طلبگار بنا رکھا ہے
اس پہ غیرت نے بھی خود دار بنا رکھا ہے

ضرورت گر پڑی پیروں پہ خودداری کے کیا کیجئے
انا کے در سے اُٹھ جاؤں یہ گردن خم نہ ہو جائے

ضرورت مند ہے اپنی انا کو مار ڈالے گا
حقارت سے وہ اک پھینکا ہوا سکہ اٹھا لے گا

اگرچہ فطرتا ہوں پھول کی پتی سے نازک تر
وہی میں وقت پڑ جائے تو پھر تلوار ہوتا ہوں

یہ ایک فلک ہے جو ظالم، پرندے کیسا غم؟
ابھی اڑان کو باقی ہیں آسمان بہت

بہت حساس شیشے کی طرح اک دل تو رکھتے ہیں
مگر ہر عزم ہم نے صورتِ فولاد رکھا ہے

ہے تو ننھا سا دیا پھر بھی یہ جرأت کی ہے
ظلمتوں میں بھی اجالے کی حمایت کی ہے

سہیل ایک حساس دل رکھتے ہیں، ایک حساس طبیعت و فطرت کا مالک شاعر اپنے موجودہ ماحول اور گردونواح کے احوال و کوائف سے چشم پوشی نہیں کر سکتا، بلکہ اس کی حساس فطرت بجذبۂ صادق اپنے مخاطب کو وقت کے مسائل سے روشناس کراتی ہے۔ 

چنانچہ سہیل حالات پر گہری نگاہ رکھتے ہوئے انسانیت کے لیے سمِ قاتل کی حیثیت رکھنے والے افکار و عوامل سے آگاہ کرتے ہیں اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھاتے ہیں ۔ 

چند اشعار دیکھیں

بھلے لوگوں کو تم اتنا ستاؤ مت جہاں والو
کہیں ان کے بھی اندر کی حلاوت سم نہ ہو جائے

ایک ہی جیسی ہیں خون ریزی کی تفصیل تمام
اب پڑھا کرتے ہیں ہم سرخئی اخبار فقط

کس خطا پر جلا ہے گھر اس کا
اب یہ معصوم کو بتائے کون؟

یہی تو کہہ گیا وہ جل کے مرنے والا بھی
اب اعتبار کے قابل نہیں اجالا بھی

سہیل کی شاعری میں غمِ جاناں کا بھی ایک انوکھا اور منفرد تصور دیکھنے کو ملے گا ۔۔۔۔ جہاں ہجر کی الجھنوں کا شکوہ بھی ملتا ہے اور وصل کی شدید خواہش کا اظہار بھی۔۔۔

کہاں کہاں نہ کی اس پیکرِ صدا کی تلاش
بس ایک وہم کسی نے ہمیں پکارا تھا

وہ اس کے نرم ہتھیلی ہماری آنکھوں پر
وہ آئے چپکے سے ایسے کہ کچھ خبر بھی نہ ہو

لیکن کیفیت ہزار بار برو صد ہزار بار بیا  کی سی نہیں ہے بلکہ۔۔۔

تجھ سے ملنے کی تمنا تو بہت تھی لیکن
ہم ہیں خود راہ کی دیوار کسے کیا کہیئے

اور وہ راہ کی دیوار ہے شاعر کی خودداری، یعنی محبت بھی خودداری کے حدود میں، وہ اس طرح۔۔۔کہ

تجھ کو چاہا مگر ہے پوجا کب؟
اس انا نے کیا ہے سجدہ کب؟

چاہا ہے جس قدر تجھے چاہے گا کیا کوئی
لیکن خدا معاف، پرستش کبھی نہ کی

اور شاعر کے اس عمل کا ردعمل بھی سن لیجئے۔۔۔

اور کیا فرق یہاں آئے گا جانے سے تیرے
اپنے معمول کے اوقات بدل سکتے ہیں

یقین تو آئے گا پر دیر ہوچکی ہوگی
جو میرے ہونے سے تجھ کو ہے اشتباہ ابھی

لیکن محرومیت کا شکوہ بھی ہے۔۔

دل کسی چیز سے لگتا ہے کہاں جب وہ نہ ہو
خود کو مصروف وہ آئے تو دکھانا تھا یوں ہی

یہ رات بھیگ چلی چاند دل سا ٹوٹ گیا
ٹپک پڑیں نہ ستارے بھی اشکِ تر کی طرح

گلہ نہیں کہ مجھے چاہتی ملیں ہی نہیں
مگر ازل سے جو اندر ہے پیاس باقی ہے

ہر ائے زخم کا گن کر حساب رکھا ہے
تیرا دیا ہوا اک اک گلاب رکھا ہے

سہیل کی شاعری میں معنوی تجدد کی بھی کثرت ہے اور یہ معنوی تجدد اوج تخیل سے پوری طرح مربوط نظر آتا ہے، اشعار کی معنویت میں تجدد اور انوکھا پن شاعری کی سب سے بڑی خوبی تصور کی جاتی ہے۔

چند اشعار ملاحظہ ہوں

کھلتے ہیں مجھ سے کیسے اب اسرار روح کے
میں بھی تو کھو گیا تھا بدن کی تراش میں 

اکیلا کیوں نہ چاند لگے جمگھٹے کے باوجود
کہ انجمن بغیر حرفِ نون دے دیا اسے

میں چاہتا ہوں تمنا بھی ہو ضرورت بھر
نہ پیر تک بھی ہو چادر تو فائدہ کیا ہے

پوچننے سے بھی نہ ہو موم تو غم مت کرنا
سنگ دل دنیا میں پتھر کے صنم ہوں گے ہی

ڈوب کر اک تو سہاروں کا بھرم بھی کھل گیا
دوسرے گہرائی کا ہم کو بھی اندازہ ہوا

سہیل اختر کا نسلی اور قومی یا کسی بھی طرح کی گروہ بندی کے سخت خلاف نظر آتے ہیں، ان کی نظر میں کسی بھی مذہب کا پیروکار ، علمبردار اپنے مذہب کا سچا پاسدار نہیں ہے، جیسا کہ ہونا چاہیے۔ مثلا آج کے مسلمانوں کا ہی جائزہ لیجیے، انہوں نے اپنی زندگی کے ہر شعبے سے اسلامی تعلیمات کو بے دخل کر رکھا ہے اکثر و بیشتر لوگ اسلامی روح سے بالکل نا آشنا ہو چکے ہیں اسلام سے کوئی تعلق ہے بھی تو وہ صرف ظاہری حد تک، ریاکاری اور نعرہ بازی کو ہی انہوں نے اصل اسلام سمجھ رکھا ہے، دوسری طرف کچھ دھرم کے علمبردار ایسے بھی ہیں جو دھرم کے نام پر تشدد قتل خونریزی کو ہی سچی دھارمک سیوا تصور کرنے لگے ہیں۔ 

سہیل اختر صاحب کہتے ہیں

ادھر اسلام بھی تکبیر والا
اُدھر ترشولی مذہب بولتا ہے

سہیل اختر کی شاعری میں کسی بھی نسلی ملکی اور مذہبی گروہ بندی کے بجائے ایک دوسرے کی عزت و تکریم اور human dignity کا بہترین تصور ملتا ہے، ان کی نظر میں نسل اور قوم کے بجائے صرف اور صرف انسانیت ہی عزت و تکریم کا معیار ہے۔

موصوف کی شاعری میں ملکی مذہبی گروہ بندی کے لئے رنگ اور انسانیت کے لیے خوشبو کا لفظ بطور علامت و استعارہ استعمال ہوا ہے، یہاں موصوف کی فکری و فنی دونوں ہی خوبیوں کا امتزاج دکھائی دے رہا ہے۔

شعر ملاحظہ ہو

عقیدہ بھی مرا خوشبو ہے اور مسلک بھی
مری نگاہ نے رنگوں کا کب طواف کیا

میں نے رنگوں کی حکومت سے بغاوت کی ہے
جرم تسلیم ہے خوشبو سے محبت کی ہے

الغرض موصوف کے شاعری کی فنی و فکری خوبیوں کا کیا شمار کریں، کیونکہ۔۔۔

بس اک ذرا سا جھلکتا ہے اپنے شعروں میں
مگر در اصل جو اختر ہے وہ ہے کوئی اور

اور حقیقت بھی یہی ہے، یہ فنکار کے فنِ شاعری کا ایک مختصر اور اجمالی جائزہ ہے، اور اگر ان کی مختلف النوع خوبیوں پر بہ تفصیل گفتگو کی جائے تو طوالت سے بچنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

جو تجھ کو لکھوں تو کاغذ بھی جیسے پھیلتا ہے

 

 

 

Leave a Comment